راولپنڈی/ملتان/حیدرآباد(خصوصی تحقیقی رپورٹ)
پاکستان کی معیشت میں زراعت کا کردار محض ایک شعبے کا نہیں بلکہ یہ اس ملک کی زندگی کی علامت ہے۔ اپریل 2026 کے ان دنوں میں، جب سورج کی تپش گندم کے خوشوں کو سنہرا رنگ بخش رہی ہے، پاکستان کے کھیت ایک عظیم معاشی جنگ کا میدان بنے ہوئے ہیں۔ یہ رپورٹ 1000 سے زائد الفاظ پر مشتمل ایک ایسا جامع دستاویز ہے جو پاکستان کی موجودہ زرعی صورتحال، مارکیٹ کے حقائق، کسان کی زندگی اور حکومتی پالیسیوں کا گہرا احاطہ کرتی ہے۔
1. سیزن کی پکار: ربیع کا اختتام اور خریف کی دستک
اپریل کا مہینہ پاکستان کی زراعت کے لیے “ٹرانزیشن” کا وقت ہے۔ یہ وہ وقت ہے جب کسان اپنی چھ ماہ کی محنت کا پھل سمیٹ رہا ہے اور اگلے چھ ماہ کی منصوبہ بندی کر رہا ہے۔
الف) گندم: دسترخوان کی ضمانت
رواں سال 2026 میں گندم کی پیداوار کے ابتدائی تخمینے 30.5 ملین میٹرک ٹن لگائے گئے ہیں۔ پنجاب کے میدانی علاقوں میں کٹائی (Harvesting) اپنے عروج پر ہے۔
- دلچسپ حقیقت: اس سال جدید مشینی کٹائی (Combined Harvesters) کا رجحان گزشتہ سال کے مقابلے میں 15% زیادہ دیکھا گیا ہے، جس کی وجہ لیبر کی بڑھتی ہوئی قیمت اور وقت کی بچت ہے۔
- معیار: بارشوں کے متوازن سلسلے کی وجہ سے دانے کا وزن اور رنگت مثالی ہے، تاہم جنوبی پنجاب کے بعض حصوں میں مارچ کی اچانک گرمی نے “ہیٹ اسٹریس” (Heat Stress) پیدا کیا جس سے فی ایکڑ پیداوار میں 2 سے 3 من کی کمی واقع ہوئی۔
ب) چنا اور سرسوں: خاموش انقلاب
تھل اور چولستان کے علاقوں میں چنے کی فصل کی بھرپور کٹائی ہو چکی ہے۔ پاکستان میں خوردنی تیل کی درآمدی بل کو کم کرنے کے لیے اس سال حکومت نے سرسوں اور کینولا کی کاشت پر خصوصی توجہ دی تھی۔
- اعداد و شمار: سرسوں کے زیرِ کاشت رقبے میں 12% اضافہ ریکارڈ کیا گیا، جو کہ پاکستان کے لیے زرمبادلہ بچانے کی ایک مثبت سمت ہے۔
2. مارکیٹ تجزیہ 2026: طلب، رسد اور ریٹ کا بحران
زراعت کا اصل امتحان کھیت میں نہیں بلکہ منڈی میں ہوتا ہے۔ رواں سال مارکیٹ کی صورتحال ایک “مکسڈ بیگ” (Mixed Bag) کی مانند ہے۔
ریٹس کی صورتحال (Rates Breakdown):
حکومت نے گندم کی کم از کم امدادی قیمت (Support Price) 3,900 روپے فی من مقرر کی ہے، لیکن گراؤنڈ پر صورتحال مختلف ہے:
- اوپن مارکیٹ: کسان کو اکثر مقامات پر 3,300 سے 3,500 روپے فی من کی قیمت مل رہی ہے۔ اس کی بڑی وجہ سرکاری خریداری مراکز پر باردانہ (بوریوں) کی تقسیم کا پیچیدہ نظام اور مڈل مین (آڑھتی) کا اثر و رسوخ ہے۔
- ان پٹ اخراجات: کسان کا سب سے بڑا شکوہ “مہنگی کھاد اور بجلی” ہے۔ یوریا کی بوری مارکیٹ میں 5,200 روپے تک فروخت ہو رہی ہے، جبکہ ڈی اے پی (DAP) کی قیمت 12,500 روپے تک پہنچ چکی ہے۔ بجلی کے ٹیوب ویل بلوں میں حالیہ 22% اضافے نے چھوٹے کسان کی کمر توڑ کر رکھ دی ہے۔
طلب و رسد کا توازن:
پاکستان کی بڑھتی ہوئی آبادی (تقریباً 25 کروڑ) کے لیے سالانہ 28 سے 29 ملین ٹن گندم کی ضرورت ہوتی ہے۔ اس سال پیداوار طلب سے زیادہ ہے، جس کا مطلب ہے کہ پاکستان کو گندم درآمد کرنے کی ضرورت نہیں پڑے گی، بلکہ اگر بہتر انتظام کیا جائے تو کچھ مقدار برآمد (Export) بھی کی جا سکتی ہے۔
3. کسان کی داستان: محنت، پسینہ اور بقا کی جنگ
پاکستان کا کسان، خصوصاً 12 ایکڑ سے کم زمین رکھنے والا چھوٹا کاشتکار، اس وقت ایک نفسیاتی اور مالیاتی دباؤ کا شکار ہے۔
ایک دن کسان کے ساتھ:
پنجاب کے ایک دور افتادہ گاؤں کا کسان، اللہ دتہ، بتاتا ہے کہ “ہماری زندگی جواری کی طرح ہے؛ ہم بیج بوتے وقت زمین میں اپنی قسمت دفن کرتے ہیں۔ کبھی آسمان سے آفت (بے وقت بارش) آ جاتی ہے اور کبھی منڈی کا بیوپاری ہماری محنت لوٹ لیتا ہے۔”
- مثبت پہلو: 2026 میں “کسان کارڈ” کی ڈیجیٹلائزیشن نے بڑی تبدیلی پیدا کی ہے۔ کسان اب براہِ راست کھاد اور بیج پر سبسڈی حاصل کر رہے ہیں، جس سے کچھ بوجھ کم ہوا ہے۔
- ٹیکنالوجی کا استعمال: نوجوان کسان اب یوٹیوب اور زرعی ایپس کے ذریعے جدید طریقوں کو اپنا رہے ہیں۔ لیزر لینڈ لیولنگ (Laser Land Leveling) اب ایک لگژری نہیں بلکہ ضرورت بن چکی ہے، جس سے پانی کی 30% بچت ہو رہی ہے۔
4. حکومتی پالیسیاں: گرین پاکستان اور SIFC کا نیا وژن
2026 میں پاکستان کی زرعی پالیسی کا محور “گرین پاکستان انیشیٹو” اور خصوصی سرمایہ کاری سہولت کونسل (SIFC) ہے۔
کارپوریٹ فارمنگ کا عروج:
حکومت نے خلیجی ممالک (سعودی عرب اور متحدہ عرب امارات) کے تعاون سے لاکھوں ایکڑ بنجر زمین کو آباد کرنے کے منصوبے شروع کیے ہیں۔
- مقصد: بڑے پیمانے پر مشینی زراعت کے ذریعے فی ایکڑ پیداوار کو عالمی معیار کے مطابق لانا۔
- تیل دار اجناس: پام آئل اور سویا بین کی مقامی کاشت کے لیے سندھ کے ساحلی علاقوں میں تجرباتی فارمز قائم کیے گئے ہیں تاکہ 4 ارب ڈالر کا درآمدی بل کم کیا جا سکے۔
بیج کی خود کفالت:
پاکستان نے چین کے ساتھ مل کر ہائبرڈ چاول اور مکئی کے بیجوں کی مقامی سطح پر تیاری شروع کر دی ہے۔ اس سے پہلے پاکستان ان بیجوں کی درآمد پر کروڑوں ڈالر خرچ کرتا تھا۔ اب 2026 میں پاکستان کا چاول (Basmati & Long Grain) عالمی منڈیوں میں مزید مسابقتی ہو گیا ہے۔
5. خریف 2026 کا چیلنج: کپاس، چاول اور گنا
جیسے ہی گندم کے کھیت خالی ہو رہے ہیں، کسان کی نظریں اب اگلی فصلوں پر ہیں۔
- کپاس (The Silver Fiber): کپاس پاکستان کی انڈسٹری کا خام مال ہے۔ حکومت نے کپاس کا ہدف 12 ملین گانٹھیں رکھا ہے۔ تاہم، بیج کی کوالٹی اور ‘وائٹ فلائی’ (White Fly) کا حملہ اب بھی بڑے خطرات ہیں۔ سندھ میں بوائی شروع ہو چکی ہے، اور اس سال “بی ٹی کاٹن” کی نئی اقسام متعارف کرائی گئی ہیں۔
