ایران کا چین کو تیل پہنچانے کے لیے ریل کا متبادل راستے پر غور، سمندری برآمدات میں 70 فیصد کمی

ایران کا چین کو تیل پہنچانے کے لیے ریل کا متبادل راستے پر غور، سمندری برآمدات میں 70 فیصد کمی
تہران: امریکی بحری دباؤ اور آبنائے ہرمز میں تجارتی سرگرمیوں میں رکاوٹ کے باعث ایران نے تیل کی برآمدات جاری رکھنے کے لیے متبادل زمینی راستوں کا استعمال بڑھا دیا ہے، جن میں چین کو ریل کے ذریعے تیل پہنچانے کی کوشش بھی شامل ہے۔ تاہم ماہرین کے مطابق ریل سمندری راستے کا مکمل متبادل نہیں بن سکتی۔
وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ایران کی خام تیل کی بحری لوڈنگ 14 سے 23 اپریل کے دوران کم ہو کر تقریباً 5 لاکھ 67 ہزار بیرل یومیہ رہ گئی، جبکہ فروری میں یہ اوسطاً 20 لاکھ بیرل یومیہ تھی۔ اعداد و شمار توانائی کے تجزیاتی ادارے Kpler سے منسوب کیے گئے ہیں۔
سمندری برآمدات میں رکاوٹ کے بعد ایران نے تیل ذخیرہ کرنے کے لیے پرانے اور غیر فعال ٹینک دوبارہ استعمال کرنا شروع کیے ہیں، جبکہ کچھ تیل چین تک ریل کے ذریعے پہنچانے کی کوشش بھی کی جا رہی ہے۔ ایران کی آئل ایکسپورٹرز یونین کے ترجمان حمید حسینی کے مطابق ییوو اور شیان سمیت چینی شہروں تک ریل رابطوں کو استعمال کرنے کی کوشش کی جا رہی ہے۔
ایران سے چین تک ممکنہ ریل روٹ
دستیاب معلومات کے مطابق ایران سے چین تک زمینی راستہ شمال مشرقی ایران سے ترکمانستان اور پھر وسطی ایشیا کے ریل نیٹ ورک سے گزرتا ہے۔ ممکنہ راستے میں ترکمانستان کے بعد ازبکستان یا قازقستان اور پھر چین شامل ہو سکتے ہیں۔
ایران → ترکمانستان → وسطی ایشیا → چین
تاہم مختلف ذرائع نے اس راستے کی تفصیلات مختلف انداز میں بیان کی ہیں اور کسی ایک مخصوص ریل لائن کو حتمی راستہ قرار نہیں دیا گیا۔ ایران کی جانب سے چین کے ییوو اور شیان تک ریل رابطوں کا ذکر کیا گیا ہے۔
567 ہزار بیرل یومیہ ریل سے منتقل نہیں ہو رہا
اہم بات یہ ہے کہ 5 لاکھ 67 ہزار بیرل یومیہ ریل کے ذریعے چین بھیجے جانے والے تیل کی مقدار نہیں ہے۔ یہ ایران کی مجموعی بحری خام تیل لوڈنگ کا تخمینہ ہے۔
اس طرح اپریل میں ایران کی سمندری تیل برآمدی سرگرمی فروری کے مقابلے میں تقریباً 70 فیصد کم ہوئی۔ ریل کے ذریعے منتقل کیا جانے والا تیل اس حجم کا صرف محدود حصہ ہے۔
ریل محدود متبادل ہے
ماہرین کے مطابق ریل ایران کو ہنگامی طور پر چین تک کچھ تیل پہنچانے میں مدد دے سکتی ہے، لیکن ٹینکرز کے ذریعے ہونے والی لاکھوں بیرل یومیہ برآمدات کا متبادل نہیں بن سکتی۔ ایک بڑے آئل ٹینکر میں جتنا تیل منتقل کیا جا سکتا ہے، اتنی مقدار ریل کے ذریعے پہنچانے کے لیے بڑی تعداد میں ٹینکر ویگنز اور مسلسل ٹرین آپریشن درکار ہوں گے۔
چین ایران کا اہم ترین خریدار
چین ایران کے خام تیل کا سب سے اہم خریدار ہے اور وال اسٹریٹ جرنل کے مطابق ایران کی تقریباً 90 فیصد خام تیل کی برآمدات چین کی جانب جاتی رہی ہیں۔ اسی لیے سمندری راستوں میں رکاوٹ کے بعد تہران کے لیے چین تک متبادل زمینی راستہ تلاش کرنا خاص اہمیت رکھتا ہے۔
تیل ذخیرہ کرنے کا دباؤ بڑھ گیا
برآمدات میں کمی نے ایران کے لیے تیل ذخیرہ کرنے کا مسئلہ بھی پیدا کر دیا ہے۔ اگر پیداوار جاری رہے اور برآمدات محدود رہیں تو ذخیرہ کرنے کی گنجائش تیزی سے بھر سکتی ہے۔ اسی خدشے کے باعث ایران پرانے ذخیرہ ٹینک دوبارہ استعمال کر رہا ہے۔
Kpler کے مطابق اگر صورتحال برقرار رہتی تو ایران کو پیداوار کم کرنے پر بھی مجبور ہونا پڑ سکتا تھا، جس سے تیل کی آمدنی اور ملکی توانائی کے شعبے پر مزید دباؤ بڑھنے کا خدشہ ہے۔
پاکستان اس ریل روٹ کا حصہ نہیں
واضح رہے کہ ایران سے چین کو تیل پہنچانے کے زیر بحث ریل روٹ میں پاکستان بنیادی راہداری نہیں ہے۔ ممکنہ زمینی راستہ شمال مشرقی ایران سے ترکمانستان اور پھر وسطی ایشیا کے ذریعے چین تک جاتا ہے۔
مجموعی طور پر ایران کی جانب سے ریل کے ذریعے چین کو تیل پہنچانے کی کوشش سمندری برآمدات میں شدید رکاوٹ کے دوران ایک ہنگامی متبادل کی تلاش ہے، تاہم محدود گنجائش کے باعث ریل سمندری راستے کا مکمل متبادل نہیں بن سکتی۔
