اسلام آباد میں پانی کی قلت دور کرنے کیلئے دو نئے ڈیم

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وزیر مملکت برائے داخلہ طلال چوہدری نے کہا ہے کہ اسلام آباد میں پانی کی کمی کو پورا کرنے کے لیے دو نئے ڈیمز آئندہ چار سال میں مکمل کر لیے جائیں گے، جس کے ساتھ ساتھ شہر بھر میں پرانی پائپ لائنوں کو تبدیل کرنے کا عمل بھی شروع کیا جا رہا ہے۔ منگل کو قومی اسمبلی میں تمکین اختر نیازی اور دیگر کے اسلام آباد میں پانی کی بڑھتی ہوئی قلت، پانی صاف کرنے اور دوبارہ قابل استعمال بنانے کے پلانٹس کی تنصیب کی ضرورت سے متعلق توجہ دلاؤ نوٹس پر وزیر مملکت برائے داخلہ نے ایوان کو تفصیلی بریفنگ دی۔
پانی کی قلت اور نئے ڈیموں کی تعمیر
وزیر مملکت نے ایوان کو بتایا کہ اسلام آباد میں پانی کا مجموعی استعمال 240 ملین گیلن یومیہ ہے، جبکہ اس وقت صرف 80 ملین گیلن پانی دستیاب ہے۔ انہوں نے کہا کہ اس ضرورت کو پورا کرنے کے لیے واپڈا کے ذریعے شادرہ ڈیم اور دوتارا ڈیم کی تعمیر کے لیے فزیبلٹی سٹڈی کروائی جا رہی ہے۔ ان منصوبوں کی تکمیل تین سے چار سال میں متوقع ہے، جس سے آئندہ 30 سے 40 سال تک اسلام آباد کی پانی کی ضروریات پوری ہوں گی۔ یہ اقدامات معاشی استحکام کے لیے بنیادی اصلاحات کے تسلسل کا حصہ ہیں، جس کے تحت شہری سہولیات کو بہتر بنایا جا رہا ہے۔
قوانین میں تبدیلی اور پانی کا ضیاع
طلال چوہدری نے مزید کہا کہ ہم نے قوانین میں بڑی تبدیلی کی ہے کیونکہ شہر میں زیر زمین پانی کی سطح بتدریج کم ہو رہی ہے۔ اب نئے تعمیراتی منصوبوں میں ‘رین واٹر ویلز’ کی تنصیب لازمی قرار دی گئی ہے، جس کے بغیر عمارت کا نقشہ تک منظور نہیں کیا جاتا۔ انہوں نے انکشاف کیا کہ شہر کے پوش ایریاز (ایف سیکٹرز) میں رہنے والے رہائشی ماہانہ 240 روپے کا بل تک ادا نہیں کرتے، جبکہ یہی لوگ اپنے گھریلو ملازمین بھی باہر سے لاتے ہیں، جو پانی کے بے دریغ استعمال کا باعث بنتے ہیں۔
نظام کی بہتری اور سیوریج ٹریٹمنٹ
انہوں نے مزید بتایا کہ اسلام آباد کے تمام سیکٹرز کی پرانی پائپ لائنوں کو ڈیڑھ سال کے قلیل عرصے میں تبدیل کیا جا رہا ہے اور اس کا پی سی ون بھی تیار کر لیا گیا ہے۔ انہوں نے ارکان پارلیمنٹ سے اپیل کی کہ وہ ریکوری اور بلز کی بروقت ادائیگی کے لیے انتظامیہ کے ساتھ تعاون کریں کیونکہ اس وقت پانی کے بلوں کی ریکوری صرف 10 فیصد ہے۔ انہوں نے شہریوں سے بھی اپیل کی کہ وہ پانی کے ضیاع سے گریز کریں، خاص طور پر گھروں میں گاڑیاں دھونے کے عمل کو روکا جائے۔ انہوں نے مزید کہا کہ اسلام آباد میں ناجائز تجاوزات نے شہر کو کچی آبادی بنا دیا ہے، خاص طور پر لہتراڑ روڈ کے اکثریتی غیر قانونی علاقوں کا سیوریج کا پانی آلودگی کا باعث بن رہا ہے، جس کے سدباب کے لیے 30 سے 40 ارب روپے کی لاگت سے سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ لگایا جا رہا ہے، جبکہ آئی نائن میں بھی سیوریج ٹریٹمنٹ پلانٹ کی تنصیب کا کام جاری ہے۔
