مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 20°C
پیر، 26 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.94 EUR/PKR 310.43 GBP/PKR 370.35 سونا/تولہ (عالمی) 416,635 PKR Bitcoin $79,465 USD/PKR 276.94 EUR/PKR 310.43 GBP/PKR 370.35 سونا/تولہ (عالمی) 416,635 PKR Bitcoin $79,465
بزنس

پاکستان کے قرض و واجبات 100 کھرب روپے تک پہنچنا تشویشناک

📅 ✍️ ⏱ 4 منٹ
پاکستان کے قرض و واجبات 100 کھرب روپے تک پہنچنا تشویشناک
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان انڈسٹری اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایٹڈ فرنٹ (پیاف) کے بانی میاں شفقت علی، پیٹرن چیف انجینئر سہیل لاشاری، چیئرمین سید محمود غزنوی، سینئر وائس چیئرمین خواجہ کاشف الٰہی، وائس چیئرمین راجہ وسیم حسن اور چیئرمین ایسوسی ایٹ کلاس فرخ احسان خان نے اپنے مشترکہ بیان میں پاکستان کے مجموعی قرض و واجبات کے 100 کھرب روپے کے قریب پہنچنے پر شدید تشویش کا اظہار کرتے ہوئے حکومت پر زور دیا ہے کہ معیشت کو مسلسل قرض لینے کے رجحان سے نکالنے کے لیے ہنگامی اور پائیدار معاشی اصلاحات کی جائیں۔

قرضوں کا بوجھ ملکی معیشت کے لیے سنجیدہ چیلنج

پیاف کے عہدیداروں نے کہا کہ مالی سال 2025-26 کے اختتام پر پاکستان کے مجموعی قرض و واجبات تقریباً 99.6 ٹریلین روپے تک پہنچ گئے ہیں۔ ایک سال کے دوران قرض و واجبات میں تقریباً 5.2 ٹریلین روپے کا اضافہ ہوا ہے جو ملکی معیشت کے لیے ایک سنجیدہ چیلنج ہے۔ مجموعی قرض و واجبات کا تقریباً 87 فیصد حصہ عوامی قرض پر مشتمل ہے جس سے قرضوں کی ادائیگی اور سود کی لاگت کا بوجھ قومی وسائل پر بڑھ رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ مرکزی حکومت کا قرض بھی جون 2026 کے اختتام پر 83.64 ٹریلین روپے تک پہنچ چکا ہے۔

معیشت کو قرض کے چکر سے باہر نکالنا ہوگا

انہوں نے زور دیا کہ حکومت صرف قرضوں میں اضافے پر توجہ مرکوز نہ کرے بلکہ برآمدات، سرمایہ کاری اور صنعتی پیداوار میں پائیدار اضافہ بھی ناگزیر ہے۔ جیسا کہ گندم پالیسی پر نظرثانی اور کسانوں کو لاگت کے مطابق مناسب قیمت دی جائے، شاہد عمران نے کہا کہ معاشی استحکام کے لیے ٹھوس اقدامات درکار ہیں۔ حکومت کو غیر پیداواری اخراجات میں کمی، ٹیکس نیٹ میں توسیع اور سرکاری اداروں میں اصلاحات پر توجہ دینا ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ معیشت کو قرضوں کے ذریعے چلانے کے بجائے برآمدات اور نجی سرمایہ کاری کو معاشی ترقی کا بنیادی ذریعہ بنایا جائے۔

ترقیاتی منصوبوں پر توجہ اور طویل المدتی پالیسی

پیاف کے عہدیداروں نے کہا کہ قرضوں کا بڑا حصہ اگر ترقیاتی اور پیداواری منصوبوں کے بجائے جاری اخراجات میں استعمال ہو تو اس سے مستقبل کی نسلوں پر مالی بوجھ بڑھتا ہے۔ انہوں نے حکومت پر زور دیا کہ بیرونی قرضوں کے حصول کے ساتھ ساتھ قرضوں کے موثر استعمال اور بروقت واپسی کے لیے واضح حکمت عملی مرتب کی جائے۔ کاروباری سرگرمیوں میں آسانیاں پیدا کرکے مقامی اور غیر ملکی سرمایہ کاری میں اضافہ کیا جا سکتا ہے۔ اس ضمن میں ڈیجیٹل تجارت علاقائی اقتصادی ترقی اور مشترکہ خوشحالی کا نیا ذریعہ ہے، میاں کاشف اشفاق نے بھی معاشی بہتری کے لیے نئے مواقع پر زور دیا ہے۔

آخر میں پیاف کے عہدیداروں نے مطالبہ کیا کہ حکومت نجی شعبے کو اعتماد میں لے کر طویل المدتی معاشی پالیسی تشکیل دے۔ انہوں نے کہا کہ مستحکم معیشت، بڑھتی ہوئی برآمدات اور وسیع ٹیکس بیس ہی ملک کو قرضوں کے بوجھ سے مستقل نجات دلا سکتے ہیں، جبکہ اے آئی سافٹ ویئر شعبے میں انقلاب لا رہی ہے، ڈیجیٹل مہارتوں کو جدید تقاضوں سے ہم آہنگ کرنا ہوگا، سیف الرحمن کے مطابق جدید ٹیکنالوجی کا فروغ بھی معاشی ترقی کے لیے کلیدی حیثیت رکھتا ہے۔

تازہ خبروں کے لیے دوست نیوز کو فالو کریں
🏛️ GOVERNMENT PROJECT

PHA Foundation Flats

Sector I-16, Islamabad

✅ Officially Approved
✅ Easy Installments
✅ No Hidden Charges
Starting from
PKR 60 Lac
View Details →
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں