مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 16°C
منگل، 27 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.94 EUR/PKR 310.43 GBP/PKR 370.35 سونا/تولہ (عالمی) 416,043 PKR Bitcoin $80,025 USD/PKR 276.94 EUR/PKR 310.43 GBP/PKR 370.35 سونا/تولہ (عالمی) 416,043 PKR Bitcoin $80,025
بزنس

اڑان پاکستان، زرعی برآمدات اور ترقی کیلئے ہنگامی اقدامات ناگزیر ہیں

📅 ✍️ ⏱ 4 منٹ
نجم مزاری زرعی برآمدات بڑھانے اور اڑان پاکستان کے اہداف کے حصول پر زور دے رہے ہیں۔
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ آرگینک خوراک اور مصنوعات پر تحقیق کرنے والے ادارے کے سربراہ نجم مزاری نے زراعت کی ترقی، زرعی برآمدات کے فروغ اور عالمی منڈیوں میں پاکستانی مصنوعات کا حصہ بڑھانے کے لیے ایمر جنسی کی طرز پر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔ اڑان پاکستان کے معاشی ترقی کے اہداف کے حصول کے لیے زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے، فی ایکڑ پیداوار بڑھانے اور آرگینک زراعت و مصنوعات کی برآمدات پر خصوصی توجہ دینے کی ضرورت ہے۔ ملک میں پائیدار معاشی ترقی کے لیے پالیسیوں میں تسلسل اور مالیاتی نظم و ضبط ناگزیر ہے، جس کے لیے زراعت سب سے اہم ستون ہے۔

اہم نکات

  • اڑان پاکستان کے تحت برآمدات کو 100 ارب ڈالر تک پہنچانے کے لیے کلسٹرز کی بنیاد پر منصوبہ بندی ضروری ہے۔
  • زرعی شعبے میں سرمایہ کاری، جدید ٹیکنالوجی کا استعمال اور پیداوار کا معیار عالمی مسابقت بڑھانے میں کلیدی کردار ادا کرے گا۔
  • آرگینک زراعت کو روایتی زراعت کے متبادل کے بجائے اس کی تکمیل کے طور پر فروغ دیا جانا چاہیے۔
  • کسانوں اور برآمدکنندگان کے لیے بین الاقوامی معیار کی سرٹیفکیشن اور جدید ٹریس ایبلٹی کا نظام درکار ہے۔

زراعت میں جدید کلسٹرز اور ویلیو چینز کی اہمیت

نجم مزاری نے اپنے بیان میں کہا کہ برآمدات کو 100 ارب ڈالر تک پہنچانے کے ہدف کے حصول کے لیے اڑان پاکستان کے تحت تمام شعبوں میں کلسٹرز کی بنیاد پر منصوبہ بندی، ویلیو چینز کی تشکیل اور عالمی سپلائی چینز کے ساتھ مضبوط روابط قائم کرنے کی ضرورت ہے۔ پاکستان کو ایسے برآمدی کلسٹرز درکار ہیں جو پیداواری اداروں کو سپلائرز، ہنرمند کارکنوں، جامعات، جانچ کی تجربہ گاہوں، مالی وسائل، رسد و ترسیل کے نظام اور بین الاقوامی خریداروں سے منسلک کریں۔ یہ کلسٹرز معیشت کی ترقی میں اسی طرح اہم ہیں جیسے درآمدات میں انڈر انوائسنگ کے خلاف ملک گیر کارروائی کی جائے، افتخار علی ملک نے مطالبہ کیا تھا۔

چین پاکستان اقتصادی راہداری اور آرگینک زراعت کا کردار

انہوں نے کہا کہ چین پاکستان اقتصادی راہداری (CPEC) کے تحت زراعت کی ترقی کے وسیع امکانات موجود ہیں تاہم اس شعبے پر وہ توجہ نہیں دی گئی جس کی ملکی معیشت کو ضرورت ہے۔ آرگینک مصنوعات کی برآمدات بڑھانے کے لیے بین الاقوامی معیار کے مطابق سرٹیفکیشن، مصنوعات کی قابلِ اعتماد ٹریس ایبلٹی اور جدید جانچ کی سہولیات کو فروغ دینا ضروری ہے۔ کسانوں اور برآمدکنندگان کو آرگینک پیداوار کے جدید طریقوں، معیار برقرار رکھنے اور بین الاقوامی تقاضوں سے متعلق تربیت فراہم کی جائے، جبکہ سرٹیفکیشن کے اخراجات میں معاونت کے لیے موثر اقدامات کیے جائیں۔ اس طرح کی اصلاحات موسمیاتی چیلنجز سے نمٹنے میں بھی مددگار ثابت ہوں گی جیسے کہ ترقی یافتہ ممالک موسمیاتی قرض ادا کریں اور تاریخی ذمہ داریاں پوری کریں، شاہد عمران نے کہا ہے۔

اہم سوالات و جوابات

اڑان پاکستان کے اہداف کے لیے نجم مزاری نے کیا مطالبہ کیا ہے؟

نجم مزاری نے زراعت کو جدید خطوط پر استوار کرنے، فی ایکڑ پیداوار بڑھانے اور برآمدات کو 100 ارب ڈالر تک پہنچانے کے لیے ایمر جنسی کی طرز پر اقدامات کا مطالبہ کیا ہے۔

آرگینک زراعت کو کیسے فروغ دیا جانا چاہیے؟

آرگینک زراعت کو روایتی زراعت کے متبادل کے بجائے اس کی تکمیل کرنے والے شعبے کے طور پر فروغ دیا جانا چاہیے تاکہ محفوظ خوراک کی پیداوار اور برآمدات کے نئے مواقع پیدا ہوں۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں