علاج کی سہولیات ہر قیدی کا حق ہیں، طلال چوہدری کا بیان

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے داخلہ طلال چوہدری نے واضح کیا ہے کہ علاج کی بہتر سہولیات ہر قیدی کا بنیادی حق ہیں اور مسلم لیگ (ن) نے کبھی بھی صحت کے حساس معاملے پر سیاست نہیں کی۔ انہوں نے کہا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار کی زیر صدارت شنگھائی تعاون تنظیم اجلاس تیاری کے دوران بھی حکومتی موقف یہی رہا ہے کہ اداروں کا استحکام ہی ملکی ترقی کا ضامن ہے۔ بدھ کے روز وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات عطاء اللہ تارڑ کے ہمراہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے طلال چوہدری نے کہا کہ حکومت کا پہلے دن سے واضح موقف ہے کہ قیدیوں سے ملاقاتوں کا فیصلہ جیل مینوئل اور عدالتی احکامات کے مطابق ہی ہوگا۔
سیاسی مخالفین کا طرز عمل
انہوں نے کہا کہ بیگم کلثوم نواز کی بیماری کے دوران پی ٹی آئی کی جانب سے جس کم ظرفی کا مظاہرہ کیا گیا وہ سب کے سامنے ہے، بیماری کا مذاق اڑانا اور اسے سیاسی مقاصد کے لیے استعمال کرنا پی ٹی آئی کا وطیرہ رہا ہے۔ طلال چوہدری نے کہا کہ ہماری قیادت نے ہمیشہ ظرف اور کردار کا مظاہرہ کیا، کسی کی میڈیکل رپورٹس یا بیماری پر سیاست نہیں کی اور نہ ہی آئندہ کریں گے۔ یاد رہے کہ اس سے قبل پاکستان کی اسرائیلی فوج کے شام پر حملے کی شدید مذمت جیسے قومی امور پر حکومت نے ہمیشہ متفقہ موقف اپنایا ہے۔
ہمدردی کا کارڈ اور حقائق
طلال چوہدری نے کہا کہ تمام سیاسی حربے استعمال کرنے کے بعد بانی پی ٹی آئی کے پاس اب صرف ہمدردی کا کارڈ رہ گیا ہے، بچوں سے ملاقات، بیماری اور جان کو خطرے جیسے معاملات کو سیاسی بیانیے کے طور پر استعمال کیا جا رہا ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ عدالت نے بھی اپنے فیصلے میں واضح کیا کہ ریلیف ملنے کے بعد سیاست نہیں کی جائے گی۔ انہوں نے کہا کہ عدالت نے اگر کسی قیدی کو ریلیف دیا ہے تو یہ اس کا اختیار ہے اور حکومت کو اس پر کوئی اعتراض نہیں تاہم اس فیصلے کو سیاسی رنگ دینے سے گریز کیا جانا چاہیے۔
عوامی کارکردگی پر توجہ کی ضرورت
وزیر مملکت نے کہا کہ پہلے کہا گیا کہ بانی پی ٹی آئی ہسپتال جائیں گے، پھر بنی گالا، نتھیا گلی اور دیگر مقامات کی باتیں کی گئیں لیکن حقیقت یہ ہے کہ وہ جیل سے متعلق عدالتی فیصلے کے مطابق ہی رہیں گے۔ انہوں نے کہا کہ پی ٹی آئی کو اپنی سیاست کا محور این آر او، ترامیم اور بیماری کے بجائے عوامی کارکردگی کو بنانا چاہیے، خیبر پختونخوا میں 17 سال سے حکومت کے باوجود عوام کو کیا دیا گیا، اس کا جواب بھی دیا جائے۔ انہوں نے بیرون ملک مقیم ولاگرز کی جانب سے سنسنی خیز دعووں کو مسترد کرتے ہوئے کہا کہ ان کا مقصد صرف ڈالر کمانا ہے۔ اس حوالے سے لیسکو میں کوئی نو گو ایریا نہیں، ریکوری 101 فیصد، اووربلنگ صفر ہے، چیف انجینئر رمضان بٹ کے مطابق ادارے اب اپنی کارکردگی بہتر بنانے پر توجہ مرکوز کیے ہوئے ہیں۔ طلال چوہدری نے آخر میں کہا کہ پاکستان کے ریاستی ادارے اور سیاسی قیادت ملک کو درپیش مسائل کے حل کے لیے مل کر کام کر رہے ہیں اور عدالت کے فیصلے کے پیچھے کوئی خفیہ کہانی یا این آر او نہیں ہے۔
