پاکستان میں نوجوان اور امید کا سفر
لاہور / اسلام آباد: شام کے وقت لاہور کی ایک گلی میں نوجوان لڑکا علی اپنے دوستوں کے ساتھ بیٹھا مستقبل کے خوابوں پر بات کر رہا ہے۔ کسی کے ہاتھ میں چائے کا کپ ہے، کسی کے پاس موبائل، اور سب کے دل میں ایک ہی سوال — کیا ہمارے خواب پورے ہوں گے؟
یہ سوال صرف علی کا نہیں، بلکہ پاکستان کے کروڑوں نوجوانوں کا ہے۔ یہ رپورٹ ان خوابوں، مشکلات اور امیدوں کی کہانی ہے جو آج کے نوجوان اپنے دل میں لیے چل رہے ہیں۔
باب اول: نوجوان آبادی — ایک طاقت یا امتحان؟
پاکستان دنیا کے ان چند ممالک میں شامل ہے جہاں 60 فیصد سے زیادہ آبادی نوجوانوں پر مشتمل ہے۔ یہ ایک طاقت بھی ہے اور ایک امتحان بھی۔
اعداد و شمار کے مطابق، ملک میں ہر سال تقریباً 20 لاکھ نوجوان یونیورسٹیوں سے فارغ التحصیل ہوتے ہیں، مگر ان میں سے صرف 40 فیصد کو روزگار ملتا ہے۔ باقی یا تو بے روزگار رہ جاتے ہیں یا بیرونِ ملک جانے کے خواب دیکھتے ہیں۔
کراچی کے ایک نوجوان، حمزہ، کہتا ہے:
"میں نے انجینئرنگ کی ڈگری لی، مگر دو سال سے نوکری نہیں ملی۔ اب سوچتا ہوں کہ شاید قسمت کہیں اور لے جائے۔”
یہ جملہ پاکستان کے ہزاروں نوجوانوں کی زبان پر ہے۔
باب دوم: تعلیم اور مہارت — خوابوں کی بنیاد
پاکستان میں تعلیم کا نظام نوجوانوں کو خواب تو دیتا ہے، مگر اکثر ان خوابوں کو حقیقت میں بدلنے کے لیے مہارت نہیں دیتا۔
یونیورسٹیوں میں نظریاتی تعلیم تو دی جاتی ہے، مگر عملی تربیت کی کمی ہے۔ نتیجہ یہ کہ نوجوان ڈگریاں تو حاصل کر لیتے ہیں، مگر مارکیٹ کی ضرورتوں سے ناواقف رہتے ہیں۔
اسلام آباد کی ایک طالبہ، فاطمہ، کہتی ہے:
"ہمیں بتایا جاتا ہے کہ تعلیم سب کچھ ہے، مگر جب نوکری کے لیے جاتے ہیں تو کہتے ہیں تجربہ چاہیے۔”
یہ تضاد نوجوانوں کے اعتماد کو کمزور کرتا ہے۔
باب سوم: بے روزگاری اور ہجرت
پاکستان میں نوجوانوں کی بے روزگاری کی شرح 11.3٪ ہے، جو جنوبی ایشیا میں سب سے زیادہ ہے۔ اس کے نتیجے میں ہر سال ہزاروں نوجوان بیرونِ ملک جا رہے ہیں۔
دبئی، قطر، اور سعودی عرب میں پاکستانی نوجوان مزدوری سے لے کر آئی ٹی تک ہر شعبے میں کام کر رہے ہیں۔ مگر ان کے دل میں ایک خواہش ہے — کاش ہم اپنے ملک میں کچھ کر سکتے۔
باب چہارم: امید کے چراغ
پھر بھی، یہ کہانی صرف مایوسی کی نہیں۔ پاکستان کے نوجوانوں میں تخلیقی صلاحیت اور جذبہ بے مثال ہے۔
- اسٹارٹ اپ کلچر: لاہور، کراچی اور اسلام آباد میں نوجوانوں کے اسٹارٹ اپس تیزی سے بڑھ رہے ہیں۔
- ڈیجیٹل فری لانسنگ: پاکستان دنیا میں فری لانسنگ کے لحاظ سے چوتھے نمبر پر ہے۔
- سماجی خدمت: ہزاروں نوجوان فلاحی تنظیموں میں کام کر رہے ہیں، تعلیم، صحت اور ماحول کے لیے۔
یہ وہ پہلو ہے جو بتاتا ہے کہ امید ابھی زندہ ہے۔
باب پنجم: خواتین نوجوان — تبدیلی کی علامت
پاکستان کی نوجوان خواتین اب صرف گھروں تک محدود نہیں۔ وہ سیاست، تعلیم، کاروبار، اور میڈیا میں نمایاں کردار ادا کر رہی ہیں۔
کراچی کی ایک نوجوان خاتون، زینب، نے اپنا آن لائن بزنس شروع کیا۔ وہ کہتی ہیں:
"میں نے سوچا کہ اگر موقع نہیں ملتا، تو خود موقع بنانا چاہیے۔”
یہ جملہ آج کی پاکستانی لڑکیوں کی سوچ کی نمائندگی کرتا ہے۔
باب ششم: حکومت اور پالیسی
حکومت نے نوجوانوں کے لیے کئی پروگرام شروع کیے ہیں، جیسے کامیاب جوان پروگرام، نیشنل یوتھ کونسل، اور اسکل ڈیولپمنٹ اسکیمز۔
مگر ان پروگراموں کی کامیابی اس وقت ممکن ہے جب ان پر عملدرآمد شفاف اور مستقل ہو۔ نوجوانوں کو صرف وعدے نہیں، بلکہ مواقع چاہئیں۔
نتیجہ
پاکستان کے نوجوان خواب دیکھتے ہیں، جدوجہد کرتے ہیں، اور کبھی کبھی مایوس بھی ہوتے ہیں۔ مگر ان کے دل میں امید کا چراغ جلتا رہتا ہے۔
یہ چراغ اس وقت روشن ہوگا جب تعلیم عملی ہوگی، روزگار منصفانہ ہوگا، اور پالیسیوں میں نوجوانوں کی آواز شامل ہوگی۔
پاکستان کا مستقبل انہی نوجوانوں کے ہاتھ میں ہے — جو آج چائے کے کپ کے ساتھ خواب دیکھ رہے ہیں، اور کل ان خوابوں کو حقیقت میں بدل دیں گے۔

