ٹرمپ کی آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کی دھمکی

ٹرمپ کی آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کی دھمکی
واشنگٹن: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے کہا ہے کہ ایران کو شکست دینے کے بعد امریکا آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دے سکتا ہے۔
دی گارڈین کے مطابق ٹرمپ نے جمعہ کو نیویارک کے لانگ آئی لینڈ میں ایک پولیس اکیڈمی سے خطاب کرتے ہوئے کہا کہ امریکا جلد آبنائے ہرمز کو امریکی علاقہ قرار دینے کا اعلان کرے گا۔
ٹرمپ نے دعویٰ کیا کہ امریکا اس وقت آبنائے ہرمز پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے اور وہاں ناکہ بندی قائم ہے، جس کے باعث کوئی جہاز امریکی اجازت کے بغیر آبنائے سے گزر نہیں سکتا۔
آبنائے ہرمز دنیا کی اہم ترین بحری گزرگاہوں میں شمار ہوتی ہے اور معمول کے حالات میں عالمی سطح پر سمندری راستے سے ہونے والی تیل کی تقریباً پانچویں سپلائی اسی راستے سے گزرتی ہے۔
دی گارڈین کے مطابق یہ واضح نہیں کہ ٹرمپ کا بیان کسی باقاعدہ امریکی پالیسی یا عملی اقدام کی نشاندہی کرتا ہے یا یہ محض سیاسی بیان ہے۔
ٹرمپ کا یہ بیان ایسے وقت سامنے آیا ہے جب امریکا اور ایران کے درمیان جنگ کے خاتمے کے لیے مذاکرات میں پیش رفت نہیں ہو سکی۔ ایران نے آبنائے ہرمز کو دوبارہ کھولنے سے انکار کر رکھا ہے۔ رپورٹ کے مطابق فروری میں امریکا اور اسرائیل کی جانب سے ایران کے خلاف جنگ شروع کیے جانے کے بعد سے آبنائے ہرمز تقریباً بند ہے۔
ایران کے نائب وزیر خارجہ کاظم غریب آبادی نے ٹرمپ کے بیان پر ردعمل دیتے ہوئے کہا کہ ایران امریکی دھمکیوں یا طاقت کے مظاہرے سے مرعوب نہیں ہوگا۔ ان کے مطابق آبنائے ہرمز کو کھولنے یا بند کرنے کا فیصلہ ایران خود کرے گا۔
ایرانی وزیر خارجہ عباس عراقچی نے بھی کہا کہ ایران نے امریکا کے ساتھ مذاکرات دوبارہ شروع کرنے کا فیصلہ نہیں کیا۔ ان کے مطابق قطر اور پاکستان کے ذریعے پیغامات کا تبادلہ مذاکرات کے مترادف نہیں ہے۔
عباس عراقچی نے کہا کہ عمان کے ساتھ ہونے والے الگ مذاکرات آبنائے ہرمز کے ذریعے سمندری راستے کے تعین سے متعلق ہیں، جبکہ تجارتی جہازوں کی آمدورفت بحال کرنے کے لیے امریکا کو ایران کی شرائط پوری کرنا ہوں گی۔
رپورٹ کے مطابق ٹرمپ اس سے قبل بھی آبنائے ہرمز پر امریکی کنٹرول کا دعویٰ کر چکے ہیں۔ رواں ہفتے انہوں نے کہا تھا کہ امریکا آبنائے پر مکمل کنٹرول رکھتا ہے اور اسے برقرار رکھنے کا عندیہ دیا تھا۔
آبنائے ہرمز ایران اور عمان کے درمیان واقع ایک اہم بین الاقوامی بحری گزرگاہ ہے۔ ایران کا مؤقف ہے کہ آبنائے اس وقت تک دوبارہ نہیں کھولی جائے گی جب تک امریکا اپنا طرز عمل تبدیل نہیں کرتا، جنگ سے ہونے والے نقصانات کا ازالہ نہیں کرتا، پابندیاں ختم نہیں کرتا اور منجمد ایرانی اثاثے غیر مشروط طور پر جاری نہیں کرتا۔
