نو ذوالحجہ: یومِ عرفہ
نو ذوالحجہ: عرفات کی وادی، رحمت کا دن اور انسان کی واپسی کا لمحہ
عرفات کی وادی میں توبہ، دعا اور رحمت کا وہ عظیم دن جب انسان اپنی کمزوریوں کے ساتھ ربِ کریم کے حضور کھڑا ہوتا ہے اور مغفرت کی امید زندگی کا نیا راستہ بن جاتی ہے۔
خصوصی فیچر رپورٹ: دوست نیوز
نو ذوالحجہ اسلامی سال کا وہ دن ہے جس کے سامنے زمانہ ٹھہر سا جاتا ہے۔ یہ محض ایک تاریخ نہیں، ایک کیفیت ہے؛ محض ایک عبادت کا نام نہیں، بندگی کی انتہا کا منظر ہے؛ محض حج کا ایک رکن نہیں، انسان اور اس کے رب کے درمیان اس ازلی تعلق کی یاد دہانی ہے جس میں بندہ اپنی کمزوری، اپنی خطا، اپنی امید، اپنی ندامت اور اپنی دعا لے کر اللہ کے حضور کھڑا ہو جاتا ہے۔ اس دن کا نام یومِ عرفہ ہے۔ عرفات کی وادی میں لاکھوں انسان ایک ہی لباس، ایک ہی صدا، ایک ہی قبلہ، ایک ہی رب اور ایک ہی امید کے ساتھ جمع ہوتے ہیں۔ کوئی بادشاہ نہیں رہتا، کوئی فقیر نہیں رہتا، کوئی رنگ، نسل، زبان، منصب، دولت یا شہرت نہیں رہتی؛ رہ جاتا ہے تو صرف انسان، اس کا دل، اس کے آنسو اور اس کے رب کی رحمت۔
اسلامی تاریخ میں نو ذوالحجہ کو غیر معمولی مقام حاصل ہے، کیونکہ یہی وہ دن ہے جب حج اپنے عروج کو پہنچتا ہے۔ نبی کریم ﷺ نے حج کے اصل مرکز کو ایک جامع جملے میں بیان فرمایا: “حج عرفہ ہے۔” جامع ترمذی میں روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے عرفات میں لوگوں کے سوال کے جواب میں اعلان کروایا کہ حج عرفہ ہے؛ یعنی جو عرفات کی حاضری سے محروم رہ گیا، وہ حج کے اصل جوہر سے محروم رہ گیا۔ (Sunnah.com) یہی وجہ ہے کہ عرفات میں وقوف کو حج کا دل کہا جاتا ہے۔ خانہ کعبہ سے محبت، طواف کی لذت، صفا و مروہ کی سعی، منیٰ کی راتیں، مزدلفہ کی خاموشی، قربانی کی سنت—سب اپنی جگہ عظیم ہیں، مگر عرفات وہ مقام ہے جہاں حج کی روح بندے کے سینے میں اترتی ہے۔
عرفات مکہ مکرمہ کے جنوب مشرق میں واقع وہ مقدس میدان ہے جہاں حاجی نو ذوالحجہ کو جمع ہوتے ہیں۔ جدید جغرافیائی بیان کے مطابق جبلِ رحمت اور میدانِ عرفات مکہ سے تقریباً 20 کلو میٹر، یعنی قریب 12 میل، جنوب مشرق میں واقع ہے۔ (AP News) لیکن عرفات کی اصل پہچان اس کا جغرافیہ نہیں، اس کا روحانی منظر ہے۔ وہاں زمین پر انسانوں کا سمندر ہوتا ہے، مگر آسمان کی طرف اٹھے ہوئے ہاتھ اس بات کی گواہی دیتے ہیں کہ انسان کی آخری پناہ نہ زمین ہے، نہ اقتدار، نہ مال، نہ عقل، نہ طاقت؛ انسان کی آخری پناہ صرف اللہ ہے۔
یہ دن اس لیے بھی عظیم ہے کہ اس میں انسان کو اپنی حقیقت یاد آتی ہے۔ احرام کے دو سفید کپڑے صرف لباس نہیں، زندگی کا سب سے بڑا سبق ہیں۔ حاجی جب عرفات میں کھڑا ہوتا ہے تو گویا دنیا کے سارے نام، سارے عہدے، ساری پہچانیں، سارے فرق، سارے غرور اتار دیتا ہے۔ سفید لباس کفن کی یاد دلاتا ہے؛ عرفات کا اجتماع میدانِ محشر کی یاد دلاتا ہے؛ دعاؤں کی لرزش قیامت کے سوال کی یاد دلاتی ہے؛ اور اللہ کی رحمت بندے کو امید دلاتی ہے کہ ابھی دروازہ بند نہیں ہوا، ابھی توبہ ممکن ہے، ابھی دل پلٹ سکتا ہے، ابھی آنسو قبول ہو سکتے ہیں۔
قرآن مجید میں سورۃ المائدہ کی آیت 3 میں دین کی تکمیل کا اعلان آیا: “آج میں نے تمہارے لیے تمہارا دین مکمل کر دیا، تم پر اپنی نعمت پوری کر دی، اور تمہارے لیے اسلام کو دین کے طور پر پسند کر لیا۔” مستند اسلامی روایات کے مطابق یہ آیت حجۃ الوداع کے موقع پر یومِ عرفہ میں نازل ہوئی، اور اسی دن نے امت کو یہ پیغام دیا کہ اسلام محض چند رسوم کا نام نہیں، بلکہ زندگی کا مکمل نظام، اخلاق کا کامل معیار، عبادت کا پاکیزہ راستہ، معاشرے کی عدل پر مبنی تعمیر اور انسان کی روحانی نجات کا راستہ ہے۔ (Islamic Relief UK) یہ آیت جب ایک مسلمان کے دل میں اترتی ہے تو اسے احساس ہوتا ہے کہ نو ذوالحجہ صرف مغفرت کا دن نہیں، دین کی تکمیل کی یاد کا دن بھی ہے؛ یہ شکر کا دن بھی ہے، عہد کا دن بھی، اور اپنے اسلام کو دوبارہ سنجیدگی سے سمجھنے کا دن بھی۔
یومِ عرفہ کی سب سے بڑی شان اللہ تعالیٰ کی رحمت کا وہ اعلان ہے جو احادیث میں آیا ہے۔ حضرت عائشہ رضی اللہ عنہا سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا کہ کوئی دن ایسا نہیں جس میں اللہ تعالیٰ عرفہ کے دن سے زیادہ بندوں کو جہنم سے آزاد فرماتا ہو۔ (Sunnah.com) یہ جملہ ایک مسلمان کے دل پر بجلی کی طرح بھی گرتا ہے اور بارش کی طرح بھی برستا ہے۔ بجلی کی طرح اس لیے کہ جہنم سے آزادی کا ذکر انسان کو اپنے انجام کی فکر میں مبتلا کرتا ہے؛ بارش کی طرح اس لیے کہ رحمت کا دروازہ اتنا وسیع ہے کہ گنہگار بندہ بھی امید چھوڑنے پر مجبور نہیں ہوتا۔ یومِ عرفہ انسان کو یہ نہیں کہتا کہ تم بہت پاک ہو؛ یہ کہتا ہے کہ تم ٹوٹے ہوئے ہو تو آؤ، گرے ہوئے ہو تو آؤ، تھکے ہوئے ہو تو آؤ، خطاکار ہو تو آؤ، دل میں ندامت ہے تو آؤ، رب کے دروازے پر دیر نہیں ہوتی۔
اسی دن کی ایک خاص عبادت غیر حاجیوں کے لیے روزہ ہے۔ صحیح مسلم میں حضرت ابو قتادہ رضی اللہ عنہ سے روایت ہے کہ رسول اللہ ﷺ سے عرفہ کے روزے کے بارے میں پوچھا گیا تو آپ ﷺ نے فرمایا کہ یہ گزشتہ سال اور آنے والے سال کے گناہوں کا کفارہ بن جاتا ہے۔ (Sunnah.com) علماء نے اس فضیلت کو اللہ کی رحمت کا عظیم مظہر قرار دیا ہے۔ یہ بات بھی یاد رہنی چاہیے کہ یہ روزہ غیر حاجیوں کے لیے ہے؛ حاجی عرفات میں دعا، وقوف، تضرع اور مناسک میں مشغول ہوتا ہے، اس کے لیے سنت یہی ہے کہ وہ اس دن روزہ نہ رکھے تاکہ عبادت کی قوت باقی رہے۔ مگر جو مسلمان مکہ سے دور ہے، اپنے گھر، شہر، دکان، دفتر یا کھیت میں ہے، اس کے لیے عرفہ کا روزہ گویا عرفات کے دروازے سے ایک روحانی نسبت ہے۔ وہ میدانِ عرفات میں جسمانی طور پر نہیں، مگر روزے، دعا، ذکر، توبہ اور عاجزی کے ذریعے اس رحمت سے حصہ پاتا ہے۔
نو ذوالحجہ کا دن دعا کا دن ہے۔ دعا صرف الفاظ کا نام نہیں، دل کے ٹوٹنے کا نام ہے۔ دعا وہ لمحہ ہے جب بندہ اپنی بے بسی کو مان لیتا ہے، اپنی خود پسندی کو دفن کر دیتا ہے، اپنی خواہشوں کو اللہ کے فیصلے کے سامنے جھکا دیتا ہے، اور پھر ہاتھ اٹھا کر کہتا ہے: یا اللہ! میں آیا ہوں، خالی ہوں، محتاج ہوں، گنہگار ہوں، مگر تیرے سوا میرا کوئی نہیں۔ حدیث میں عرفہ کے دن کی دعا کو بہترین دعا کہا گیا، اور وہ کلمہ بھی نقل ہوا جس میں توحید کا اعلان ہے: لا الہ الا اللہ وحدہ لا شریک لہ، لہ الملک ولہ الحمد، وہو علی کل شیء قدیر۔ (Sunnah.com) یہ دعا دراصل ایمان کا خلاصہ ہے۔ اس میں بندہ کہتا ہے کہ عبادت کے لائق صرف اللہ ہے، اس کا کوئی شریک نہیں، بادشاہی اسی کی ہے، تعریف اسی کے لیے ہے، اور وہ ہر چیز پر قادر ہے۔ جب انسان اس کلمے کو عرفہ کے دن دل سے پڑھتا ہے تو گویا وہ اپنے اندر کے تمام جھوٹے خداؤں کو توڑ دیتا ہے: دولت کا غرور، منصب کا نشہ، خواہشات کی بندگی، لوگوں کی خوشنودی، شہرت کا فتنہ، نفس کا تکبر—سب کو لا الہ کی ضرب سے گرا دیتا ہے، اور الا اللہ کے نور میں پناہ لیتا ہے۔
عرفہ کا دن حجۃ الوداع کی یاد بھی دلاتا ہے۔ یہی وہ موقع تھا جب رسول اللہ ﷺ نے اپنی امت کو آخری جامع نصیحتیں فرمائیں۔ خطبہ حجۃ الوداع انسانی تاریخ کی عظیم ترین اخلاقی دستاویزات میں شمار ہوتا ہے، کیونکہ اس میں خون، مال، عزت، امانت، عورتوں کے حقوق، معاشی عدل، سود کے خاتمے، نسلی برتری کی نفی، اور قرآن و سنت سے وابستگی کا پیغام دیا گیا۔ بین الاقوامی اسلامی یونیورسٹی ملائیشیا کے فراہم کردہ متن میں خطبہ کے حصے کے طور پر عورتوں کے حقوق اور حسنِ سلوک کی تاکید بھی نقل کی گئی ہے۔ (IIUM) اس خطبے کا ایک بڑا پیغام یہ تھا کہ اسلام صرف مسجد کے اندر کی عبادت نہیں، بلکہ بازار کی امانت، گھر کا اخلاق، معاشرے کا انصاف، عورت کی عزت، کمزور کا حق، مال کی پاکیزگی اور انسان کی حرمت کا دین ہے۔
عرفات کا منظر انسان کو مساوات کی وہ حقیقت دکھاتا ہے جو کتابوں میں پڑھنے سے نہیں، آنکھوں سے دیکھنے سے دل میں اترتی ہے۔ ایک طرف افریقہ کا حاجی، دوسری طرف ایشیا کا حاجی، ایک طرف عرب، دوسری طرف عجم، کہیں بوڑھا، کہیں جوان، کہیں امیر، کہیں غریب، کہیں حکمران، کہیں مزدور، سب ایک ہی لباس میں، سب ایک ہی سمت متوجہ، سب ایک ہی رب سے مانگتے ہوئے۔ جدید دور میں بھی یہ منظر دنیا کے بڑے مذہبی اجتماعات میں شمار ہوتا ہے۔ 2024 کے حج میں سعودی وزیر حج و عمرہ کے مطابق 18 لاکھ 30 ہزار سے زائد مسلمان حج میں شریک ہوئے، جبکہ 2023 میں یہ تعداد تقریباً 18 لاکھ 40 ہزار تھی۔ (AP News) یہ صرف اعداد و شمار نہیں، یہ امت کی عالمی وسعت کا نشان ہے۔ دنیا کے ہر خطے سے لوگ اپنی زبان، اپنی تہذیب، اپنی مشکلات، اپنی امیدیں لے کر عرفات پہنچتے ہیں، مگر وہاں جا کر سب کی زبان ایک ہو جاتی ہے: لبیک اللہم لبیک۔
عرفہ کے دن کا ایک باطنی پہلو یہ ہے کہ یہ انسان کو اپنے گناہوں کی حقیقت دکھاتا ہے، مگر اسے مایوسی میں نہیں دھکیلتا۔ اسلام کا مزاج عجیب رحمت بھرا ہے۔ وہ گناہ کو معمولی نہیں کہتا، مگر توبہ کا دروازہ بھی بند نہیں کرتا۔ وہ انسان کو جرم کا احساس دلاتا ہے، مگر اسے رب کی رحمت سے دور نہیں کرتا۔ عرفہ کا دن کہتا ہے: اپنے گناہوں کو پہچانو، مگر اللہ کی رحمت سے بدگمان نہ ہو؛ اپنی خطاؤں پر روؤ، مگر یہ نہ سمجھو کہ تمہارا رب تم سے منہ موڑ چکا ہے؛ زندگی بدلنے کا ارادہ کرو، مگر اپنے ماضی کے اندھیروں کو مستقبل کی روشنی کے راستے میں دیوار نہ بناؤ۔
یہ دن دلوں کی صفائی کا دن ہے۔ کتنے ہی لوگ روزہ رکھتے ہیں، نماز پڑھتے ہیں، قرآن پڑھتے ہیں، مگر ان کے دلوں میں کینہ، حسد، تکبر، غیبت، بدگمانی، قطع رحمی اور ظلم کی تاریکی باقی رہتی ہے۔ عرفہ کا دن صرف زبان کی دعا نہیں مانگتا، دل کی تبدیلی مانگتا ہے۔ اگر کوئی شخص عرفہ کے دن اللہ سے مغفرت مانگے مگر اپنے بھائی کو معاف نہ کرے، اپنے رشتے دار سے صلح نہ کرے، کسی کا حق دبائے رکھے، کسی ملازم کی مزدوری روک لے، کسی عورت کی عزت پامال کرے، کسی غریب کی مجبوری سے فائدہ اٹھائے، کسی یتیم کا مال کھائے، کسی خریدار کو دھوکا دے، کسی کاروبار میں جھوٹ بولے، تو اسے اپنے عرفہ کی روح پر دوبارہ غور کرنا چاہیے۔ یومِ عرفہ کا حقیقی اثر یہ ہے کہ انسان اللہ کے سامنے جھکنے کے بعد انسانوں کے ساتھ بھی نرم ہو جائے۔
اس دن کا رشتہ قربانی سے بھی گہرا ہے، اگرچہ قربانی دس ذوالحجہ کو عید الاضحی کے دن شروع ہوتی ہے۔ نو ذوالحجہ دراصل اس عظیم روحانی ماحول کی آخری تیاری ہے جس کے بعد قربانی آتی ہے۔ قربانی کا گوشت، کھال، رسم یا نمود اصل مقصد نہیں؛ اصل مقصد تقویٰ، اطاعت اور اللہ کے حکم کے سامنے سر تسلیم خم کرنا ہے۔ حضرت ابراہیم علیہ السلام کی سنت ہمیں یہ سکھاتی ہے کہ بندگی اس وقت مکمل ہوتی ہے جب انسان اپنی محبوب ترین چیز کو بھی اللہ کے حکم کے مقابلے میں کم تر سمجھتا ہے۔ عرفہ اس بندگی کو دل میں زندہ کرتا ہے، اور قربانی اس بندگی کو عمل میں ظاہر کرتی ہے۔