- چاول (Rice): باسمتی چاول کی برآمدات میں گزشتہ مالی سال کے دوران ریکارڈ اضافہ دیکھا گیا ہے۔ 2026 میں حکومت کا ہدف 5 ارب ڈالر کی چاول کی برآمدات ہیں، جو کہ پاکستان کے ٹوٹل ایکسپورٹ کا بڑا حصہ ہو گا۔
- گنا (Sugarcane): شوگر ملوں اور کسانوں کے درمیان ادائیگیوں کا مسئلہ اب بھی حل طلب ہے، لیکن گنے کی پیداوار مستحکم رہنے کی توقع ہے۔
6. موسمیاتی تبدیلی (Climate Change): زراعت کا سب سے بڑا دشمن
تحقیق بتاتی ہے کہ پاکستان موسمیاتی تبدیلیوں سے متاثرہ ممالک میں سرفہرست ہے۔ 2026 میں بھی یہ اثرات نمایاں ہیں:
- پانی کی قلت: تربیلا اور منگلا ڈیموں میں پانی کی سطح ڈیڈ لیول کے قریب پہنچنا خریف کی فصلوں کے لیے خطرناک ہو سکتا ہے۔ ارسا (IRSA) نے صوبوں کو 20% سے 30% پانی کی کمی کے لیے تیار رہنے کا کہا ہے۔
- سموگ اور پولن: سردیوں میں طویل سموگ نے فوٹو سنتھیسس (Photosynthesis) کے عمل کو سست کیا، جس سے بعض فصلوں کی نشوونما متاثر ہوئی۔
7. مارکیٹ تجزیہ اور سفارشات (Analysis & Final Verdict)
پاکستان کی زراعت کی “حقیقی تصویر” یہ ہے کہ یہ شعبہ صلاحیت (Potential) سے تو بھرپور ہے لیکن انتظامیہ (Management) کی کمی کا شکار ہے۔
مثبت اشارے:
- کارپوریٹ فارمنگ سے جدید ٹیکنالوجی کا آنا۔
- آئی ٹی اور زراعت کا ملاپ (Agri-Tech)۔
- برآمدات پر مبنی فصلوں (چاول، مکئی) کی کامیاب کاشت۔
منفی عوامل:
- چھوٹے کسان کا استحصال اور مڈل مین کا راج۔
- کھاد اور بجلی کی قیمتوں میں ہوش ربا اضافہ۔
- بیجوں کی ریسرچ میں عالمی معیار سے پیچھے ہونا۔
تجزیہ: اگر پاکستان کو اپنی زراعت کو واقعی “پھل دار” بنانا ہے تو اسے صرف بڑے فارمز پر توجہ دینے کے بجائے چھوٹے کسان کو “ویلیو چین” کا حصہ بنانا ہوگا۔ جب تک کسان کا منافع محفوظ نہیں ہوگا، وہ نئی ٹیکنالوجی نہیں اپنائے گا۔ حکومت کو چاہیے کہ وہ گندم کی خریداری کے نظام کو مکمل طور پر شفاف بنائے اور “فارم ٹو مارکیٹ” (Farm to Market) رسائی کو آسان کرے۔
حرفِ آخر:
پاکستان کی دھرتی میں وہ طاقت ہے کہ یہ پورے خطے کا پیٹ بھر سکتی ہے۔ 2026 کا کسان بیدار ہو رہا ہے، لیکن اسے حکومتی سرپرستی اور منصفانہ مارکیٹ ریٹس کی ضرورت ہے۔ کسان کا پسینہ اگر صحیح قیمت پا لے، تو پاکستان کو کسی عالمی مالیاتی ادارے (IMF) کے سامنے جھکنے کی ضرورت نہیں پڑے گی۔ زراعت ہی پاکستان کی معاشی آزادی کا واحد راستہ ہے۔
اعداد و شمار کا ماخذ: پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس، وزارتِ خوراک و زراعت رپورٹ 2026، ایگری ہنٹ سروے مئی 2026۔



