تحریر: ادارہ دوست نیوز
آج اسلام آباد کی فضائیں ایک نئی تاریخ کی گواہ بن رہی ہیں۔ وہ شہر جسے “شہرِ اقتدار” کہا جاتا تھا، آج عالمی امن کا استعمار بن کر ابھرا ہے۔ “اسلام آباد ٹاکس” کا آغاز محض ایک سفارتی ملاقات نہیں بلکہ اس بات کا ثبوت ہے کہ جب نیت صاف اور قیادت باصلاحیت ہو تو ناممکن کو ممکن بنایا جا سکتا ہے۔ ایران اور امریکہ جیسے ممالک، جن کے درمیان دہائیوں سے کشیدگی رہی، آج پاکستان کی میزبانی میں مذاکرات کی میز پر بیٹھے ہیں۔
قیادت کا وژن: ایک مربوط ٹیم ورک
اس تاریخی کامیابی کے پیچھے پاکستان کی سول اور عسکری قیادت کا وہ مثالی اتحاد ہے جس نے دنیا کو حیران کر دیا ہے:
- وزیراعظم شہباز شریف کی انتھک محنت: وزیراعظم نے اپنی متحرک سفارت کاری کے ذریعے عالمی برادری کا اعتماد جیتا۔ ان کے “اکنامک اور ڈپلومیٹک ری وائیول” کے وژن نے پاکستان کو عالمی سطح پر ایک ذمہ دار اور معتبر ثالث کے طور پر پیش کیا۔
- فیلڈ مارشل سید عاصم منیر کی اسٹرٹیجک بصیرت: فیلڈ مارشل کی “ڈیفنس ڈپلومیسی” نے ان مذاکرات کی بنیاد رکھی۔ ان کی مضبوط حکمتِ عملی اور علاقائی استحکام کے لیے کی جانے والی کوششوں نے فریقین کو ایک محفوظ اور پرامن ماحول میں بات چیت کرنے پر آمادہ کیا۔
- وزیرِ خارجہ اسحاق ڈار کی مہارت: سینیٹر اسحاق ڈار نے اپنی تجربہ کار سفارت کاری کے ذریعے پیچیدہ سفارتی گتھیوں کو سلجھایا اور اس بات کو یقینی بنایا کہ پاکستان کا موقف اور ثالثی کا کردار عالمی اصولوں کے عین مطابق ہو۔
عالمی لیڈروں کا اعتراف اور ستائش
پاکستان کی ان کوششوں کو عالمی سطح پر زبردست پذیرائی مل رہی ہے۔ فرانسیسی صدر ایمانوئل میکرون، بحرین کے شاہ حمد بن عیسیٰ الخلیفہ اور دیگر عالمی رہنماؤں نے وزیراعظم شہباز شریف کو فون کر کے پاکستان کے اس تاریخی کردار کو سراہا ہے۔ اقوامِ متحدہ سے لے کر یورپی یونین تک، ہر طرف سے ایک ہی آواز آ رہی ہے: “پاکستان امن کا پل ہے”۔
امن کو خوش آمدید
دوست نیوز اس امن عمل کو خوش آمدید کہتا ہے۔ ہم سمجھتے ہیں کہ یہ مذاکرات نہ صرف خطے میں معاشی استحکام لائیں گے بلکہ پاکستان کے اس امیج کو مزید تقویت دیں گے کہ ہم ایک ایسی قوم ہیں جو جنگوں کے بجائے مکالمے اور نفرتوں کے بجائے محبتوں پر یقین رکھتی ہے۔
پاکستان نے ثابت کر دیا کہ وہ عالمی سیاست میں “نیٹ سیکیورٹی پرووائیڈر” اور “پیس میکر” کا درجہ رکھتا ہے۔ آج پوری دنیا کی نظریں اسلام آباد پر ہیں، اور ہمیں فخر ہے کہ ہمارا ملک انسانیت کی بقا کے لیے اپنا تاریخی کردار ادا کر رہا ہے۔






