گوگل کا پاکستان میں دفتر، ڈیجیٹل معیشت کے فروغ کیلئے سنگِ میل

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے انفارمیشن ٹیکنالوجی و ٹیلی کمیونیکیشن شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا ہے کہ پاکستان میں گوگل کے پہلے دفتر کا قیام ملک میں ٹیکنالوجی کے شعبے کے لئے نئے ٹیلنٹ کو مضبوط بنانے اور مقامی ٹیکنالوجی ایکو سسٹم کو مزید معاونت فراہم کرنے میں اہم کردار ادا کرے گا۔ آئی ٹی برآمدات گزشتہ اڑھائی برس کے دوران مسلسل تقریباً 20 فیصد کی شرح سے بڑھ رہی ہیں جو نجی شعبے میں ترقی کی عکاسی کرتی ہیں۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے بدھ کو پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے کیا۔
گوگل کی پاکستان میں موجودگی پر اعتماد کا اظہار
وفاقی وزیر نے امید ظاہر کی کہ گوگل کا دفتر پاکستان کے ٹیک ٹیلنٹ کو فروغ دینے، عالمی ٹیکنالوجی شعبے اور مقامی ٹیکنالوجی ایکو سسٹم دونوں کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔ انہوں نے کہا کہ گوگل سمیت دیگر بڑی عالمی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی پاکستان میں موجودگی مزید عالمی کمپنیوں کو ملک میں اپنے آپریشنز قائم کرنے کی ترغیب دے گی، بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کی پاکستان آمد اور ان کی عملی موجودگی عالمی ٹیک کمپنیوں کے پاکستان کی معیشت اور قیادت پر اعتماد کی عکاس ہے۔ شزہ فاطمہ خواجہ نے کہا کہ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے گزشتہ دو برس کے دوران ڈیجیٹل تبدیلی کے ایجنڈے کی ذاتی طور پر قیادت کی اور ’’ڈیجیٹل نیشن پاکستان‘‘ اقدام کے ذریعے اس حوالے سے واضح روڈ میپ فراہم کیا۔ وزیر مملکت برائے داخلہ سے گوگل کے سینئر ڈائریکٹر کی ملاقات، باہمی تعاون کے امور پر تبادلہ خیال کے تسلسل میں یہ پیشرفت ایک اہم قدم ہے۔
معاشی اصلاحات اور آئی ٹی برآمدات میں اضافہ
وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ دو برسوں کے دوران وفاقی حکومت کی ڈیجیٹلائزیشن، ایف بی آر اور ریونیو کے شعبے میں اصلاحات، ڈیجیٹل معیشت، کیش لیس ادائیگیوں اور ڈیجیٹل گورننس میں نمایاں پیشرفت ہوئی ہے۔ ملک کی فری لانسنگ معیشت بھی رواں سال ایک ارب ڈالر سے تجاوز کر چکی ہے۔ انہوں نے کہا کہ بجٹ میں آئی ٹی صنعت کو خصوصی مراعات دی گئی ہیں جن میں برآمدات کے لئے فائنل ٹیکس رجیم اور برآمدات پر 0.25 فیصد ٹیکس کا نفاذ شامل ہے۔ انہوں نے حکومت کے تمام اداروں کے مشترکہ تعاون اور بلوچستان میں امن و ترقی کے لیے وفاقی و صوبائی حکومتوں کے روابط ضروری ہیں، صدر زرداری کی وزیر اعلی سے گفتگو جیسے اقدامات کی طرز پر اسپیشل انویسٹمنٹ فیسیلیٹیشن کونسل (SIFC) کے کردار کو بھی اجاگر کیا جس کے نتیجے میں گوگل کا دفتر قائم کرنا ممکن ہوا۔
گوگل کے ساتھ شراکت داری اور تربیتی پروگرام
گوگل کے ساتھ حکومتی شراکت داری کا ذکر کرتے ہوئے وفاقی وزیر نے کہا کہ پاکستان میں تقریباً 3 لاکھ 50 ہزار گوگل سرٹیفیکیشنز مکمل کئے جا چکے ہیں۔ حکومت گوگل ڈویلپرز گروپ کے ساتھ مل کر شروع کئے گئے ’’اے آئی سیکھو‘‘ پروگرام میں 17 ہزار سے زائد ٹیموں کی شرکت کو سراہتی ہے، جن میں خواتین کی شرکت 25 فیصد رہی۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ گزشتہ سال پاکستان میں کروم بک کی اسمبلی لائن کا بھی افتتاح کیا گیا تھا، گوگل کروم بکس اب مقامی سطح پر اسمبل کئے جا رہے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جولائی میں پاکستان نے 417 ملین ڈالر کی آئی ٹی برآمدات ریکارڈ کیں جو کہ سالانہ بنیادوں پر 18 فیصد اضافہ ہے۔ ٹیکنالوجی برآمدات کا تجارتی سرپلس 85 سے 86 فیصد ہے جس کے باعث وفاقی وزیر ریاض حسین پیرزادہ کا تعمیراتی منصوبوں میں تاخیر پر اظہار برہمی جیسے معاملات کے برعکس آئی ٹی شعبہ ملک کی معیشت میں کلیدی کردار ادا کر رہا ہے۔
