پاکستان میں اسٹارٹ اپس اور نوجوانوں کے لیے آسان فنانسنگ ضروری
لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری (LCCI) کے سینئر نائب صدر سردار عثمان غنی نے کہا ہے کہ پاکستان میں اسٹارٹ اپس، نوجوانوں اور کاروباری شعبہ سے وابستہ خواتین کے لیے آسان فنانسنگ اشد ضروری ہے تاکہ وہ اپنے منصوبوں کو عملی شکل دے سکیں اور روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے میں کردار ادا کریں۔ انہوں نے یہ خیالات یونیسف (UNICEF) کے چیف آف فیلڈ آفس، رامز بہبودوف کی قیادت میں آنے والے ایک وفد کے ساتھ ملاقات کے دوران ظاہر کیے۔
سردار عثمان غنی نے کہا کہ نئے اسٹارٹ اپس کو اکثر ابتدائی مراحل میں مالی مشکلات، کاروباری رہنمائی کے فقدان اور مارکیٹ تک رسائی میں دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔ ان رکاوٹوں کو دور کرنے کے لیے آسان شرائط پر قرضوں اور دیگر مالی سہولیات کی فراہمی نہایت اہمیت رکھتی ہے، جس سے خود روزگاری کو فروغ ملے گا۔ اسی تناظر میں رائٹ ٹو پلے پاکستان کے منصوبے ’’گولز فار ہر‘‘ کا اختتام، لڑکیوں کی فٹ بال میں شرکت اور صلاحیتوں کا جشن جیسے اقدامات سے نوجوانوں میں اعتماد پیدا ہوتا ہے۔
اہم نکات
- اسٹارٹ اپس، نوجوانوں اور کاروباری خواتین کو اپنے آئیڈیاز کو حقیقت میں بدلنے کے لیے سستی مالی معاونت کی ضرورت ہے۔
- نوجوانوں کو محض ملازمت کے متلاشی کے بجائے انہیں خود روزگار کے مواقع پیدا کرنے والے ‘جاب کریٹرز’ بنانا وقت کی ضرورت ہے۔
- خواتین کی معاشی سرگرمیوں میں شمولیت بڑھانے سے قومی معیشت میں بہتری اور خاندانوں کی آمدنی میں اضافہ ممکن ہے۔
- مالیاتی اداروں، نجی شعبے اور بین الاقوامی ترقیاتی تنظیموں کے درمیان باہمی تعاون معاشی ترقی کے لیے ناگزیر ہے۔
نوجوانوں کی معاشی شمولیت اور ترقی کی راہ
سردار عثمان غنی نے مزید کہا کہ نوجوانوں کو صرف ملازمت کے حصول تک محدود نہیں رہنا چاہیے، بلکہ انہیں جدت پسند کاروباری بننے کے لیے حوصلہ افزائی کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے مالیاتی اداروں، سرکاری محکموں، نجی شعبے اور بین الاقوامی ترقیاتی تنظیموں کے مابین ایک مضبوط نیٹ ورک کا قیام ضروری ہے۔ جیسا کہ پاکستان اور عمان کا مختلف شعبوں میں دوطرفہ تعاون بڑھانے پر اتفاق ہوا ہے، اسی طرح کی شراکت داری نوجوانوں کو عالمی معیار کے مواقع فراہم کر سکتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کی نوجوان نسل ایک قیمتی قومی اثاثہ ہے جس کی صلاحیتوں کو درست سمت دینے کی ضرورت ہے۔ اس سلسلے میں انہوں نے امید ظاہر کی کہ یونیسف جیسے اداروں کے ساتھ تعاون سے نوجوانوں کی ترقی، معاشی شمولیت اور کاروباری مواقع کے حصول میں مدد ملے گی۔
یونیسف کا موقف اور باہمی تعاون
یونیسف کے چیف آف فیلڈ آفس، رامز بہبودوف نے بھی سردار عثمان غنی کے خیالات کی مکمل تائید کی اور مختلف شعبوں کے درمیان تعاون کو نوجوانوں کی صلاحیتوں کو نکھارنے کے لیے ناگزیر قرار دیا۔ انہوں نے کہا کہ نوجوانوں کو بااختیار بنانا اور انہیں معاشی عمل کا حصہ بنانا یونیسف کی ترجیحات میں شامل ہے۔
ملاقات کے دوران رامز بہبودوف نے سردار عثمان غنی کو پاکستان میں جاری یونیسف کی سرگرمیوں اور ترقیاتی پروگراموں کے بارے میں بریفنگ بھی دی۔ دونوں رہنماؤں نے اس بات پر اتفاق کیا کہ وزیر اعظم شہباز شریف کا روس کے ساتھ دوستانہ تعلقات مستحکم کرنے کا اعادہ اور دیگر خارجہ پالیسی کے اقدامات کے ساتھ ساتھ مقامی سطح پر معاشی استحکام کے لیے ٹھوس اقدامات بھی ضروری ہیں۔
اہم سوالات و جوابات
اسٹارٹ اپس کو کن اہم چیلنجز کا سامنا ہے؟
سردار عثمان غنی کے مطابق اسٹارٹ اپس کو ابتدائی مراحل میں مالی مشکلات، کاروباری رہنمائی کے فقدان اور مارکیٹ تک پہنچنے میں شدید دشواریوں کا سامنا کرنا پڑتا ہے۔
خواتین کی معاشی شمولیت کے فوائد کیا ہیں؟
خواتین کاروباری افراد کی شمولیت سے نہ صرف ان کے گھرانوں کی معاشی حالت بہتر ہوتی ہے بلکہ یہ مجموعی قومی معیشت کی مضبوطی کا بھی باعث بنتی ہے۔
