ٹرمپ کا امریکی بحریہ کو طیارہ لانچنگ کے روایتی نظام پر واپسی کا حکم

ٹرمپ کا امریکی بحریہ کو طیارہ لانچنگ کے روایتی نظام پر واپسی کا حکم
واشنگٹن، 14 اگست: امریکی صدر ڈونلڈ ٹرمپ نے امریکی بحریہ کو طیارہ بردار بحری جہازوں سے جنگی طیاروں کی لانچنگ کے لیے استعمال ہونے والے جدید برقی مقناطیسی نظام کو ترک کرکے روایتی بھاپ سے چلنے والے کیٹاپلٹ نظام پر واپس جانے کی ہدایت کردی۔
ٹرمپ کی ہدایت کے تحت محکمہ دفاع اور امریکی بحریہ کو دو ماہ کے اندر جدید Electromagnetic Aircraft Launch System (EMALS) کو ہٹانے اور اس کی جگہ روایتی نظام نصب کرنے کے منصوبے پیش کرنے ہوں گے۔
رپورٹ کے مطابق اس تبدیلی کا آغاز فورڈ کلاس کے چوتھے طیارہ بردار بحری جہاز یو ایس ایس ڈورس ملر سے کیا جائے گا۔ جہاز پر نصب برقی مقناطیسی طیارہ لانچنگ نظام اور متعلقہ لفٹس کو بھی روایتی ٹیکنالوجی سے تبدیل کیا جائے گا۔
جدید EMALS نظام مقناطیسی ٹیکنالوجی کے ذریعے جنگی طیاروں کو طیارہ بردار بحری جہاز کے رن وے سے لانچ کرتا ہے۔ اس ٹیکنالوجی کے حامیوں کے مطابق یہ نظام کم افرادی قوت کے ساتھ کام کرتا ہے، طیاروں کی تیز رفتار لانچنگ کی سہولت فراہم کرتا ہے اور جہاز پر نسبتاً کم جگہ گھیرتا ہے۔
دوسری جانب روایتی بھاپ سے چلنے والے کیٹاپلٹ نظام کو زیادہ افرادی قوت اور دیکھ بھال کی ضرورت ہوتی ہے۔ جدید نظام کو دوبارہ روایتی ٹیکنالوجی سے تبدیل کرنے کے فیصلے پر اربوں ڈالر کے اخراجات آنے کا امکان ظاہر کیا گیا ہے۔
ٹرمپ ماضی میں بھی EMALS نظام پر اپنے تحفظات کا اظہار کر چکے ہیں۔ اپنی پہلی صدارتی مدت کے دوران انہوں نے طیارہ بردار بحری جہازوں پر جدید برقی مقناطیسی نظام کے بجائے روایتی بھاپ سے چلنے والے نظام کی حمایت کی تھی۔
رپورٹ کے مطابق یو ایس ایس جیرالڈ آر فورڈ، یو ایس ایس جان ایف کینیڈی اور یو ایس ایس انٹرپرائز کو فی الحال اس تبدیلی سے مستثنیٰ رکھا گیا ہے، جبکہ یو ایس ایس ڈورس ملر پہلا طیارہ بردار بحری جہاز ہوگا جس پر جدید لانچنگ نظام کو تبدیل کیا جائے گا۔
یہ فیصلہ ایسے وقت میں سامنے آیا ہے جب امریکی بحریہ کو اپنے طیارہ بردار بحری جہازوں پر مطلوبہ افرادی قوت کی تعیناتی سمیت مختلف انتظامی اور آپریشنل چیلنجز کا سامنا ہے۔
