پاکستان کی برآمدات میں جمود کا ذمہ دار ادارہ جاتی کمزوریاں ہیں، پیاف
لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان انڈسٹری اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن فرنٹ (پیاف) کے بانی میاں شفقت علی، پیٹرن چیف انجینئر سہیل لاشاری، چیئرمین سید محمود غزنوی، سینئر وائس چیئرمین خواجہ کاشف الٰہی، وائس چیئرمین راجہ وسیم حسن اور چیئرمین ایسوسی ایٹ کلاس فرخ احسان خان نے اپنے ایک مشترکہ بیان میں ملکی برآمدات میں مسلسل جمود پر گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے واضح کیا کہ پاکستان کی برآمدات میں مطلوبہ اضافہ نہ ہونے کی ایک بڑی وجہ ادارہ جاتی کمزوری، غیر موثر پالیسیاں اور ایکسپورٹ پروموشن کے نظام میں جوابدہی کا فقدان ہے۔
برآمدات بڑھانے کے لیے واضح اہداف کا تعین
پیاف کے رہنماؤں کا کہنا تھا کہ پاکستان کو اپنی برآمدات کو عالمی معیار پر لانے کے لیے ایک ایسے جدید نظام کی اشد ضرورت ہے جس میں ٹریڈ ڈویلپمنٹ اتھارٹی، بیرون ملک تعینات کمرشل مشنز اور دیگر متعلقہ اداروں کے لیے واضح اور ٹھوس اہداف مقرر کیے جائیں۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ نئے خریداروں کا حصول، نئی منڈیوں تک رسائی، طویل مدتی برآمدی معاہدوں میں اضافہ اور تجارتی رکاوٹوں کا خاتمہ ہی کارکردگی جانچنے کے بنیادی پیمانے ہونے چاہئیں۔ سرکاری اداروں کو براہ راست ٹھیکے دینے کا عمل محدود کیا جائے، تاہم اس کے ساتھ برآمدی امور میں شفافیت کو یقینی بنانا وقت کی اہم ضرورت ہے۔
کمرشل مشنز کا کردار اور احتساب
رہنماؤں نے کہا کہ قومی خزانے سے ایکسپورٹ پروموشن پر خطیر وسائل خرچ کیے جا رہے ہیں، تاہم ان اخراجات کے مقابلے میں برآمدی نتائج کا باقاعدہ اور شفاف جائزہ انتہائی ضروری ہے۔ بیرون ملک تعینات کمرشل کونسلرز کو محض روایتی سفارتی اور انتظامی ذمہ داریوں تک محدود رکھنے کے بجائے انہیں پاکستانی مصنوعات کے لیے نئی منڈیاں تلاش کرنے، غیر ملکی خریداروں سے براہ راست روابط بڑھانے اور مقامی برآمد کنندگان کو کاروباری مواقع فراہم کرنے کا واضح ٹاسک دیا جائے۔ یاد رہے کہ خواجہ آصف کا بیوروکریسی پر ایک بار پھر وار ہو چکا ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ موجودہ حکومتی ڈھانچے میں اصلاحات کی کتنی گنجائش موجود ہے۔
ڈیجیٹل نظام اور کاروباری لاگت میں کمی
پیاف کے عہدیداران نے مزید کہا کہ برآمد کنندگان کو اکثر سرکاری اداروں کے پیچیدہ طریقہ کار، غیر ضروری کاغذی کارروائی اور تاخیر کا سامنا کرنا پڑتا ہے، جس سے کاروباری لاگت میں اضافہ ہوتا ہے اور عالمی منڈی میں پاکستانی مصنوعات کی مسابقت متاثر ہوتی ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ پاکستان سنگل ونڈو سمیت ڈیجیٹل نظام کو مزید فعال اور مربوط بنا کر تمام متعلقہ اداروں کے طریقہ کار کو آسان اور تیز بنایا جائے۔
زیرو بیسڈ ادارہ جاتی جائزہ کی ضرورت
آخر میں انہوں نے تجویز دی کہ وزارت تجارت اور دیگر متعلقہ ادارے ایک جامع زیرو بیسڈ ادارہ جاتی جائزہ کرائیں تاکہ یہ معلوم ہوسکے کہ کون سا ادارہ برآمدات میں حقیقی اضافے کا باعث بن رہا ہے اور کہاں اختیارات اور ذمہ داریوں میں غیر ضروری تکرار موجود ہے۔ اس سے قبل سعودی وزیر عبدالرحمٰن الفضلی کے دورہ سے زرعی و تجارتی تعاون کو فروغ ملے گا، جس کے ثمرات تبھی ملیں گے جب ہمارے اپنے ادارے موثر طریقے سے کام کریں گے۔
