مصدق ملک کی ہسپانوی سفیر سے ملاقات، موسمیاتی تبدیلی
اسلام آباد (اے پی پی) وفاقی وزیر برائے موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی ڈاکٹر مصدق ملک نے پاکستان میں سپین کے سفیر کارلوس آراگون سے ملاقات کی جس میں علاقائی اور عالمی امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔ ملاقات میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات، بدلتی ہوئی جغرافیائی سیاسی صورتحال، توانائی کے تحفظ اور پائیدار ترقی کے شعبوں میں دوطرفہ تعاون کے امکانات پر خصوصی توجہ دی گئی۔
سندھ طاس معاہدے پر تشویش کا اظہار
ترجمان وزارت موسمیاتی تبدیلی کے مطابق، گفتگو کے دوران سندھ طاس معاہدے اور حالیہ جغرافیائی سیاسی پیشرفت کے وسیع تر اثرات پر بھی بات چیت ہوئی۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے اس خدشے کا اظہار کیا کہ عالمی نظام بتدریج کثیرالجہتی سے یکطرفہ طرزِ عمل کی طرف بڑھتا دکھائی دے رہا ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ اگر سندھ طاس معاہدے جیسے دیرینہ بین الاقوامی معاہدے کو یکطرفہ طور پر معطل یا غیر مؤثر بنایا جاتا ہے تو یہ بین الاقوامی معاہدوں کے تقدس اور قواعد پر مبنی عالمی نظام کے بارے میں سنگین سوالات پیدا کرتا ہے۔
موسمیاتی تبدیلی اور پاکستان میں سیلاب
وفاقی وزیر نے پاکستان میں حالیہ سیلابوں سے ہونے والی تباہ کاریوں کا ذکر کرتے ہوئے موسمیاتی تبدیلی کے اثرات پر روشنی ڈالی۔ انہوں نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کے باعث موسمیاتی پیٹرنز میں نمایاں تبدیلی آئی ہے جس سے غیر یقینی صورتحال میں اضافہ ہوا ہے۔ ڈاکٹر مصدق ملک نے مستقبل کے خطرات اور نقصانات کو کم کرنے کے لیے پیشگی تیاری اور احتیاطی اقدامات کو مزید مؤثر بنانے کی ضرورت پر زور دیا۔
توانائی کا تحفظ اور سبز توانائی کا فروغ
ملاقات میں توانائی کے تحفظ اور قابلِ تجدید توانائی کے عالمی رجحانات پر بھی تفصیلی گفتگو ہوئی۔ جاری جغرافیائی سیاسی کشیدگی اور توانائی کی عالمی منڈیوں پر اس کے اثرات کے تناظر میں، دونوں جانب سے شمسی اور ہوائی توانائی سمیت سبز توانائی کے ذرائع کی جانب تیزی سے منتقلی کی اہمیت پر زور دیا گیا۔ اس بات پر اتفاق کیا گیا کہ حالیہ عالمی پیشرفت نے یورپ سمیت متعدد خطوں کی روایتی توانائی پر انحصار اور اس سے پیدا ہونے والی کمزوریوں کو نمایاں کیا ہے، جس سے متنوع اور پائیدار توانائی کے نظام کی ضرورت مزید بڑھ گئی ہے۔
پاکستان کے نئے ماحولیاتی اقدامات: گرین یونیورسٹی اور گرین فیلڈز
ڈاکٹر مصدق ملک نے سپین کے سفیر کو وزارت موسمیاتی تبدیلی و ماحولیاتی ہم آہنگی کے زیرِ غور دو اہم اقدامات، "گرین یونیورسٹی” اور "گرین فیلڈز” کے بارے میں بریفنگ دی۔ گرین یونیورسٹی کا مقصد موسمیاتی تعلیم، تحقیق اور جدت کو فروغ دینا ہے، جبکہ گرین فیلڈز اقدام کا ہدف ماحول دوست کاروباری منصوبوں پر کام کرنے والے نوجوانوں کو قومی اور بین الاقوامی سرمایہ کاروں اور مواقع سے منسلک کرنا ہے تاکہ پائیدار کاروباری سرگرمیوں کو فروغ دیا جا سکے۔ اس موقع پر دونوں جانب سے ان اقدامات کے حوالے سے تعاون، تجربات کے تبادلے اور استعداد کار بڑھانے کے مختلف امکانات پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ہسپانوی سفیر کے گلگت بلتستان کے تاثرات
اس موقع پر سپین کے سفیر نے گلگت بلتستان کے اپنے حالیہ دورے کے تاثرات بھی شیئر کیے اور علاقے کے قدرتی حسن، ثقافتی تنوع اور مقامی لوگوں کی مہمان نوازی کو سراہا۔
سرکاری معلومات کے لیے وزارت موسمیاتی تبدیلی سے رجوع کیا جا سکتا ہے۔
