معاشی استحکام کے لیے بنیادی اصلاحات ناگزیر ہیں، مدثر مسعود چوہدری

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان انڈسٹری اینڈ ٹریڈرز ایسوسی ایشن فرنٹ (پیاف) انجم نثار گروپ کے رکن و سابقہ ایگزیکٹو کمیٹی ممبر لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری مدثر مسعود چوہدری نے کہا ہے کہ پاکستان کے مالیاتی نظام میں بنیادی اصلاحات کے بغیر معاشی استحکام اور موثر طرز حکمرانی کا خواب پورا نہیں ہوسکتا۔ انہوں نے مزید کہا کہ جس طرح وفاق 18 وزارتوں، ان کے ذیلی اداروں کو ختم یا صوبوں کو منتقل، مشترکہ مفادات کونسل کی تشکیل نو کرے، سینیٹ کمیٹی کی سفارشات موجود ہیں، اسی طرح وفاق اور صوبوں کے درمیان وسائل کی تقسیم کے ساتھ ساتھ ٹیکس وصولی، اخراجات اور ذمہ داریوں کا واضح تعین ناگزیر ہے۔
مالیاتی اختیارات اور ذمہ داریوں کا ازسرنو جائزہ
مدثر مسعود چوہدری نے اپنے بیان میں کہا کہ قومی مالیاتی کمیشن (NFC) کے نئے دور میں محض وسائل کے حصوں پر بحث کرنے کے بجائے وفاق اور صوبوں کے مالیاتی اختیارات اور ذمہ داریوں کا ازسرنو جائزہ لیا جانا ناگزیر ہے۔ انہوں نے زور دیا کہ وفاق صرف ان شعبوں کے اخراجات اپنے ذمے رکھے جو حقیقی معنوں میں وفاقی ذمہ داریوں میں شامل ہیں، جبکہ صوبوں کو اپنے دائر اختیار میں آنے والے شعبوں کے لیے مالیاتی منصوبہ بندی اور آمدنی بڑھانے کی زیادہ ذمہ داری دی جائے۔
ٹیکس نظام میں شفافیت اور ڈیجیٹلائزیشن کی ضرورت
سابق ایگزیکٹو کمیٹی ممبر نے مزید کہا کہ صوبوں کو اپنے محصولات بڑھانے کے لیے موثر حکمت عملی اختیار کرنا ہوگی۔ کمزور ٹیکس وصولی اور غیرضروری اخراجات کی حوصلہ افزائی کے بجائے کارکردگی کو مالیاتی وسائل کی تقسیم سے مشروط کیا جائے۔ انہوں نے مطالبہ کیا کہ وفاقی اور صوبائی ٹیکس نظام میں غیرضروری پیچیدگیاں ختم کی جائیں، ڈیجیٹل ریکارڈز کو مربوط کیا جائے اور ٹیکس دہندگان کے لیے یکساں اور آسان نظام وضع کیا جائے تاکہ معیشت کو دستاویزی بنانے اور ٹیکس نیٹ وسیع کرنے میں مدد مل سکے۔ جیسا کہ ملک میں معدنی وسائل کی ترقی کیلئے مربوط قومی پالیسی وقت کی ضرورت ہے، اسی طرح مالیاتی شعبے میں اصلاحات وقت کا اہم تقاضا ہیں۔ موجودہ مالیاتی ڈھانچے میں سب سے بڑا مسئلہ یہ ہے کہ اختیارات، اخراجات اور آمدنی کی ذمہ داریاں مختلف سطحوں پر بکھری ہوئی ہیں۔ انہوں نے مزید کہا کہ پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں اضافہ، نئی قیمتوں کا نوٹیفکیشن جاری ہونے کے بعد عوام پر بوجھ بڑھا ہے، لہذا اصلاحات کے ذریعے نئے مالیاتی انتظام میں واضح ذمہ داری، مقامی سطح پر مالی خودمختاری، ٹیکس وصولی میں بہتری، شفافیت اور کارکردگی کو بنیادی اصول بنایا جائے۔
