تحریر: عابد محمود مغل
ٹیکنالوجی کی دنیا میں وقت کی رفتار اب دنوں یا مہینوں سے نہیں، بلکہ سیکنڈوں سے ماپی جا رہی ہے۔ پچھلے چند روز کے دوران ڈیجیٹل دنیا اور آرٹیفیشل انٹیلی جنس (AI) نے ایک ایسا سنگِ میل عبور کیا ہے، جس نے روایتی کام کرنے کے طریقوں کو ہمیشہ کے لیے بدل دیا ہے۔ اب تک ہم اے آئی کو محض ایک ایسے ٹول کے طور پر استعمال کر رہے تھے جو ہمارے سوالات کے جوابات دیتا یا مواد تحریر کرتا تھا، لیکن اب مارکیٹ ‘جنریٹو اے آئی’ سے نکل کر ‘خودکار ایجنٹس’ (Autonomous AI Agents) کے دور میں داخل ہو چکی ہے۔ یہ نئے ایجنٹس اب صرف مشورے نہیں دیتے، بلکہ آپ کی ای میلز پڑھتے ہیں، کلائنٹس کے ساتھ میٹنگز طے کرتے ہیں اور کسٹمر سپورٹ سے لے کر ڈیل کلوز کرنے تک کے معاملات خود سنبھال رہے ہیں۔ یہ ایک ایسا انقلاب ہے جس نے انسان اور مشین کے درمیان کام کی تقسیم کا تصور ہی بدل کر رکھ دیا ہے۔
اس تکنیکی جست کا براہِ راست اثر عالمی معیشت اور ٹیک مارکیٹ پر صاف دکھائی دے رہا ہے۔ حال ہی میں جدید ترین اے آئی ماڈلز کی لانچنگ اور اپ ڈیٹس کے بعد، عالمی سطح پر آئی ٹی کمپنیوں کی آپریشنل لاگت میں حیران کن طور پر 42 فیصد تک کمی ریکارڈ کی گئی ہے۔ انسانوں کی جگہ ‘ڈیجیٹل کو-ورکرز’ (Digital Co-workers) کے استعمال نے سرمایہ کاروں کا رخ بھی موڑ دیا ہے۔ وال اسٹریٹ اور عالمی اسٹاک مارکیٹ میں ہارڈویئر اور اے آئی انفراسٹرکچر بنانے والی کمپنیوں کے حصص میں نمایاں اچھال آیا ہے۔ مثال کے طور پر کلاؤڈ سرورز اور جدید چپس کی بڑھتی ہوئی مانگ کے باعث این ویڈیا (Nvidia) اور مائیکروسافٹ کے شیئرز میں 7.5 فیصد کا اضافہ ہوا ہے، جبکہ ایپل نے بھی اپنی نئی اے آئی ڈیوائسز کے اعلان کے بعد 5 فیصد بہتری دیکھی ہے۔ یہ اعداد و شمار اس بات کی واضح گواہی دیتے ہیں کہ مارکیٹ اب ان کمپنیوں پر بے پناہ سرمایہ کاری کر رہی ہے جو سوفٹ ویئر آٹومیشن کو عملی جامہ پہنا رہی ہیں۔
عالمی سطح پر ہونے والی اس ڈیجیٹل اتھل پتھل کے انتہائی مثبت اثرات پاکستان پر بھی مرتب ہو رہے ہیں۔ بین الاقوامی کمپنیاں اب سستے اور قابل ‘اے آئی ٹرینرز’ اور ڈیجیٹل سروسز کے آؤٹ سورسنگ کے لیے پاکستان کا رخ کر رہی ہیں۔ حکومتی سطح پر جاری ہونے والے تازہ ترین اعداد و شمار کے مطابق، پاکستان کی ماہانہ آئی ٹی برآمدات (IT Exports) تاریخ میں پہلی بار 320 ملین ڈالر کی سطح کو عبور کر گئی ہیں۔ یہ پچھلے سال کے اسی عرصے کے مقابلے میں 34 فیصد کا نمایاں اضافہ ہے، جو اس بات کا ثبوت ہے کہ پاکستانی فری لانسرز، ڈیولپرز اور آئی ٹی کمپنیاں عالمی ڈیجیٹل ٹرینڈز کے ساتھ کامیابی سے قدم ملا رہی ہیں۔ یہ معاشی کامیابی نہ صرف ملکی زرمبادلہ کے ذخائر کے لیے خوش آئند ہے، بلکہ مقامی سطح پر روزگار اور جدید کاروبار کے نئے مواقع بھی پیدا کر رہی ہے۔
اس ڈیجیٹل انقلاب نے پاکستان کے سب سے بڑے اور روایتی شعبے یعنی ریئل اسٹیٹ کو بھی ایک نئی شکل دینا شروع کر دی ہے۔ ملک کی صفِ اول کی پراپرٹی ایجنسیاں اور ڈویلپرز اب بل بورڈز اور روایتی مارکیٹنگ کے بجائے ‘پروپ ٹیک’ (PropTech) کی طرف تیزی سے منتقل ہو رہے ہیں۔ آج کل، بڑے شہروں کے میگا پروجیکٹس کی سیلز کا 60 فیصد سے زائد حصہ براہِ راست ڈیجیٹل لیڈز، ورچوئل ٹورز اور اے آئی بیسڈ کسٹمر سروس کے ذریعے حاصل ہو رہا ہے۔ خودکار سسٹمز کے ذریعے کلائنٹس کے بجٹ اور دلچسپی کا اندازہ لگا کر انہیں متعلقہ معلومات فراہم کرنا اور ان کی رہنمائی کرنا اب معمول بنتا جا رہا ہے، جس سے کمپنیوں کے وقت اور سرمائے دونوں کی غیر معمولی بچت ہو رہی ہے۔
مستقبل کا منظرنامہ بالکل واضح ہے۔ اس وقت مارکیٹ میں ‘اے آئی ٹیم مینجمنٹ’ نامی ایک بالکل نئے شعبے نے جنم لیا ہے۔ آنے والے وقت میں کاروباری دنیا پر ان ہی اداروں کی حکمرانی ہوگی جو اپنی سیلز فورس اور آپریشنز کو خودکار اور اسمارٹ سسٹمز پر منتقل کریں گے۔ ٹیکنالوجی اب کوئی عیاشی یا محض ایک انتخاب نہیں رہی، بلکہ موجودہ دور کے تیز ترین تقاضوں کے مطابق مارکیٹ میں بقا کی واحد شرط بن چکی ہے۔ جو کاروبار وقت کے اس بدلتے دھارے کو سمجھے گا اور اسے اپنائے گا، وہی ترقی کی منازل طے کرے گا، جبکہ روایتی طریقوں پر اصرار کرنے والے بہت جلد تاریخ کا حصہ بن جائیں گے۔



