تاریخی اصغر مال کالج میں تعلیمی میوزیم کا قیام، وفاقی وزیر کا اعلان
اسلام آباد: وفاقی وزیر برائے قومی ورثہ و ثقافت اورنگزیب خان کھچی نے ملک کے تعلیمی اور ثقافتی ورثے کے تحفظ کے لیے حکومت کے عزم کا اعادہ کرتے ہوئے ایک اہم پیش رفت کا اعلان کیا ہے۔ انہوں نے بتایا کہ تاریخی گورنمنٹ گریجویٹ کالج اصغر مال راولپنڈی میں محکمہ آثار قدیمہ و عجائب گھر اور کالج انتظامیہ کے مشترکہ تعاون سے ایک خصوصی تعلیمی میوزیم قائم کیا جائے گا۔
مفاہمتی یادداشت پر دستخط
یہ اعلان محکمہ آثار قدیمہ و عجائب گھر، قومی ورثہ و ثقافت ڈویژن، حکومت پاکستان اور گورنمنٹ گریجویٹ کالج اصغر مال کے درمیان مفاہمتی یادداشت (ایم او یو) پر دستخط کی تقریب کے موقع پر کیا گیا۔ وفاقی وزیر اورنگزیب خان کھچی نے بطور مہمان خصوصی تقریب میں شرکت کی اور اس معاہدے کو ملک کے اہم تعلیمی ورثے کے تحفظ کی جانب ایک اہم پیش رفت قرار دیا۔
وفاقی وزیر کا خطاب
تقریب سے خطاب کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ حکومت کالج انتظامیہ کے ساتھ مل کر ایک جدید میوزیم قائم کرے گی جو تعلیم، تحقیق اور ورثہ آگہی کا مرکز بنے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ ہم مل کر میوزیم اور ورثہ جاتی تعلیم کی ایک اکیڈمی قائم کریں گے اور اصغر مال کالج کے قیمتی تاریخی ورثے کو آئندہ نسلوں کے لیے محفوظ بنائیں گے۔ وفاقی وزیر نے اس بات پر زور دیا کہ تاریخی پس منظر رکھنے والے تعلیمی اداروں کو صرف درسگاہوں کے طور پر نہیں بلکہ قومی تاریخ اور ثقافتی شناخت کے امین اداروں کے طور پر بھی محفوظ رکھا جانا چاہیے۔
معاہدے کے اہم نکات
مفاہمتی یادداشت کے تحت دونوں ادارے طلبہ میں ثقافتی، تاریخی اور آثار قدیمہ کے ورثے سے متعلق آگہی کو فروغ دینے کے لیے مشترکہ طور پر کام کریں گے۔ معاہدے میں میوزیالوجی اور تحفظ آثار کے شعبوں میں طلبہ کو علمی اور عملی تربیت فراہم کرنے کے علاوہ ماہرین کے لیکچرز، سیمینارز، ورکشاپس، عجائب گھروں اور آثار قدیمہ کے مقامات کے مطالعاتی دوروں، انٹرن شپ پروگرامز اور تحقیقی مواقع کی فراہمی بھی شامل ہے۔
میوزیم کا دائرہ کار
مجوزہ میوزیم میں گورنمنٹ گریجویٹ کالج اصغر مال کی تاریخ، فن تعمیر، تعلیمی روایات اور نمایاں خدمات کی عکاسی کرنے والی نوادرات، یادگاری اشیاء، تاریخی دستاویزات، تصاویر اور دیگر اہم مواد کو محفوظ کیا جائے گا۔ محکمہ آثار قدیمہ و عجائب گھر میوزیم کے قیام اور انتظام کے لیے فنی معاونت اور رہنمائی فراہم کرے گا جبکہ کالج انتظامیہ مناسب جگہ مختص کرنے اور میوزیم سے متعلق سرگرمیوں کے انعقاد میں تعاون کرے گی۔
ڈائریکٹر جنرل کے خیالات
ڈائریکٹر جنرل محکمہ آثار قدیمہ و عجائب گھر امان اللہ خان نے اس اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ یہ کالج کو ورثہ جاتی تعلیم اور عوامی آگہی کے ایک مثالی ادارے میں تبدیل کرنے میں مددگار ثابت ہوگا۔ انہوں نے امید ظاہر کی کہ یہ میوزیم طلبہ، محققین اور عوام کے لیے ایک اہم تعلیمی و تحقیقی مرکز بنے گا اور نئی نسل کو پاکستان کے بھرپور ثقافتی ورثے کی قدر و حفاظت کی ترغیب دے گا۔
پانچ سالہ ابتدائی مدت کے لیے طے پانے والی یہ مفاہمتی یادداشت تاریخی اثاثوں کے تحفظ، ورثہ جاتی تعلیم کے فروغ اور پاکستان کے ثقافتی ورثے کے بارے میں عوامی شعور کو مضبوط بنانے کے لیے دونوں اداروں کے مشترکہ عزم کی عکاس ہے۔
