مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 18°C
اتوار، 25 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 310.12 GBP/PKR 370.24 سونا/تولہ (عالمی) 414,909 PKR Bitcoin $80,663 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 310.12 GBP/PKR 370.24 سونا/تولہ (عالمی) 414,909 PKR Bitcoin $80,663
بزنس

لاہور چیمبر کی کاروبار دوست اصلاحات پر سپیکر پنجاب اسمبلی کا تعاون کا وعدہ

📅 ✍️ ⏱ 5 منٹ
سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے وفد کے ساتھ اجلاس میں کاروبار دوست اصلاحات پر گفتگو کر رہے ہیں۔ (تصویر 1)
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان نے لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (LCCI) کو یقین دلایا ہے کہ کاروباری برادری کی جانب سے ریگولیٹری نفاذ، ٹیکسیشن، صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری میں سہولت کاری سے متعلق تمام تجاویز کو متعلقہ حکام کے سامنے اٹھایا جائے گا۔ سپیکر پنجاب اسمبلی نے لاہور چیمبر کے دورے کے موقع پر کہا کہ موثر قانون سازی کے لیے اسٹیک ہولڈرز سے مشاورت ضروری ہے اور ضرورت سے زیادہ ریگولیشن سرمایہ کاری کی حوصلہ شکنی کر سکتی ہے۔

اہم نکات

  • سپیکر پنجاب اسمبلی نے کاروباری برادری کے مسائل کے حل کے لیے لاہور چیمبر کی تجاویز پر عمل درآمد کا وعدہ کیا ہے۔
  • تاجر برادری نے ایف آئی آر کلچر کے خاتمے، ہراسانی کی روک تھام اور گرفتاری کے اختیارات کے جائزے کا مطالبہ کیا ہے۔
  • وزیراعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف سرمایہ کاروں کا اعتماد بڑھانے کے لیے اقدامات کر رہے ہیں۔
  • راوی اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (RUDA) کے تحت کاروباری یونٹس پر عائد مالی بوجھ کے جائزے کی ضرورت پر زور دیا گیا ہے۔
  • بیمار صنعتی یونٹس کی بحالی کے لیے جامع سروے اور مقامی سرمایہ کاروں کو مراعات دینے کی تجویز دی گئی ہے۔

لاہور چیمبر کے صدر علی حسام اصغر، سینئر نائب صدر سردار عثمان غنی اور نائب صدر چودھری خادم حسین نے ایف آئی آر کلچر کے خاتمے، تاجروں کی تضحیک اور ہراسانی روکنے کے ساتھ ساتھ گرفتاری کے اختیارات پر نظر ثانی کی تجاویز پیش کیں۔ اجلاس میں میاں مصباح الرحمن، ناصر حمید خان، امجد علی چودھری، خواجہ شاہ زیب اکرم، سہیل نثار اور ایگزیکٹو کمیٹی کے دیگر اراکین سمیت شیخ محمد ابراہیم، شاہ بہرام، مردان علی زیدی، نائلہ ندیم، شہزاد محمود، ذوالفقار علی چودھری، طارق محمود، محمد اعجاز غوری، زمان نصیب، محمد عمیر، عبداللہ چودھری، چودھری فرغام، عدیل بابر خان، ساحر مشتاق، علی رضا، حمید رضا اور شہزاد علی شاہ نے شرکت کی۔

کاروباری برادری کی معاشی خدمات اور حکومتی عزم

سپیکر پنجاب اسمبلی نے معاشی ترقی، روزگار کے مواقع پیدا کرنے اور انفراسٹرکچر کی تعمیر میں تاجر برادری کے کردار کو سراہا۔ انہوں نے کہا کہ ٹیکس اور ریگولیٹری پالیسیاں ماہرانہ آراء اور مشاورت سے بنائی جانی چاہئیں۔ انہوں نے وزیر اعظم شہباز شریف اور وزیراعلیٰ پنجاب مریم نواز شریف کی انفراسٹرکچر، عوامی سہولیات اور سرمایہ کاری کے ماحول کو بہتر بنانے کے لیے کوششوں کو بھی اجاگر کیا۔

قانون سازی میں مشاورت کی ضرورت

سپیکر پنجاب اسمبلی ملک محمد احمد خان لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کے وفد کے ساتھ اجلاس میں کاروبار دوست اصلاحات پر گفتگو کر رہے ہیں۔ (تصویر 2)

صدر لاہور چیمبر علی حسام اصغر نے مطالبہ کیا کہ تجارت و صنعت سے متعلق قوانین بنانے سے پہلے چیمبر کو اعتماد میں لیا جائے۔ انہوں نے پنجاب ریئل اسٹیٹ ریگولیٹری اتھارٹی میں ترامیم اور پنجاب فوڈ اتھارٹی ایکٹ پر نظرثانی کی ضرورت پر زور دیا۔ انہوں نے پاکستان میں اسٹارٹ اپس اور نوجوانوں کے لیے آسان فنانسنگ کی ضرورت پر بات کرتے ہوئے کہا کہ ایک موثر گریونس ریڈریسل میکنزم قائم کیا جانا چاہیے۔

ریگولیٹری اقدامات پر تحفظات اور تجاویز

سردار عثمان غنی نے ٹولنٹن مارکیٹ میں ہونے والی کارروائی پر تنقید کرتے ہوئے کہا کہ اجتماعی سزا کے بجائے انفرادی ذمہ داری کا تعین کیا جانا چاہیے۔ انہوں نے زرعی ملک میں بھوک کا بحران سنگین اور معاشی حالات کے تناظر میں راوی اربن ڈیولپمنٹ اتھارٹی (RUDA) کی کمرشلائزیشن فیسوں کے حوالے سے 1400 ایس ایم ای یونٹس کو درپیش مشکلات کا ذکر کیا۔ میاں مصباح الرحمن نے تاجروں کے لیے عبوری ریلیف کی فراہمی پر زور دیا، جبکہ خواجہ شاہ زیب اکرم نے بیمار صنعتی یونٹس کی بحالی کے لیے جامع سروے کی تجویز پیش کی۔ آخر میں سپیکر نے رائٹ ٹو پلے پاکستان کے منصوبے ’’گولز فار ہر‘‘ کے کامیاب انعقاد کی طرح چیمبر کے ساتھ مسلسل رابطے برقرار رکھنے کا وعدہ کیا۔

اہم سوالات و جوابات

سپیکر پنجاب اسمبلی نے تاجروں کے کن مسائل کو حل کرنے کی یقین دہانی کرائی ہے؟

سپیکر نے ریگولیٹری نفاذ، ٹیکسیشن، ایف آئی آر کلچر کے خاتمے، ہراسانی کی روک تھام اور صنعتی ترقی سے متعلق تاجروں کی تجاویز کو متعلقہ حکام تک پہنچانے کا وعدہ کیا ہے۔

لاہور چیمبر نے صنعتی ترقی کے لیے کیا تجویز پیش کی ہے؟

لاہور چیمبر نے بیمار اور غیر فعال صنعتی یونٹس کی بحالی کے لیے جامع سروے کرنے اور سرمایہ کاروں کو راغب کرنے کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی تجویز دی ہے۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں