افغانستان میں خواتین کے حقوق پانچ برس بعد بھی بدستور سلب

کابل/اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ افغانستان میں طالبان کے اقتدار میں واپس آنے کو پانچ برس مکمل ہونے کے موقع پر ملک میں خواتین اور بچیوں کی صورتحال ایک مرتبہ پھر عالمی توجہ کا مرکز بن گئی ہے۔ اقوام متحدہ اور عالمی اداروں کی تازہ رپورٹس کے مطابق اگست 2021 کے بعد خواتین اور لڑکیوں کے بنیادی حقوق، تعلیم، روزگار، آزادانہ نقل و حرکت، اظہارِ رائے اور عوامی زندگی میں شرکت پر مسلسل پابندیاں عائد کی گئی ہیں، جس کے نتیجے میں افغان معاشرے کی نصف آبادی بتدریج سماجی، سیاسی اور اقتصادی سرگرمیوں سے دور ہوتی جا رہی ہے۔
خواتین پر پابندیوں کا منظم نظام
UN Women کے مطابق طالبان کے اقتدار سنبھالنے کے بعد خواتین اور لڑکیوں کو ہدف بنانے والے احکامات، پالیسیوں اور عملی پابندیوں کا ایک باہم مربوط نظام تشکیل دیا گیا، جس نے انہیں عوامی اور سیاسی زندگی میں مؤثر کردار ادا کرنے سے بڑی حد تک محروم کر دیا ہے۔ عالمی ادارے کا کہنا ہے کہ ان پابندیوں نے نہ صرف خواتین کے حقوق کو متاثر کیا بلکہ افغانستان کی مجموعی معاشی اور سماجی ترقی کو بھی شدید نقصان پہنچایا ہے۔
تعلیم اور روزگار کے مواقع کا فقدان
افغانستان میں لڑکیوں کے لیے ثانوی تعلیم کی بندش پانچ سال بعد بھی برقرار ہے جبکہ خواتین کے لیے اعلیٰ تعلیم کے دروازے بھی بند ہیں۔ 2024 میں خواتین کی طبی تعلیم اور صحت کے شعبے سے متعلق اعلیٰ تربیت پر پابندیوں نے صورتحال کو مزید سنگین بنا دیا۔ UN Women کی ایک رپورٹ کے مطابق 18 سے 29 سال عمر کی تقریباً 80 فیصد افغان خواتین نہ تعلیم حاصل کر رہی ہیں، نہ روزگار میں ہیں اور نہ ہی کسی تربیتی پروگرام کا حصہ ہیں۔ اس کے بارے میں مزید تفصیلات جاننے کے لیے نادرا نے کیو آر کوڈ پر مبنی نیا قومی شناختی کارڈ متعارف کرا دیا کے اقدامات سے موازنہ کیا جا سکتا ہے کہ ٹیکنالوجی کیسے معاشرتی تبدیلی لاتی ہے۔
روزگار کے میدان میں بھی افغان خواتین کو شدید مشکلات کا سامنا ہے۔ دستیاب اعداد و شمار کے مطابق 2024 میں افغانستان کی صرف تقریباً 24 فیصد خواتین لیبر فورس میں شامل تھیں جبکہ مردوں میں یہ شرح تقریباً 90 فیصد تھی۔ خواتین کی بڑی تعداد اگرچہ کسی نہ کسی معاشی سرگرمی سے منسلک ہونے کی کوشش کر رہی ہے، تاہم ان میں سے بیشتر کو غیر رسمی، غیر محفوظ اور کم آمدنی والے کاموں تک محدود رہنا پڑتا ہے۔
عوامی نقل و حرکت اور معاشرتی بحران
خواتین کی آزادانہ نقل و حرکت بھی شدید متاثر ہوئی ہے۔ مختلف پابندیوں کے تحت کئی خواتین کے لیے عوامی مقامات، پارکس، جم اور دیگر سماجی سرگرمیوں تک رسائی محدود کی گئی، جبکہ محرم سے متعلق شرائط نے سفر اور بعض بنیادی خدمات تک رسائی کو مزید مشکل بنا دیا۔ UN Women کے مطابق بہت سی خواتین خوف اور پابندیوں کے باعث روزانہ گھر سے باہر نہیں نکل پاتیں، جبکہ ایک تہائی سے زیادہ خواتین نے اکیلے گھر سے باہر نکلنے کو غیر محفوظ قرار دیا ہے۔ جیسے اسپین کے علاقے سیوتا میں پھر بڑے پیمانے پر داخلے کا خدشہ، مراکش نے سینکڑوں سکیورٹی اہلکار اور 8 بحری جہاز تعینات کر دیے، اسی طرح دنیا بھر میں نقل و حرکت کے قوانین انسانی حقوق پر اثر انداز ہوتے ہیں۔
معاشی اثرات اور مستقبل کے چیلنجز
ان پابندیوں کے اثرات صرف خواتین تک محدود نہیں بلکہ پوری افغان معیشت اور معاشرے پر پڑ رہے ہیں۔ UN Women کے مطابق خواتین کی تعلیم اور روزگار پر پابندیوں کے باعث افغانستان کو مستقبل میں اربوں ڈالر کے معاشی نقصان کا سامنا ہوسکتا ہے۔ اعلیٰ تعلیم پر پابندی برقرار رہنے کی صورت میں طویل مدت میں ملکی معیشت کو ہونے والے نقصان کا تخمینہ 9.6 ارب ڈالر تک لگایا گیا ہے۔ ماہرین کا ماننا ہے کہ علاقائی صورتحال کے پیش نظر سعودی عرب کی قیادت میں 14 ملکی بحری دفاعی اتحاد قائم، پاکستان سمیت 13 ممالک شامل جیسے اقدامات خطے کے استحکام میں کلیدی کردار ادا کر سکتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق تعلیم سے محرومی، معاشی مواقع کی کمی اور عوامی زندگی سے خواتین کے اخراج کے اثرات آنے والی نسلوں تک منتقل ہوسکتے ہیں۔ لڑکیوں کی تعلیم رکنے سے کم عمری کی شادی، قبل از وقت زچگی اور صحت کے سنگین مسائل میں اضافے کا خطرہ بھی بڑھ رہا ہے۔ اقوام متحدہ کے جائزوں میں خبردار کیا گیا ہے کہ موجودہ پابندیاں افغانستان کی سماجی اور معاشی ترقی کو طویل عرصے تک متاثر کرسکتی ہیں۔
