صدر مملکت آصف علی زرداری کا کیٹی بندر پورٹ کی ترقی پر زور
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ صدر مملکت آصف علی زرداری نے کیٹی بندر پورٹ کی ترقی کے لیے مربوط حکمتِ عملی اختیار کرنے پر زور دیتے ہوئے کہا ہے کہ منصوبے کو قابلِ اعتماد سڑکوں کے رابطے، بجلی و پانی کی فراہمی، صنعتی بنیادی ڈھانچے اور دیگر ضروری سہولیات سے منسلک کیا جانا چاہیے۔ پیر کو ایوان صدر کے پریس ونگ سے جاری بیان کے مطابق صدر مملکت نے ان خیالات کا اظہار چائنا ہاربر انجینئرنگ کمپنی (سی ایچ ای سی) کی جانب سے کیٹی بندر پورٹ کی مجوزہ ترقی کے حوالے سے دی گئی بریفنگ کے دوران کیا۔
کیٹی بندر پورٹ: پاکستان کے لیے تزویراتی اہمیت کا حامل منصوبہ
انہوں نے چینی وفد کا خیرمقدم کرتے ہوئے پاکستان کے بنیادی ڈھانچے اور بحری ترقی میں تعاون کے لیے چین کی مسلسل دلچسپی کو سراہا۔ صدر مملکت نے کہا کہ کیٹی بندر میں ایک اضافی بحری گیٹ وے کے طور پر نمایاں صلاحیت موجود ہے جو پاکستان کے پورٹ اور لاجسٹکس نیٹ ورک کو مضبوط بنانے، رابطہ کاری اور تجارت کو فروغ دینے میں معاون ثابت ہو سکتی ہے۔ ایکنک نے لاہور–ساہیوال–بہاولنگر موٹروے منصوبے کی منظوری دے دی، جس کے بعد کیٹی بندر جیسے منصوبے ملکی معیشت کے لیے ریڑھ کی ہڈی کی حیثیت رکھیں گے۔ انہوں نے چینی فریق اور متعلقہ پاکستانی اداروں کے درمیان قریبی تکنیکی رابطہ کاری کی ضرورت پر زور دیا۔
ماحولیاتی تحفظ اور مقامی آبادی کے مفادات
صدر مملکت نے اس امر پر بھی زور دیا کہ ماحولیاتی پائیداری کو بنیادی اہمیت حاصل ہونی چاہیے بالخصوص دریائے سندھ کے ڈیلٹا کے نازک ماحولیاتی نظام کے تحفظ اور مقامی ماہی گیر برادریوں کے مفادات اور روزگار کو مدنظر رکھا جائے۔ صدر زرداری کی سعودی سفیر نواف بن سعید المالکی کی پاک سعودی تعلقات کے فروغ میں خدمات کی تعریف کے بعد اب ان کی توجہ ملکی بندرگاہوں کی ترقی پر مرکوز ہے۔ صدر مملکت نے ماسٹر پلان کو مزید بہتر بنانے اور اس پر عملدرآمد و مالی معاونت کے مناسب طریقہ کار کی نشاندہی کے لیے مسلسل تکنیکی مشاورت کی حوصلہ افزائی کی۔
منصوبے کی تکنیکی تفصیلات
چینی وفد نے کیٹی بندر پورٹ کے تصوراتی ماسٹر پلان پر بریفنگ دی جس میں متعدد ٹرمینلز، لاجسٹکس اور معاون بنیادی ڈھانچے کے ساتھ ایک نئے ڈیپ واٹر میری ٹائم گیٹ وے کا تصور پیش کیا گیا ہے۔ پہلے مرحلے میں 500 میٹر طویل کوے پر مشتمل کثیر المقاصد ٹرمینل شامل ہے جبکہ ابتدائی انجینئرنگ لاگت کا تخمینہ تقریباً 522.34 ملین امریکی ڈالر لگایا گیا ہے۔ سرکاری و پرائیویٹ حج سکیم کے واجبات کی وصولی جاری ہے تاہم حکومت اس وقت بڑے انفراسٹرکچر منصوبوں پر سرمایہ کاری کے لیے پرعزم ہے۔
اجلاس میں شرکت
چینی وفد میں پاکستان میں سی ایچ ای سی کے چیف نمائندے وو پنگ، مارکیٹنگ ڈیپارٹمنٹ کے سربراہ وانگ زونگ ڈے اور انجینئر شو تیے لِن کے علاوہ سٹریٹجی اینڈ مارکیٹنگ کے جنرل منیجر علی رضا شامل تھے۔ اجلاس میں وزیراعلیٰ سندھ سید مراد علی شاہ، سینیٹرز سلیم مانڈوی والا اور شیری رحمان، سندھ کے وزیر برائے توانائی، منصوبہ بندی و ترقی ناصر حسین شاہ، وزیراعلیٰ سندھ کے سرمایہ کاری اور پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے لیے معاونِ خصوصی سید قاسم نوید قمر اور چیف سیکرٹری سندھ سید آصف حیدر شاہ نے بھی شرکت کی۔
