برآمدات کا فروغ مضبوط معیشت کی بنیاد ہے، علی حسام اصغر
لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایل سی سی آئی) کے صدر علی حسام اصغر نے کہا ہے کہ برآمدات کا فروغ مضبوط معیشت کی بنیاد ہے، اس لیے برآمدکنندگان کو درپیش دیرینہ رکاوٹیں بلا تاخیر دور کی جانی چاہئیں کیونکہ پائیدار معاشی ترقی کے لیے پالیسیوں میں تسلسل اور مالیاتی نظم و ضبط ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ برآمدات میں پائیدار اضافہ ملکی معیشت کے استحکام، زرمبادلہ کے ذخائر میں بہتری اور معاشی خود انحصاری کے لیے بنیادی اہمیت رکھتا ہے۔
اہم نکات
- علی حسام اصغر نے برآمدکنندگان کے مسائل کے حل اور برآمدات کے فروغ کو معاشی استحکام کے لیے لازمی قرار دیا۔
- پاکستان کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی سی ایم ای اے) کے وفد نے ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت کو درپیش چیلنجز سے آگاہ کیا۔
- حکام نے عالمی منڈی میں مسابقت، پیداواری لاگت میں اضافہ اور نمائشوں کے اخراجات کو برآمدات میں بڑی رکاوٹ قرار دیا۔
- ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت دیہی علاقوں میں ہزاروں خاندانوں کے لیے روزگار کا اہم ذریعہ ہے جسے حکومتی سرپرستی کی ضرورت ہے۔
قالین کی صنعت اور عالمی مسابقت
علی حسام اصغر نے ان خیالات کا اظہار 18 اکتوبر 2026 کو پاکستان کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن (پی سی ایم ای اے) کے پیٹرن انچیف عبد اللطیف ملک اور سینئر وائس چیئرمین خواجہ میر مدثر کی قیادت میں ملاقات کرنے والے وفد سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔ وفد میں کارپٹ ٹریننگ انسٹی ٹیوٹ کی چیئرپرسن اعجاز الرحمن، سابق چیئرمین میاں عتیق الرحمن، میجر (ر) اختر نذیر، سعید خان اور ایگزیکٹو کمیٹی کے ارکان شامل تھے۔ اس موقع پر لاہور چیمبر کے سینئر نائب صدر سردار عثمان غنی اور نائب صدر چوہدری خادم حسین بھی موجود تھے۔
برآمدی رکاوٹیں دور کرنے کا مطالبہ
پاکستان کارپٹ مینوفیکچررز اینڈ ایکسپورٹرز ایسوسی ایشن کے وفد نے لاہور چیمبر کے نومنتخب عہدیداران کو مبارکباد پیش کی اور حال ہی میں لاہور میں منعقدہ ہاتھ سے بنے قالینوں کی عالمی نمائش کے حوالے سے آگاہ کیا۔ عبد اللطیف ملک اور خواجہ میر مدثر نے کہا کہ پاکستان کی یہ روایتی صنعت روزگار کی فراہمی اور قیمتی زرمبادلہ کمانے میں اہم کردار ادا کرتی ہے، تاہم عالمی منڈی میں سخت مسابقت، پیداواری لاگت میں اضافے اور بین الاقوامی نمائشوں میں شرکت کے بھاری اخراجات کے باعث برآمدکنندگان کو مشکلات کا سامنا ہے۔ یہ امر قابل ذکر ہے کہ ترقی یافتہ ممالک موسمیاتی قرض ادا کریں اور تاریخی ذمہ داریاں پوری کریں تاکہ مقامی صنعتوں پر بوجھ کم ہو سکے۔

روایتی صنعت کا مستقبل اور حکومتی تعاون
انہوں نے مزید کہا کہ ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت دیہی علاقوں میں ہزاروں ہنرمند خاندانوں کے لیے گھر کی دہلیز پر روزگار کا ذریعہ ہے۔ اس شعبے کو نظرانداز کرنے سے نہ صرف ایک اہم برآمدی صنعت متاثر ہوگی بلکہ پاکستان کے روایتی ہنر اور ثقافتی شناخت کو بھی نقصان پہنچنے کا خدشہ ہے۔ لاہور چیمبر کے صدر علی حسام اصغر نے یقین دلایا کہ وہ متعلقہ فورمز پر صنعت و تجارت کو درپیش مسائل کے حل کے لیے آواز اٹھائیں گے۔ ملاقات میں اتفاق کیا گیا کہ ہنرمند افراد کے تحفظ اور برآمدات بڑھانے کے لیے اداروں کے درمیان روابط مزید مضبوط بنائے جائیں گے، جیسا کہ واٹس ایپ، فیس بک، انسٹاگرام کی مالک کمپنی میٹا پر برازیل کے صدارتی الیکشن پر اثر انداز ہونے کا الزام، عدالت نے کیا حکم دیا، ٹیکنالوجی کمپنیوں کا پولیٹیکل ایجنڈا کیا رنگ لائے گا جیسے معاملات کے برعکس مقامی انڈسٹری کے لیے پالیسی سازی پر توجہ دی جائے گی۔
اہم سوالات و جوابات
برآمدات کے فروغ کے لیے کون سے اقدامات ضروری ہیں؟
برآمدکنندگان کو درپیش دیرینہ رکاوٹوں کو بلا تاخیر دور کرنا اور عالمی منڈی میں مسابقت کے لیے پیداواری لاگت میں کمی لانا ضروری ہے۔
ہاتھ سے بنے قالینوں کی صنعت کیوں اہم ہے؟
یہ صنعت دیہی علاقوں میں ہزاروں ہنرمند خاندانوں کے لیے روزگار فراہم کرتی ہے اور قیمتی زرمبادلہ کمانے کا ایک اہم ذریعہ ہے۔
