مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,696 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,696
عالمی

اقوام متحدہ کا انتباہ، انٹرنیٹ پر بچے اور نوجوان غیر محفوظ ہیں

📅 منگل، 11 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 5 منٹ
تصویر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

نیویارک (نمائندہ خصوصی)۔ آج کی ڈیجیٹل دنیا میں جہاں ایک کلک پر معلومات کا سمندر موجود ہے، وہیں ہمارے بچوں اور نوجوانوں کے لیے انٹرنیٹ کا ماحول دن بہ دن خطرناک ہوتا جا رہا ہے۔ اقوام متحدہ نے ایک تازہ ترین اور اہم بریفنگ میں خبردار کیا ہے کہ آن لائن دنیا میں نوجوان نسل کو گمراہ کن معلومات، سائبر بلینگ (آن لائن ہراسانی)، الگورتھم کے تعصب اور بالخصوص مصنوعی ذہانت (AI) کے غلط استعمال جیسے سنگین چیلنجز کا سامنا ہے۔ چین کا انسان نما روبوٹس کی 97 فیصد عالمی مارکیٹ پر قبضہ ہونے کے ساتھ ساتھ ٹیکنالوجی کا دائرہ کار ہر گھر تک پہنچ چکا ہے۔

عالمی یومِ نوجوانان کی مناسبت سے جاری کی گئی اس رپورٹ کے مطابق، دنیا بھر میں 15 سے 24 سال کے 80 فیصد سے زائد نوجوان انٹرنیٹ کا استعمال کر رہے ہیں۔ دلچسپ اور تشویشناک بات یہ ہے کہ غریب اور کم آمدنی والے ممالک میں نوجوانوں کے انٹرنیٹ استعمال کرنے کی شرح وہاں کی باقاعدہ بڑی آبادی کے مقابلے میں تقریباً دوگنا ہے۔ اس کا سیدھا مطلب یہ ہے کہ خطرہ صرف امیر ممالک تک محدود نہیں، بلکہ غریب ممالک کے بچے بھی اس ڈیجیٹل زدمیں برابر کے شریک ہیں۔

اصل مسئلہ کہاں ہے؟

اقوام متحدہ کی رپورٹ میں اس بات پر گہری تشویش کا اظہار کیا گیا ہے کہ ان خطرات کی سب سے بڑی وجہ بڑی ٹیکنالوجی کمپنیوں کا کاروباری ماڈل ہے۔ یہ کمپنیاں صارفین کو زیادہ سے زیادہ وقت آن لائن رکھنے اور ان کا ذاتی ڈیٹا بیچ کر پیسہ کمانے پر توجہ دیتی ہیں۔ ایسے الگورتھمز بنائے جاتے ہیں جو بچوں کو سکرین سے چپکائے رکھیں، جس سے وہ آسانی سے آن لائن خطرات کا شکار ہو جاتے ہیں۔

مزید برآں، مصنوعی ذہانت (AI) جس تیزی سے پھیل رہی ہے، اس کا تدارک کرنے والے حفاظتی اقدامات اتنی تیزی سے نہیں بن پا رہے۔ جعلی مواد، استحصال کے نئے طریقے اور ایسی لالچی آن لائن اشتہاری مہمات جو بچوں کو فضول خرچی پر اکساتی ہیں، اب عام ہو چکی ہیں۔ اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اس صورتحال پر سخت تشویش کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ بچوں کو ایسی ٹیکنالوجی کے رحم و کرم پر نہیں چھوڑا جا سکتا جو نہ تو قانون کے دائرے میں ہو اور نہ ہی جس کی کوئی جواب دہی ہو۔ انہوں نے مصنوعی ذہانت کے لیے سخت حفاظتی قوانین بنانے پر زور دیا، جبکہ دنیا بھر میں اس حوالے سے شام میں خفیہ جوہری مقام سے مواد ہٹانے کا معاہدہ، امریکا کی ثالثی میں پیش رفت جیسی پیش رفت کے برعکس ٹیکنالوجی کی نگرانی پر عالمی اتفاق رائے کی ضرورت ہے۔

نوجوان صرف متاثرین نہیں، حل کا حصہ بھی ہیں

اس تمام تر صورتحال میں اقوام متحدہ نے ایک مثبت پہلو کی طرف بھی اشارہ کیا ہے۔ ادارے کا کہنا ہے کہ نوجوانوں کو صرف ‘مظلوم’ یا ‘کمزور’ سمجھنا غلط ہوگا۔ آج کے نوجوان صرف معلومات حاصل نہیں کرتے بلکہ وہ مواد بنا رہے ہیں، اپنے حقوق کے لیے آواز اٹھا رہے ہیں اور ڈیجیٹل دنیا کو بہتر بنانے میں اہم کردار ادا کر رہے ہیں۔ اطلاعاتی سالمیت سے متعلق اقوام متحدہ کی سینئر مشیر شارلٹ سکڈن کا کہنا تھا کہ بچے اور نوجوان آج کے اس معلوماتی بحران سے سب سے زیادہ متاثر ضرور ہیں، لیکن ان کے پاس اسے ٹھیک کرنے کی سب سے زیادہ صلاحیت اور اہلیت بھی ہے۔ قطر کا مصر میں 30 ارب ڈالر کا منصوبہ، دور دراز ساحلی علاقہ عالمی معیار کا شہر بنے گا، اسی طرز کے ترقیاتی ویژن کی طرح ڈیجیٹل حقوق کا تحفظ بھی وقت کی اہم ضرورت ہے۔ بچوں کا تحفظ کرنا اور انہیں فیصلہ سازی میں شامل کرنا دو الگ باتیں نہیں، بلکہ ایک ہی مقصد کے دو حصے ہیں۔

آگے کا راستہ

اقوام متحدہ نے عالمی حکومتوں، ٹیکنالوجی کمپنیوں، مشتہرین اور تحقیق کرنے والے اداروں سے پرزور مطالبہ کیا ہے کہ وہ فوری طور پر نوجوانوں کے تحفظ کو اپنی پہلی ترجیح بنائیں۔ مصنوعی ذہانت اور ٹیکنالوجی کے لیے بنائے جانے والے عالمی قوانین میں بچوں کے حقوق کو شامل کیا جائے اور ان کی حفاظت کے لیے سخت قانون سازی کی جائے تاکہ انٹرنیٹ کو سب کے لیے ایک محفوظ جگہ بنایا جا سکے۔

ٹیگز: #اقوام متحدہ #انٹرنیٹ #سائبر سیکیورٹی #مصنوعی ذہانت #نوجوان
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں