پاکستان کی معیشت کے خاموش محرک: طلبہ کا کردار
جب بھی پاکستان کی معیشت پر بات ہوتی ہے، ہماری نگاہیں عادتاً بڑے صنعت کاروں، سٹاک مارکیٹ کے تاجروں، یا بیرون ملک محنت کش پاکستانیوں پر جم جاتی ہیں۔ ہم بجٹ خسارے، قرضوں کی واپسی، اور مہنگائی کی شرحوں کے اعداد و شمار کے پیچھے دوڑتے رہتے ہیں۔ لیکن اس دوڑ میں ہم ایک ایسا طاقتور، متحرک، اور پھر بھی نظرانداز کیا جانے والا معاشی ستون بھول جاتے ہیں جو آج نہیں تو کل پاکستان کی معیشت کی لکیر بدل سکتا ہے۔
وہ ستون ہے طلبہ کا طبقہ۔
حکومتی رپورٹوں میں طلبہ کو اکثر "مستقبل کا اثاثہ” کہہ کر پیش کیا جاتا ہے، گویا وہ آج صرف اسکول کی بینچوں تک محدود ہیں اور کل جا کر معیشت میں حصہ ڈالیں گے۔ یہ سوچ ایک بہت بڑی غلط فہمی ہے۔ حقیقت یہ ہے کہ پاکستان کا اوسط طالب علم آج بھی، اپنی موجودہ حیثیت میں، ایک معاشی ایجنٹ ہے۔ وہ خرچ کرتا ہے، کماتا ہے، جدت پیدا کرتا ہے، اور لاکھوں خاندانوں کی آمدنی کا ذریعہ بنتا ہے۔
یہ رپورٹ اسی "پوشیدہ معیشت” کی کہانی ہے۔
طلبہ کی قوتِ خرید: چھوٹی سی جیب، بڑی گردش
پاکستان میں اعلیٰ تعلیم کے اداروں میں 65 لاکھ سے زائد طلبہ زیرِ تعلیم ہیں۔ اسکولوں اور کالجوں کو شامل کر لیں تو یہ تعداد کروڑوں میں پہنچ جاتی ہے۔ اب سوچئے کہ ہر طالب علم روزانہ اوسطاً 100 سے 200 روپے ٹرانسپورٹ، کھانے پینے، اور اسٹیشنری پر خرچ کرتا ہے۔
یہ وہی روپے ہیں جو قریبی ڈھابے، فوٹو سٹیٹ کی دکان، پان شاپ، اور بس اسٹینڈ پر لگنے والی ریڑھی کو روزگار دیتے ہیں۔ پنجاب یونیورسٹی کے باہر چائے کے ڈھابے والے سے بات کیجیے تو وہ بتائے گا کہ اس کی ماہانہ آمدنی کا 70 فیصد طلبہ سے آتا ہے۔ جامشورو یا پشاور یونیورسٹی کے آس پاس کی پرانی کتابوں کی مارکیٹ طلبہ کی وجہ سے زندہ ہے۔
اسے "ہوسٹل اکانومی” کہتے ہیں۔ جب ایک طالب علم 5,000 روپے ماہانہ خرچ کرتا ہے تو یہ روپے گردش میں آ کر کم از کم پانچ مختلف چھوٹے تاجروں تک پہنچتے ہیں۔ مجموعی طور پر دیکھا جائے تو پاکستان کے طلبہ ماہانہ 30 سے 40 ارب روپے کی غیر رسمی معیشت (informal economy) کو چلاتے ہیں۔ یہ وہ پیسہ ہے جو بینک اکاؤنٹ میں نظر نہیں آتا، لیکن جس کے بغیر لاکھوں خاندانوں کی روٹی رک جائے۔
فری لانسنگ اور ڈیجیٹل جنگجو: طلبہ کی اصل کمائی
روایتی سوچ یہ تھی کہ طالب علم آمدنی کے لیے باہر نکلتا ہے تو یا ٹیوشن پڑھاتا ہے یا چھوٹی موٹی نوکری کرتا ہے۔ لیکن انٹرنیٹ کی آمد نے یہ صورت بدل دی ہے۔
پاکستان دنیا بھر میں فری لانسنگ کے حوالے سے چوتھے نمبر پر ہے، اور اس انقلاب کے سپاہی وہی نوجوان طلبہ ہیں۔ کراچی کے ایک نجی یونیورسٹی کے شعبہ کمپیوٹر سائنس کا طالب علم دوپہر کو کلاس میں بیٹھتا ہے اور رات کو امریکہ کے ایک کلائنٹ کے لیے ویب سائٹ بنا کر 500 ڈالر ماہانہ کما رہا ہے۔ لاہور کی ایک طالبہ انگریزی کے مضامین لکھ کر قطر اور دبئی کے کلائنٹس کو سروس فراہم کر رہی ہے۔
یہ طلبہ نہ صرف اپنی فیس اور کتابوں کے پیسے نکال رہے ہیں بلکہ اپنے خاندانوں پر بوجھ بھی کم کر رہے ہیں۔ اگر ان ڈالرز کا مجموعہ لگایا جائے تو پاکستان کے طلبہ فری لانسنگ کے ذریعے سالانہ 200 سے 300 ملین ڈالر کا زرمبادلہ (foreign exchange) ملک میں لا رہے ہیں۔ یہ رقم کسی برآمدی زون یا فیکٹری سے کم نہیں۔
ٹیکنالوجی کا سب سے بڑا صارف طلبہ ہی ہے
پاکستان میں موبائل انٹرنیٹ اور سمارٹ فون کی مانگ کس نے بڑھائی؟ کوئی کارپوریٹ دفتر؟ نہیں، بلکہ وہ طالب علم جسے آن لائن لیکچر دیکھنا ہے، جسے ای لائبریری استعمال کرنی ہے، اور جسے یوٹیوب سے نوٹس ڈاؤن لوڈ کرنے ہیں۔
ٹیلی کام کمپنیاں جانتی ہیں کہ سب سے زیادہ ڈیٹا استعمال کرنے والی کلاس طلبہ کی ہے۔ چھوٹی موبائل کمپنیاں طلبہ کے لیے خصوصی پیکیجز لاتی ہیں۔ یہ طلبہ ہی ہیں جن کی وجہ سے پاکستان میں 130 ملین سے زائد براڈبینڈ صارفین موجود ہیں۔ اگر طلبہ انٹرنیٹ استعمال کرنا چھوڑ دیں تو آدھی سے زیادہ ٹیلی کام انڈسٹری ٹھپ ہو جائے۔
اسی طرح گرین ٹیکنالوجی اور سٹارٹ اپ کلچر کو دیکھ لیجیے۔ پاکستان کے ٹیک سٹارٹ اپس کے بانی، انکیوبیشن سینٹرز کے ممبر، اور کاروباری مقابلے جیتنے والے نوجوان زیادہ تر طلبہ ہی ہوتے ہیں۔ یہ وہ لوگ ہیں جو تعلیم کے ساتھ ساتھ ای کامرس کی ویب سائٹ بنا رہے ہیں، چھوٹے کاروبار شروع کر رہے ہیں، اور روزگار پیدا کر رہے ہیں۔
طلبہ اور خاندانی معیشت: ایک بوجھ سے اثاثہ تک
پاکستانی متوسط اور زیریں طبقے کے گھرانے میں طالب علم کو اکثر "خرچہ” سمجھا جاتا ہے۔ لیکن اعداد و شمار بتاتے ہیں کہ زیادہ تر طلبہ (خاص طور پر پرائیویٹ یونیورسٹیوں میں) ڈیٹا انٹری، کال سینٹرز، ریٹیل شاپس، اور ٹیوشن سینٹرز میں پارٹ ٹائم کام کرتے ہیں۔
ایک سروے کے مطابق پنجاب کے بڑے شہروں میں 45 فیصد یونیورسٹی طلبہ اپنی فیس کا کچھ حصہ خود کماتے ہیں۔ سندھ کے دیہی علاقوں میں طلبہ فصلوں کی کٹائی، دودھ کی فروخت، یا چھوٹی دکانوں پر مدد کر کے خاندانی آمدنی میں حصہ ڈالتے ہیں۔