عرفہ کے دن کی عبادت صرف روزے تک محدود نہیں۔ اس دن کثرت سے توبہ، استغفار، درود شریف، قرآن کی تلاوت، صدقہ، دعا، والدین کے لیے ایصالِ ثواب، مرحومین کے لیے مغفرت، بیماروں کے لیے شفا، مظلوموں کے لیے نصرت، امت کے لیے امن، اپنے ملک کے لیے خیر، رزق میں برکت، اولاد کی اصلاح، دل کی ہدایت، اور خاتمہ بالخیر کی دعا کرنی چاہیے۔ خاص طور پر عصر سے مغرب تک کا وقت بہت قیمتی سمجھا جاتا ہے، کیونکہ عرفات میں حاجی اسی وقت سب سے زیادہ دعا میں مشغول ہوتے ہیں۔ غیر حاجی بھی اپنے گھر، مسجد یا تنہائی میں بیٹھ کر اپنے رب سے بات کر سکتا ہے۔ اللہ کے لیے فاصلے رکاوٹ نہیں، دل کی سچائی اصل ہے۔
یومِ عرفہ کا ایک دردناک پہلو یہ بھی ہے کہ یہ دن ہمیں امت کی حالت پر رلانے آتا ہے۔ دنیا کے مختلف خطوں میں مسلمان جنگ، غربت، ظلم، بے گھر ہونے، معاشی بدحالی، اخلاقی زوال، تعلیمی پسماندگی، سیاسی انتشار، خاندانی ٹوٹ پھوٹ اور فکری کمزوری کا شکار ہیں۔ عرفات میں لاکھوں انسان ایک لباس میں کھڑے ہوتے ہیں، مگر دنیا میں امت کئی حصوں میں بٹی ہوئی ہے۔ عرفہ ہمیں یاد دلاتا ہے کہ امت کی وحدت صرف نعرے سے نہیں، عدل، رحم، علم، اخلاق، امانت، خدمت اور اخلاص سے بنتی ہے۔ اگر ہم عرفات میں ایک رب کے سامنے کھڑے ہو سکتے ہیں تو دنیا میں ایک دوسرے کے لیے نرم کیوں نہیں ہو سکتے؟ اگر ہم حج میں ایک صف میں کھڑے ہو سکتے ہیں تو کاروبار، سیاست، خاندان، مسجد اور معاشرے میں انصاف کیوں نہیں کر سکتے؟
یہ دن پاکستان جیسے معاشروں کے لیے بھی ایک بڑا پیغام رکھتا ہے۔ ہمارے ہاں مذہب سے محبت بہت ہے، مگر کبھی کبھی اخلاقی عمل کمزور ہو جاتا ہے۔ عرفہ کا روزہ رکھا جاتا ہے، مگر بازار میں جھوٹ بولا جاتا ہے؛ دعا کی جاتی ہے، مگر وراثت میں بہن کا حق روک لیا جاتا ہے؛ قرآن پڑھا جاتا ہے، مگر غریب کی عزت نہیں کی جاتی؛ قربانی کی تیاری ہوتی ہے، مگر قرض خواہ کو ٹالا جاتا ہے؛ حج کی خواہش کی جاتی ہے، مگر والدین کی خدمت میں کمی رہ جاتی ہے۔ عرفہ ہمیں بتاتا ہے کہ اللہ کا قرب صرف رسم سے نہیں، دل کی سچائی، رزق کی پاکیزگی، زبان کی حفاظت، حقوق العباد کی ادائیگی اور عاجزی سے حاصل ہوتا ہے۔
عرفہ کا دن اہلِ علم کے نزدیک محاسبے کا دن بھی ہے۔ ہر انسان اپنے آپ سے پوچھے: میری زندگی کس سمت جا رہی ہے؟ میری نماز زندہ ہے یا صرف عادت؟ میرا رزق پاک ہے یا مشتبہ؟ میری زبان خیر بولتی ہے یا زخم دیتی ہے؟ میرے گھر والے مجھ سے محفوظ ہیں یا خوف زدہ؟ میرے ملازم، میرے شریک، میرے ہمسائے، میرے رشتے دار، میرے دوست—کیا وہ میرے اخلاق کے گواہ ہیں یا میرے ظلم کے؟ میرے موبائل میں کیا ہے؟ میرے کاروبار میں کیا ہے؟ میری نیت میں کیا ہے؟ میری راتیں کس کام میں گزرتی ہیں؟ میری تنہائی اللہ کے قریب کرتی ہے یا گناہ کے قریب؟ عرفہ کا دن ان سوالات سے بھاگنے کا نہیں، ان کے سامنے کھڑے ہونے کا دن ہے۔
