مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
جمعرات، 8 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.08 EUR/PKR 310.30 GBP/PKR 366.25 سونا/تولہ 429,321 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $82,068 USD/PKR 277.08 EUR/PKR 310.30 GBP/PKR 366.25 سونا/تولہ 429,321 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $82,068
قومی

چلی کا صحرائے اٹاکاما، جہاں ایک صدی سے بارش نہیں ہوئی، سمندری دھند سے پانی حاصل کرنے کا منفرد طریقہ

📅 اتوار، 16 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 4 منٹ
چلی کا صحرائے اٹاکاما، جہاں ایک صدی سے بارش نہیں ہوئی، سمندری دھند سے پانی حاصل کرنے کا منفرد طریقہ (تصویر 1)
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

چلی کا صحرائے اٹاکاما، جہاں ایک صدی سے بارش نہیں ہوئی، سمندری دھند سے پانی حاصل کرنے کا منفرد طریقہ

سانتیاگو: چلی کا صحرائے اٹاکاما دنیا کے خشک ترین علاقوں میں شمار ہوتا ہے، جہاں بعض موسمیاتی مراکز نے ایک صدی سے زائد عرصے کے دوران بارش کا ایک قطرہ بھی ریکارڈ نہیں کیا، تاہم بحرالکاہل سے آنے والی سمندری دھند یہاں زندگی کے لیے پانی کا اہم ذریعہ بنی ہوئی ہے۔

چلی کا صحرائے اٹاکاما، جہاں ایک صدی سے بارش نہیں ہوئی، سمندری دھند سے پانی حاصل کرنے کا منفرد طریقہ (تصویر 2)

اسپیس ڈیلی کی 16 اگست 2026 کی رپورٹ کے مطابق اٹاکاما کے انتہائی خشک علاقوں میں بعض مقامات پر سالانہ بارش صرف ایک سے تین ملی میٹر تک ہوتی ہے، جبکہ کئی موسمیاتی اسٹیشنوں کے ریکارڈ میں مسلسل صفر بارش درج ہے۔ یہ صحرا شمالی چلی میں تقریباً ایک ہزار کلومیٹر کے علاقے تک پھیلا ہوا ہے۔

ایسے انتہائی خشک ماحول میں بحرالکاہل سے آنے والی گھنی سمندری دھند پانی کا اہم ذریعہ بنتی ہے۔ مقامی طور پر اسے ’کامنچاکا‘ کہا جاتا ہے۔ یہ دھند بحرالکاہل کے ٹھنڈے ہمبولٹ کرنٹ کے باعث بنتی ہے اور ساحلی علاقوں تک پہنچ کر بارش کے بجائے مختلف سطحوں پر نمی کی شکل میں جمع ہوتی ہے۔

چلی کا صحرائے اٹاکاما، جہاں ایک صدی سے بارش نہیں ہوئی، سمندری دھند سے پانی حاصل کرنے کا منفرد طریقہ (تصویر 3)

یہ نمی ساحلی چٹانوں پر موجود کائی اور دیگر صحرائی پودوں کے لیے زندگی کا ذریعہ ہے۔ بعض کائی کی اقسام ہوا میں موجود نمی کو تیزی سے جذب کرکے چند ہی منٹوں میں اپنی حیاتیاتی سرگرمیاں دوبارہ شروع کر دیتی ہیں اور دھند چھٹنے کے بعد دوبارہ خشک حالت اختیار کر لیتی ہیں۔

سمندری دھند سے انسانی استعمال کے لیے پانی حاصل کرنے کا طریقہ بھی چلی کے ساحلی علاقوں میں استعمال کیا جا رہا ہے۔ شمالی چلی کی ماہی گیر بستی چنگونگو میں 1987 میں تقریباً 100 دھند جمع کرنے والے جال نصب کیے گئے تھے، جن سے تقریباً 300 افراد کے لیے پانی حاصل کیا جاتا تھا۔ بعض مواقع پر ان نظاموں سے روزانہ ایک ہزار لیٹر تک پانی حاصل ہوا، جبکہ سازگار حالات میں یہ مقدار 12 ہزار لیٹر یومیہ تک پہنچ گئی۔

چلی کا صحرائے اٹاکاما، جہاں ایک صدی سے بارش نہیں ہوئی، سمندری دھند سے پانی حاصل کرنے کا منفرد طریقہ (تصویر 4)

اس نظام میں خصوصی جال ہوا کے ساتھ آنے والے باریک پانی کے قطروں کو روک لیتے ہیں۔ یہ قطرے جال پر جمع ہو کر نیچے نصب نالیوں اور برتنوں میں گرتے ہیں، جہاں سے انہیں جمع کرکے مختلف مقاصد کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔

اٹاکاما کی غیر معمولی خشکی کی ایک بڑی وجہ اس کا جغرافیائی محل وقوع ہے۔ مشرق میں بلند اینڈیز پہاڑی سلسلہ نمی کو علاقے تک پہنچنے سے روکتا ہے، جبکہ مغرب میں موجود ٹھنڈا ہمبولٹ کرنٹ ایسے موسمی حالات پیدا کرتا ہے جن میں نمی اکثر بارش کے بجائے ساحلی دھند کی صورت اختیار کر لیتی ہے۔

چلی کا صحرائے اٹاکاما، جہاں ایک صدی سے بارش نہیں ہوئی، سمندری دھند سے پانی حاصل کرنے کا منفرد طریقہ (تصویر 5)

اٹاکاما کا انتہائی خشک ماحول سائنسی تحقیق کے لیے بھی غیر معمولی اہمیت رکھتا ہے۔ چلی کا یُونگے علاقہ مریخ کے خشک اور سخت ماحول سے مماثلت کے باعث مریخ پر زندگی کے ممکنہ آثار کے مطالعے اور خلائی تحقیق کے تجربات کے لیے استعمال ہوتا رہا ہے۔

ماہرین کے مطابق موسمیاتی تبدیلی مستقبل میں اٹاکاما کی سمندری دھند کے نظام کو متاثر کر سکتی ہے۔ تاہم ابھی یہ واضح نہیں کہ سمندروں کے درجہ حرارت میں اضافے سے دھند کی مقدار بڑھے گی، کم ہوگی یا اس کے بننے کے اوقات اور بلندی میں تبدیلی آئے گی۔ ایسی تبدیلیاں ان پودوں، کائی اور دیگر جانداروں کے لیے اہم ثابت ہو سکتی ہیں جو اس محدود نمی پر انحصار کرتے ہیں۔

SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں