پورٹ قاسم گارمنٹس سٹی منصوبے سے ایک لاکھ 38 ہزار ملازمتیں متوقع

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے بحری امور محمد جنید انوار چوہدری نے پورٹ قاسم پر 400 ایکڑ رقبے پر ایک جدید اپیرل زون قائم کرنے کا اعلان کیا ہے، جس کے پہلے مرحلے سے ایک لاکھ 38 ہزار 125 ملازمتیں پیدا ہونے اور سالانہ تقریباً 2.2 ارب ڈالر کی برآمدات متوقع ہیں۔ وزارتِ بحری امور کی جانب سے جاری پریس ریلیز کے مطابق وفاقی وزیر نے مجوزہ گارمنٹس سٹی منصوبے کے حوالے سے اجلاس کی صدارت کرتے ہوئے کہا کہ برآمدات پر مبنی اس صنعتی کلسٹر میں اعلیٰ قدر کی حامل ملبوسات کی تیاری پر توجہ دی جائے گی اور نجی شعبے کی سرمایہ کاری کو راغب کیا جائے گا۔ علاقائی و اقتصادی انضمام اور برآمدات کے فروغ کے لیے ہمسایہ منڈیوں سے استفادہ کرنا ناگزیر ہے، اور یہ منصوبہ اسی حکمت عملی کا حصہ ہے۔
منصوبے کی تفصیلات اور تکنیکی پہلو
منصوبے کے مطابق پہلے مرحلے میں 250 ایکڑ رقبہ مختص کیا جائے گا، جس میں سے 35 فیصد حصہ اندرونی سڑکوں، یوٹیلیٹیز اور گرین ایریاز کے لیے مختص ہوگا۔ منصوبہ پبلک پرائیویٹ پارٹنرشپ کے تحت مکمل کرنے کی تجویز ہے۔ مجوزہ کمرشل اسٹرکچر میں پانچ پانچ ایکڑ کے 32 صنعتی پلاٹس شامل ہوں گے، تاہم مزید سرمایہ کاروں اور مینوفیکچرنگ یونٹس کو جگہ فراہم کرنے کے لیے پلاٹس کا حجم کم کرکے دو یا تین ایکڑ کرنے کی گنجائش بھی رکھی گئی ہے۔ پورٹ قاسم اتھارٹی منصوبے کے لیے بنیادی ڈھانچہ اور یوٹیلیٹیز فراہم کرے گی۔ ہر صنعتی یونٹ کو یومیہ 4 لاکھ گیلن تک پانی، 2 میگاواٹ آن گرڈ بجلی اور روزانہ 23 ہزار 100 پاؤنڈ صنعتی گیس 8 پاؤنڈ فی مربع انچ دباؤ پر فراہم کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے، جو 10 ٹن بھاپ کی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہوگی۔ مجموعی منصوبے کے لیے یومیہ 1 کروڑ 30 لاکھ گیلن پانی، 64 میگاواٹ آن گرڈ بجلی اور 7 لاکھ 50 ہزار پاؤنڈ صنعتی گیس کی گنجائش مختص کرنے کی منصوبہ بندی کی گئی ہے۔
نجی شعبے کی شراکت اور برآمدی اہداف
محمد جنید انوار چوہدری نے کہا کہ منصوبے میں نجی شعبے کی شرکت کلیدی حیثیت رکھتی ہے۔ منصوبے کے تحت پاکستانی ٹیکسٹائل اور ڈینم کمپنی آرٹسٹک ملنرز 18 ملین ڈالر سے زائد کی سرمایہ کاری سے جدید مینوفیکچرنگ یونٹ قائم کرے گی، جس میں ورٹیکل انٹیگریشن اور ماحول دوست ٹیکنالوجیز استعمال کی جائیں گی۔ مسلسل تبدیلی کو اپنانا ہی قوموں کی کامیابی کی بنیاد ہے، اور اس منصوبے کے ذریعے ہم صنعتی شعبے میں جدید تقاضوں کو پورا کریں گے۔ مجوزہ گارمنٹس سٹی میں برآمد کنندگان کے لیے ون ونڈو نظام بھی قائم کیا جائے گا، جس کے تحت برآمدی عمل کو آسان بنانے، خصوصی کسٹمز ڈیسک اور مخصوص ٹرانسپورٹ کوریڈورز کی سہولت فراہم کی جائے گی۔ اجلاس میں پیش کیے گئے تخمینوں کے مطابق منصوبے کے پہلے مرحلے سے ایک لاکھ 38 ہزار 125 ملازمتیں پیدا ہوں گی جبکہ سالانہ تقریباً 2.2 ارب ڈالر کی برآمدات متوقع ہیں۔ منصوبے کا ایک مقصد ملبوسات کی اوسط برآمدی قدر کو تقریباً 8 ڈالر فی پیس تک بڑھانا بھی ہے۔ وفاقی وزیر نے کہا کہ یہ منصوبہ پاکستان کے صنعتی بنیاد اور برآمدی صلاحیت کو وسعت دینے کی کوششوں کا حصہ ہے، جس میں بندرگاہی انفراسٹرکچر، یوٹیلیٹیز، کسٹمز سہولیات اور نجی سرمایہ کاری کو مجوزہ اپیرل زون میں یکجا کیا جائے گا۔ اس حوالے سے غذائی قلت کے خطرات سے نمٹنے کے لیے زرعی شعبے کو جدید خطوط پر استوار کرنا ہو گا جس طرح زرعی شعبے میں بہتری ضروری ہے، اسی طرح صنعتی برآمدات میں اضافہ ملکی معیشت کی ضرورت ہے۔