یہ دن نوجوانوں کے لیے بھی خاص پیغام رکھتا ہے۔ آج کا نوجوان ڈیجیٹل شور، خواہشات کے طوفان، بے یقینی، بے روزگاری، تعلقات کی الجھنوں، شناخت کے بحران اور فکری انتشار میں گھرا ہوا ہے۔ عرفہ اسے یاد دلاتا ہے کہ تم صرف دنیا کی دوڑ کا حصہ نہیں، تم اللہ کے بندے ہو؛ تمہاری زندگی صرف نوکری، پیسہ، شہرت، تعلقات یا تفریح کا نام نہیں، تمہارے اندر ایک روح ہے جسے ہدایت، سکون، پاکیزگی اور مقصد چاہیے۔ عرفہ نوجوان سے کہتا ہے کہ گناہ سے واپسی ممکن ہے، عادتیں بدل سکتی ہیں، دل صاف ہو سکتا ہے، زندگی نئی سمت لے سکتی ہے۔ اللہ کے دروازے پر “بہت دیر” کا تصور نہیں، جب تک سانس باقی ہے، توبہ کا امکان باقی ہے۔
خواتین کے لیے عرفہ کا پیغام عزت، دعا اور روحانی قوت کا پیغام ہے۔ اسلام نے عورت کو اللہ کی بندگی میں مرد کے برابر روحانی مقام دیا۔ عرفہ کے دن ماں کی دعا، بیٹی کی دعا، بہن کی دعا، بیوی کی دعا، بیوہ کی دعا، مظلوم عورت کی دعا، بیمار عورت کی دعا، اولاد کے لیے روتی ہوئی ماں کی دعا—یہ سب اللہ کے حضور قیمتی ہیں۔ خطبہ حجۃ الوداع میں عورتوں کے ساتھ حسنِ سلوک کی تاکید ہمیں یاد دلاتی ہے کہ کوئی معاشرہ اس وقت تک اسلامی اخلاق کا دعویٰ مکمل نہیں کر سکتا جب تک اس کے گھروں میں عورت محفوظ، محترم اور باعزت نہ ہو۔ (IIUM)
عرفہ کے دن کا تعلق آخرت کی یاد سے بہت گہرا ہے۔ عرفات کا میدان انسان کو قیامت کے میدان کی جھلک دکھاتا ہے۔ لاکھوں لوگ ایک جگہ جمع، سب اپنے رب کی طرف متوجہ، سب اپنی نجات کے طلب گار، سب اپنی زبان سے دعا گو۔ فرق صرف اتنا ہے کہ عرفات میں توبہ کا موقع ہے، قیامت میں حساب کا وقت ہو گا۔ عرفات میں آنسو اختیار سے بہتے ہیں، قیامت میں آنسو بے بسی سے بہیں گے۔ عرفات میں ہاتھ اٹھائے جاتے ہیں، قیامت میں اعمال نامے دیے جائیں گے۔ عرفات میں اللہ سے معافی مانگی جاتی ہے، قیامت میں اللہ کا فیصلہ سامنے ہو گا۔ اس لیے خوش نصیب ہے وہ شخص جو عرفہ کے دن قیامت کو یاد کر کے اپنی زندگی بدل لے۔
