محمد خالد
پاکستان میں ذہنی صحت ایک ایسا مسئلہ ہے جسے ہم اکثر نظر انداز کر دیتے ہیں، حالانکہ یہ خاموشی سے لاکھوں زندگیاں متاثر کر رہا ہے۔
,ہمارے معاشرے میں آج بھی ذہنی بیماری کو بیماری نہیں بلکہ کمزوری سمجھا جاتا
اسی سوچ کی وجہ سے پاکستان میں لاکھوں لوگ اپنے اندر کے درد کو چھپانے پر مجبور ہیں۔
وہ ڈاکٹر کے پاس جانے کے بجائے خود کو تنہائی میں قید کر لیتے ہیں۔
خوف، شرمندگی اور لوگوں کی باتوں کا ڈر انہیں علاج سے دور رکھتا ہے۔
ہمارے گھروں میں اکثر یہ جملہ سننے کو ملتا ہے کہ “بس مضبوط بنو، سب ٹھیک ہو جائے گا”۔
لیکن حقیقت یہ ہے کہ ہر زخم آنکھوں سے نظر نہیں آتا، کچھ زخم دل اور دماغ میں ہوتے ہیں۔
افسوس کی بات یہ ہے کہ ذہنی صحت کے مسائل کو سنجیدگی سے نہیں لیا جاتا۔
ہم جسمانی بیماری پر فوراً ڈاکٹر کے پاس جاتے ہیں مگر ذہنی تکلیف کو نظر انداز کر دیتے ہیں۔
یہی رویہ آہستہ آہستہ ایک بڑے بحران کی شکل اختیار کر رہا ہے۔
ضرورت اس بات کی ہے کہ ہم ذہنی صحت کو بھی اتنی ہی اہمیت دیں جتنی جسمانی صحت کو دیتے ہیں۔
لوگوں کو یہ سمجھانا ہوگا کہ مدد لینا کمزوری نہیں بلکہ بہادری ہے۔
اگر ہم نے آج اس مسئلے کو نہ سمجھا تو کل یہ مزید سنگین شکل اختیار کر لے گا۔
وقت آ گیا ہے کہ ہم خاموشی توڑیں اور ذہنی صحت پر کھل کر بات کریں۔
یہی قدم ایک صحت مند اور مضبوط معاشرے کی بنیاد بن سکتا ہے۔



