اسلام آباد میں نور مقدم کی یاد میں خصوصی تقریب، خواتین کے تحفظ، تشدد کے خاتمے اور بااختیار بنانے پر زور
اسلام آباد میں نور مقدم کی یاد میں خصوصی تقریب، خواتین کے تحفظ، تشدد کے خاتمے اور بااختیار بنانے پر زور
اسلام آباد: وفاقی دارالحکومت میں نور مقدم کی یاد میں خصوصی یادگاری اور آگاہی تقریب کا انعقاد کیا گیا، جس میں خواتین کے خلاف تشدد کے خاتمے، ان کے بنیادی حقوق کے تحفظ اور معاشرے میں خواتین کے لیے محفوظ ماحول کی فراہمی کی ضرورت کو اجاگر کیا گیا۔
تقریب کا اہتمام نور مقدم کے والد، سابق پاکستانی سفیر شوکت علی مقدم نے کیا، جبکہ گروئنگ وومن پراسپیریٹی آرگنائزیشن نے اس سلسلے میں تعاون کیا۔ تقریب ایدھی ہوم ایچ ایٹ ون اسلام آباد میں منعقد ہوئی، جس میں مختلف شعبہ ہائے زندگی سے تعلق رکھنے والے افراد نے شرکت کی۔
تقریب کا بنیادی مقصد نور مقدم کو خراج عقیدت پیش کرنے کے ساتھ ان کے نام اور یاد کو خواتین کے خلاف تشدد کی روک تھام، صنفی مساوات اور خواتین کو بااختیار بنانے کی جدوجہد سے جوڑنا تھا۔
تقریب کا آغاز تلاوت قرآن پاک سے ہوا، جس کی سعادت ایدھی ہوم کی ایک طالبہ نے حاصل کی۔ اس موقع پر نور مقدم کے نام سے منسوب ایک خصوصی نظم بھی پیش کی گئی، جسے سعدیہ حیات خان نے پڑھا۔ نظم کے ذریعے نور مقدم کی یاد اور خواتین کے تحفظ کے حوالے سے جذبات کا اظہار کیا گیا۔
تقریب سے سارہ انعام شہید کے والد انعام الرحیم نے بھی خطاب کیا، جبکہ انجُم انور نے صنفی تشدد کے موضوع پر اپنے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے خواتین کے خلاف تشدد کے اسباب، اس کے معاشرتی اثرات اور اس کی روک تھام کی اہمیت پر روشنی ڈالی۔

اس موقع پر نور مقدم کے والد سفیر شوکت علی مقدم نے شرکاء کی آمد اور تعاون پر ان کا شکریہ ادا کیا۔
نور مقدم قتل کیس کا پس منظر
نور مقدم، سابق پاکستانی سفیر شوکت مقدم کی صاحبزادی تھیں، جنہیں 20 جولائی 2021 کو اسلام آباد میں قتل کر دیا گیا تھا۔ اس ہولناک واقعے نے پورے ملک کو ہلا کر رکھ دیا اور خواتین کے تحفظ، گھریلو و صنفی تشدد اور خواتین کے خلاف جرائم کی روک تھام سے متعلق ملک گیر بحث شروع ہوئی۔
اس مقدمے میں ظاہر جعفر کو مرکزی ملزم قرار دیا گیا، جنہیں بعد ازاں عدالت نے قتل کے جرم میں سزائے موت سنائی۔ اس واقعے نے پاکستان میں خواتین کے تحفظ اور تشدد کے خلاف مؤثر قانونی کارروائی کی ضرورت کو ایک اہم قومی مسئلے کے طور پر اجاگر کیا۔
نور مقدم کی یاد میں منعقدہ تقریب اسی عزم کی تجدید کا موقع بنی کہ خواتین کو تشدد، خوف اور امتیازی سلوک سے پاک ماحول فراہم کرنے کے لیے انفرادی، سماجی اور ادارہ جاتی سطح پر مؤثر اقدامات کیے جائیں۔
تقریب کا اختتام دعا کے ساتھ ہوا۔