یہ دن ہمیں علم اور روایت کی ذمہ داری بھی سکھاتا ہے۔ عوامی سطح پر عرفات سے متعلق بعض روایات مشہور ہیں جن کی سند پر اہلِ علم گفتگو کرتے ہیں؛ اس لیے دینی تحریر میں احتیاط لازم ہے۔ ہر مشہور بات کو دین بنا دینا درست نہیں۔ دین کی عظمت اسی میں ہے کہ قرآن، صحیح حدیث، معتبر سیرت اور محتاط علمی بیان سے بات کی جائے۔ عرفہ کی عظمت کے لیے کمزور قصوں کی ضرورت نہیں؛ صحیح احادیث ہی اس دن کی شان بیان کرنے کے لیے کافی ہیں۔ جب صحیح مسلم میں جہنم سے آزادی کی بشارت موجود ہے، جب صحیح مسلم میں عرفہ کے روزے کی فضیلت موجود ہے، جب ترمذی میں “حج عرفہ ہے” کا اعلان موجود ہے، جب قرآن میں دین کی تکمیل کا پیغام موجود ہے، تو پھر ہمیں جذبات کے لیے غیر ثابت باتوں کی ضرورت نہیں رہتی۔
نو ذوالحجہ کا سب سے بڑا سبق یہ ہے کہ انسان اپنے رب کی طرف لوٹ آئے۔ یہ واپسی صرف زبان سے نہیں ہوتی، زندگی سے ہوتی ہے۔ جو شخص سودی لین دین میں مبتلا ہے، وہ عرفہ کے دن اللہ سے مدد مانگے اور حلال راستہ تلاش کرے۔ جو شخص والدین کا نافرمان ہے، وہ اسی دن فون کرے، قدموں میں بیٹھے، معافی مانگے۔ جو بھائی بھائی سے ناراض ہے، وہ صلح کی ابتدا کرے۔ جس نے کسی کا حق مارا ہے، وہ حق واپس کرے۔ جس نے کسی پر ظلم کیا ہے، وہ معافی مانگے۔ جس کے دل میں تکبر ہے، وہ سجدے میں ٹوٹے۔ جس کی نماز چھوٹ گئی ہے، وہ آج سے آغاز کرے۔ جس کی زبان غیبت کی عادی ہے، وہ خاموشی سیکھے۔ جس کی آنکھیں حرام کی عادی ہیں، وہ حیا مانگے۔ جس کا دل سخت ہو گیا ہے، وہ قرآن کھولے اور رب سے کہے: یا اللہ! میرا دل بدل دے۔
یہ دن امید کا دن ہے۔ بہت سے لوگ اپنے گناہوں کو دیکھ کر مایوس ہو جاتے ہیں۔ وہ سوچتے ہیں کہ ہم بہت دور جا چکے، ہم کیسے واپس آئیں گے؟ عرفہ ایسے ہی لوگوں کے لیے آتا ہے۔ یہ دن کہتا ہے کہ تمہارا رب تم سے بے نیاز ہے، مگر تمہارے پلٹنے سے خوش ہوتا ہے؛ تمہاری عبادت سے اس کی بادشاہی نہیں بڑھتی، تمہارے گناہ سے اس کی سلطنت کم نہیں ہوتی، مگر اس کی رحمت تمہاری توبہ کو پسند کرتی ہے۔ بندہ جب سچے دل سے کہتا ہے: یا اللہ! میں غلط تھا، مجھے معاف کر دے، تو وہ دراصل اپنی انسانیت کی سب سے پاک حالت میں ہوتا ہے۔
عرفہ کے دن آنسو عبادت بن جاتے ہیں، خاموشی دعا بن جاتی ہے، ندامت روشنی بن جاتی ہے، اور توبہ زندگی کا نیا آغاز بن جاتی ہے۔ اس دن اگر کوئی شخص صرف اتنا بھی کر لے کہ تنہائی میں بیٹھے، اپنے گناہوں کو یاد کرے، اللہ سے معافی مانگے، چند لوگوں کو دل سے معاف کرے، چند حقوق ادا کرنے کا ارادہ کرے، نماز کی پابندی کا عہد کرے، حرام سے بچنے کا فیصلہ کرے، اور اپنی زبان سے توحید کا کلمہ دہراتا رہے، تو اس کا عرفہ صرف ایک دن نہیں رہے گا؛ وہ اس کی زندگی کا موڑ بن سکتا ہے۔
عرفات کی وادی میں کھڑے حاجیوں کا منظر ہر مسلمان کے دل کو ہلا دیتا ہے۔ ایک طرف سفید لباس میں لپٹے انسان، دوسری طرف سورج کی شدت، تیسری طرف دعا کے لیے اٹھے ہاتھ، چوتھی طرف آنکھوں سے بہتے آنسو، اور سب سے اوپر اللہ کی رحمت۔ ایسوسی ایٹڈ پریس کی 2024 کی رپورٹ کے مطابق عرفات کا یہ اجتماع حاجیوں کے لیے حج کا سب سے یادگار لمحہ سمجھا جاتا ہے، جہاں وہ کندھے سے کندھا ملا کر اللہ سے رحمت، برکت، خیر اور صحت کی دعا کرتے ہیں۔ (AP News) مگر ایک مسلمان کے لیے اصل سوال یہ ہے کہ کیا ہم عرفات کے اس منظر کو صرف تصویر سمجھ کر دیکھتے ہیں، یا اپنی روح کا آئینہ بناتے ہیں؟
نو ذوالحجہ ہمیں بتاتا ہے کہ انسان کی اصل کامیابی اللہ کی نظر میں کامیابی ہے۔ دنیا کی کامیابی عارضی ہے؛ آج منصب ہے، کل نہیں؛ آج دولت ہے، کل نہیں؛ آج صحت ہے، کل نہیں؛ آج شہرت ہے، کل نہیں؛ آج جوانی ہے، کل نہیں۔ مگر اللہ کی رضا، مغفرت، ہدایت اور آخرت کی نجات—یہی وہ کامیابی ہے جو باقی رہتی ہے۔ عرفہ کا دن ہمیں اسی باقی رہنے والی کامیابی کی طرف بلاتا ہے۔
یہ دن ایک خاموش اعلان ہے کہ اللہ کے بندو! واپس آ جاؤ۔ جو نماز سے دور ہیں، واپس آ جاؤ۔ جو قرآن سے دور ہیں، واپس آ جاؤ۔ جو والدین سے دور ہیں، واپس آ جاؤ۔ جو حلال رزق سے دور ہیں، واپس آ جاؤ۔ جو حیا سے دور ہیں، واپس آ جاؤ۔ جو امت کے درد سے دور ہیں، واپس آ جاؤ۔ جو اپنے رب کو بھول بیٹھے ہیں، واپس آ جاؤ۔ عرفہ کا دن الزام دینے نہیں، جگانے آتا ہے؛ ڈرانے نہیں، سنبھالنے آتا ہے؛ گرانے نہیں، اٹھانے آتا ہے۔
آخر میں یومِ عرفہ کی سب سے بڑی دعا یہی ہے کہ اللہ تعالیٰ ہمیں اس دن کی حقیقت سمجھنے کی توفیق دے۔ جو حج پر ہیں، ان کا حج قبول فرمائے۔ جو حج پر نہیں جا سکے، ان کے دلوں کو عرفہ کی رحمت سے محروم نہ رکھے۔ جو بیمار ہیں، انہیں شفا دے۔ جو مقروض ہیں، ان کے قرض ادا فرمائے۔ جو پریشان ہیں، ان کی پریشانی دور فرمائے۔ جو گناہوں میں ڈوبے ہیں، انہیں توبہ کی توفیق دے۔ جو دل ٹوٹے ہوئے ہیں، انہیں اپنی محبت سے جوڑ دے۔ جو والدین دنیا سے جا چکے ہیں، ان کی مغفرت فرمائے۔ جو زندہ ہیں، ان کی خدمت کی توفیق دے۔ امتِ مسلمہ کو امن، علم، اتحاد، عدل، عزت اور ہدایت عطا فرمائے۔ پاکستان کو خیر، امان، دیانت دار قیادت، معاشی برکت، سماجی عدل اور اخلاقی اصلاح نصیب فرمائے۔
نو ذوالحجہ کا دن گزر جاتا ہے، مگر اس کا پیغام باقی رہتا ہے: انسان اپنے رب کا ہے، اپنے رب کی طرف لوٹنے والا ہے، اور اپنے رب ہی کے سامنے کھڑا ہونے والا ہے۔ خوش نصیب وہ ہے جو عرفات کے دن سے پہلے، عرفات کے دن، یا عرفات کے بعد—کسی بھی لمحے—اپنے دل میں یہ فیصلہ کر لے کہ اب زندگی اللہ کی رضا کے لیے گزارنی ہے۔ یہی عرفہ کی روح ہے، یہی حج کا راز ہے، یہی توبہ کا حسن ہے، یہی بندگی کی معراج ہے۔
نو ذوالحجہ، یوم عرفہ، حج، عرفات، روزہ عرفہ، ذوالحجہ، اسلامی تاریخ، حجۃ الوداع، دعا، توبہ، مغفرت، عید الاضحی، دین، دوست نیوز
