سویڈن نے دوسرے ملکوں سے ایک سال میں 38 لاکھ ٹن کچرا امپورٹ کیا

سویڈن نے دوسرے ملکوں سے ایک سال میں 38 لاکھ ٹن کچرا امپورٹ کیا
اسٹاک ہوم: سویڈن نے ایک سال کے دوران دوسرے ممالک سے تقریباً 38 لاکھ ٹن کچرا درآمد کیا، جسے جدید ویسٹ ٹو انرجی نظام کے ذریعے بجلی اور گھروں کے لیے حرارتی توانائی پیدا کرنے میں استعمال کیا گیا۔
رپورٹ کے مطابق سویڈن میں کچرے کو محض ضائع کرنے کے بجائے اسے توانائی کے حصول کے لیے استعمال کرنے کا نظام کئی دہائیوں سے رائج ہے۔ درآمد شدہ کچرے کا بڑا حصہ ایسے ویسٹ ٹو انرجی پلانٹس میں جلایا جاتا ہے جہاں اس عمل سے پیدا ہونے والی حرارت کو ضلعی حرارتی نظام اور بجلی کی پیداوار کے لیے استعمال کیا جاتا ہے۔
سویڈن میں کچرے سے توانائی پیدا کرنے کے لیے درجنوں پلانٹس کام کر رہے ہیں۔ ان پلانٹس میں کچرے کو مخصوص درجہ حرارت پر جلانے سے پیدا ہونے والی حرارت پانی کو گرم کرتی ہے، جس سے بھاپ پیدا ہوتی ہے اور یہ بھاپ بجلی بنانے کے ساتھ ساتھ گھروں اور عمارتوں کے حرارتی نظام میں استعمال ہوتی ہے۔
سویڈن کے لیے اس نظام کا ایک اہم فائدہ یہ ہے کہ لینڈ فل میں دفن ہونے والے کچرے کی مقدار کم ہوتی ہے جبکہ کچرے سے توانائی بھی حاصل کی جاتی ہے۔ یہی وجہ ہے کہ سویڈن نے بعض اوقات دوسرے یورپی ممالک سے کچرا درآمد کیا، کیونکہ ان ممالک کو اپنا کچرا لینڈ فل کرنے یا دیگر طریقوں سے ٹھکانے لگانے کے بجائے سویڈن کے ویسٹ ٹو انرجی پلانٹس میں بھیجنے کا ایک متبادل مل جاتا ہے۔
تاہم کچرے کو جلانے کے ماحولیاتی اثرات بھی موجود ہیں۔ خاص طور پر پلاسٹک پر مشتمل کچرا جلانے سے کاربن ڈائی آکسائیڈ اور دیگر گرین ہاؤس گیسوں کا اخراج ہوتا ہے، جس کے باعث ماہرین ماحولیات کا کہنا ہے کہ کچرے سے توانائی حاصل کرنے کے ساتھ ری سائیکلنگ اور کچرے کی پیداوار میں کمی کو بھی ترجیح دینا ضروری ہے۔
سویڈن کا ویسٹ ٹو انرجی ماڈل دنیا کے ان نظاموں میں شمار ہوتا ہے جہاں کچرے کو توانائی کے ایک ذریعے کے طور پر استعمال کیا جاتا ہے۔ ملک اب کچرے سے توانائی پیدا کرنے کے ساتھ سرکلر اکانومی، ری سائیکلنگ اور وسائل کے بہتر استعمال پر بھی توجہ بڑھا رہا ہے۔