یہاں ایک دلچسپ پہلو یہ بھی ہے کہ تعلیم یافتہ طالب علم خاندان کو بہتر مالی فیصلے کرنے میں مدد دیتا ہے۔ وہ والدین کو بتاتا ہے کہ بچت کہاں کرنی ہے، کون سا انشورنس لینا ہے، اور کون سے تعاون پر قرض لینا نقصان دہ ہے۔ یہ "فنانشل لٹریسی” کا وہ عنصر ہے جسے کوئی چارٹ نہیں ناپ سکتا۔
معاشی چیلنجز: بے روزگاری اور مہنگائی کے درمیان طالب علم
یہ کہانی اتنی سنہری نہیں جتنی لگتی ہے۔ پاکستان میں معاشی بدحالی نے طلبہ کو بھی گھیر لیا ہے۔ مہنگائی نے تعلیم کی لاگت اتنی بڑھا دی ہے کہ بہت سے قابل طلبہ اپنی فیس نہیں بھر پاتے۔ بے روزگاری نے طلبہ کے حوصلے توڑ دیے ہیں کہ "پڑھ کر کیا کرنا؟ نوکری تو ملنی نہیں۔”
اس کے علاوہ برین ڈرین (دماغی فرار) نے بھی طلبہ کو متاثر کیا ہے۔ پاکستان کے بہترین طلبہ گلف یا مغربی ممالک کا رخ کر رہے ہیں، جہاں ان کی تعلیم اور صلاحیتوں کی قدر کی جاتی ہے۔ یوں پاکستان کا اربوں روپے کا لگایا ہوا تعلیمی سرمایہ دوسرے ممالک کو جا رہا ہے۔
طلبہ کی قوت کو کیسے استعمال کیا جائے؟
اگر حکومت واقعی چاہے تو طلبہ کو ایک معاشی اثاثہ بنا سکتی ہے۔ اس کے لیے ضروری ہے:
- طلبہ کے لیے قرضے اور انکیوبیشن سینٹرز: جہاں وہ اپنا کاروبار شروع کر سکیں۔
- پارٹ ٹائم ایمپلائمنٹ کی پالیسیاں: یونیورسٹیوں کو کمپنیوں سے لنک کرنا تاکہ طلبہ پڑھتے پڑھتے تجربہ حاصل کر سکیں۔
- فری لانسنگ کو فروغ: سستی انٹرنیٹ اور ڈیجیٹل سکلز کی مفت تعلیم۔
کل کے مالک، آج کے محرک
طلبہ پاکستان کی معیشت کا مستقبل ہی نہیں، بلکہ اس کا حال ہیں۔ وہ آج بھی چھوٹے کاروبار چلا رہے ہیں، آن لائن ڈالر کما رہے ہیں، اور گھر کی آمدنی میں حصہ ڈال رہے ہیں۔ انہیں صرف پہچان کی ضرورت ہے۔
ہم نے ہمیشہ کہا کہ طلبہ قوم کا مستقبل ہیں، لیکن شاید اب وقت آ گیا ہے کہ ہم یہ بھی تسلیم کریں: طلبہ قوم کا حال بھی ہیں۔ ان کی جیبوں سے نکلنے والے روپے ہی لاکھوں ڈھابوں، دکانوں، اور آن لائن پلیٹ فارمز کو چلا رہے ہیں۔
اگر پاکستان کو اپنی معیشت سنبھالنی ہے تو اسے پہلے اپنے طلبہ کی قدر کرنی ہوگی، بطور صارف، بطور کمانے والے، اور بطور تبدیلی کے معمار کے۔
خبر رساں ادارے کی رائے: یہ رپورٹ ڈاسٹ نیوز کی ادارتی ٹیم نے نہ صرف اعداد و شمار کی روشنی میں بلکہ ملک بھر کی یونیورسٹیوں کے طلبہ سے گفتگو کر کے تیار کی ہے۔ طلبہ کا معاشی کردار تسلیم کرنے کا وقت آ گیا ہے۔
