پائیدار معاشی ترقی کے لیے پالیسیوں میں تسلسل اور مالیاتی نظم و ضبط ناگزیر ہے، سیف الرحمان
پائیدار معاشی ترقی کے لیے پالیسیوں میں تسلسل اور مالیاتی نظم و ضبط ناگزیر ہے، سیف الرحمان
لاہور، 18 اکتوبر: وفاقی ٹیکس محتسب کے کوآرڈینیٹر سیف الرحمان نے کہا ہے کہ پاکستان معاشی بحرانوں سے نمٹنے کے مرحلے سے آگے بڑھ کر پائیدار اقتصادی ترقی کی جانب گامزن ہے، تاہم طویل مدتی معاشی استحکام کے لیے پالیسیوں میں تسلسل، سخت مالیاتی نظم و ضبط اور مؤثر عمل درآمد ناگزیر ہے۔
تاجروں کے ایک وفد سے گفتگو کرتے ہوئے سیف الرحمان نے کہا کہ معاشی استحکام کے لیے جاری کوششوں کو پائیدار ترقی، پیداواری صلاحیت میں اضافے اور سرمایہ کاروں کے اعتماد کی بحالی میں تبدیل کرنے کے لیے ایک مستقل اور قابل اعتماد معاشی فریم ورک ضروری ہے۔
انہوں نے کہا کہ پالیسیوں میں بار بار تبدیلیوں سے کاروباری طبقے اور سرمایہ کاروں میں غیر یقینی صورتحال پیدا ہوتی ہے، جس کے نتیجے میں صنعتی توسیع، روزگار کے مواقع اور برآمدات کی مسابقتی صلاحیت متاثر ہوتی ہے۔ مؤثر حکمرانی، شفافیت اور پالیسیوں پر مستقل عمل درآمد کے ذریعے کاروباری اعتماد کو بحال کیا جا سکتا ہے۔
سیف الرحمان نے کہا کہ قومی آمدن میں اضافے اور سرکاری مالی وسائل پر دباؤ کم کرنے کے لیے ٹیکس نیٹ کو وسیع کرنا، ٹیکس قوانین پر عمل درآمد بہتر بنانا اور ٹیکس چوری کی روک تھام ضروری ہے۔ انہوں نے کہا کہ ایک سادہ، مؤثر اور پیچیدگیوں سے پاک ٹیکس نظام رضاکارانہ طور پر ٹیکس ادائیگیوں کی حوصلہ افزائی کرنے کے ساتھ کاروباری طبقے کو مساوی مواقع فراہم کر سکتا ہے۔
انہوں نے چھوٹے اور درمیانے درجے کے کاروباروں کے فروغ، سرمایہ کاری کی حوصلہ افزائی، تجارتی سرگرمیوں میں سہولت اور برآمدی صنعتوں کی معاونت پر بھی زور دیا۔ ان کا کہنا تھا کہ پائیدار اقتصادی ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے حکومتی اداروں، پالیسی سازوں اور کاروباری برادری کے درمیان قریبی رابطہ اور مؤثر ہم آہنگی ضروری ہے۔
