تنگہ ہرمز اور باب المندب میں بڑھتے ہوئے سیکیورٹی خدشات، چین کا بڑا فیصلہ

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ مشرقِ وسطیٰ میں مسلسل کشیدہ ہوتی جیو پولیٹیکل صورتحال اور سمندری راستوں پر منڈلاتے خطرات کے پیشِ نظر، چین کی دو سب سے بڑی ریاستی شپنگ کمپنیوں کوسکو (COSCO) اور چائنا مرچنٹس انرجی شپنگ (CMES) نے عالمی توانائی کی ترسیل کے انتہائی حساس راستوں تنگہ ہرمز (Strait of Hormuz) اور باب المندب (Bab al-Mandeb) سے اپنے تیل بردار جہازوں (Oil Tankers) کی آمدورفت عارضی طور پر روک دی ہے۔ بحری امور کے بین الاقوامی ماہرین اور شپنگ انڈسٹری کے مطابق، چینی کمپنیوں کی جانب سے اٹھایا گیا یہ قدم غیر معمولی اہمیت کا حامل ہے، کیونکہ اس سے قبل مغربی ممالک کی شپنگ کمپنیوں کی جانب سے راستے تبدیل کیے جانے کے باوجود چینی جہاز ان شاہراہوں کو استعمال کر رہے تھے۔ اسلام آباد میں پانی کی قلت دور کرنے کیلئے دو نئے ڈیم جیسے بنیادی ڈھانچے کے منصوبوں کے برعکس، یہ فیصلہ براہ راست عالمی تجارت سے جڑا ہے۔
سیکیورٹی خدشات اور حکمتِ عملی میں تبدیلی
تنگہ ہرمز اور بحرِ احمر کو خلیج عدن سے ملانے والے باب المندب کے حساس راستوں پر بڑھتی ہوئی جنگی کارروائیوں اور ڈرون و میزائل حملوں کے خطرات کے باعث چینی بحری جہازوں نے اپنی حکمتِ عملی تبدیل کر لی ہے۔ کوسکو اور سی ایم ای ایس اب خلیج کے اندر داخل ہونے کے بجائے آبنائے ہرمز کے باہر قائم بندرگاہوں، جیسے کہ فجیرہ (یو اے ای) اور عمان کی بندرگاہوں سے خام تیل اور دیگر ایندھن کے کارگو حاصل کر رہے ہیں۔ اس قدم کا بنیادی مقصد عملے اور قیمتی بحری بیڑوں کی سلامتی کو یقینی بنانا ہے۔ یاد رہے کہ معاشی استحکام کے لیے بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں، مدثر مسعود چوہدری کی جانب سے بھی خطے میں معاشی استحکام پر زور دیا جاتا رہا ہے جس کا دارومدار انہی سمندری راستوں پر ہے۔
عالمی معیشت اور سپلائی چین پر ممکنہ اثرات
معاشی ماہرین کے مطابق، چینی کمپنیوں کا یہ فیصلہ عالمی توانائی کی منڈی اور مال برداری کی قیمتوں (Freight Rates) پر گہرے اثرات مرتب کر سکتا ہے۔ اس فیصلے سے خلیج فارس میں کام کرنے والے ٹینکرز کے لیے وار-رسک پریمیئم (War-Risk Premium) اور انشورنس کی لاگت میں زبردست اضافہ ہو گا۔ افریقہ کے گرد دراز راستوں (Cape of Good Hope) کے ذریعے جہازوں کو موڑنے کی صورت میں ایندھن کی ترسیل کا دورانیہ 10 سے 14 دن تک بڑھ جائے گا، جس سے سپلائی چین مزید متاثر ہوگی۔ اگرچہ اس سے فی الحال تیل کی پیداوار بند نہیں ہوئی، تاہم بحری سفر کی طوالت اور ترسیل میں رکاوٹیں عالمی مارکیٹ میں خام تیل کی قیمتوں میں عارضی تحرک پیدا کر سکتی ہیں۔
خطے میں بگڑتی ہوئی صورتحال
تنگہ ہرمز وہ بحری شاہراہ ہے جہاں سے دنیا کے کل خام تیل کا تقریباً 20 فیصد گزرتا ہے، جبکہ باب المندب سوئز نہر کے ذریعے یورپ اور ایشیا کے درمیان تجارت کا بنیادی ذریعہ ہے۔ چینی کمپنیوں، جو کہ روایتی طور پر خطے میں غیر جانبدارانہ حیثیت کا فائدہ اٹھاتی رہی ہیں، کا یہ انخلاء اس بات کی نشاندہی کرتا ہے کہ خطے میں بحری سلامتی کی صورتحال کس حد تک سنگین ہو چکی ہے۔ تجزیہ کاروں کے مطابق، آنے والے دنوں میں اگر سیکورٹی حالات بہتر نہ ہوئے تو دیگر ایشیائی اور عالمی شپنگ کمپنیاں بھی اپنے آئل ٹینکرز کو ان راستوں سے مکمل طور پر ہٹا سکتی ہیں، جس سے عالمی انرجی سیکٹر ایک نئے بحران کا شکار ہو سکتا ہے۔ اس ضمن میں حکومتیں اور ادارے ہنرمند نوجوانوں کو روزگار کی فراہمی حکومت کی اولین ترجیح، شہبازشریف جیسے اقدامات کے ذریعے معاشی بحالی کے لیے کوشاں ہیں، تاہم سمندری راستوں کی بندش اس عمل کو متاثر کر سکتی ہے۔
