ایک شخص نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوا اور عرض کی کہ یہ بدنصیب رمضان میں اپنی بیوی سے جماع کر بیٹھا ہے ، آپ ﷺ نے دریافت فرمایا کہ تمہارے پاس اتنی طاقت نہیں ہے کہ ایک غلام آزاد کر سکو ؟ اس نے کہا کہ نہیں ، آپ ﷺ نے پھر دریافت فرمایا ، کیا تم پے در پے دو مہینے کے روزے رکھ سکتے ہو ؟ اس نے کہا کہ نہیں ۔ آپ ﷺ نے پھر دریافت فرمایا کیا تمہارے اندر اتنی طاقت ہے کہ ساٹھ مسکینوں کو کھانا کھلا سکو ؟ اب بھی اس کا جواب نفی میں تھا ۔ راوی نے بیان کیا پھر نبی کریم ﷺ کی خدمت میں ایک تھیلا لایا گیا جس میں کھجوریں تھیں «عرق» زنبیل کو کہتے ہیں ۔ آنحضرت ﷺ نے فرمایا کہ اسے لے جا اور اپنی طرف سے ( محتاجوں کو ) کھلا دے ، اس شخص نے کہا میں اپنے سے بھی زیادہ محتاج کو حالانکہ دو میدانوں کے درمیان کوئی گھرانہ ہم سے زیادہ محتاج نہیں آپ نے فرمایا کہ پھر جا اپنے گھر والوں ہی کو کھلا دے ۔
Sahih Bukhari#1937
کتاب روزے کے مسائل کا بیان
Status: صحیح



