مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,627 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,627
قومی

چین کا انسان نما روبوٹس کی 97 فیصد عالمی مارکیٹ پر قبضہ

📅 منگل، 11 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 4 منٹ
چین کا انسان نما روبوٹس کی 97 فیصد عالمی مارکیٹ پر قبضہ
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

چین کا انسان نما روبوٹس کی 97 فیصد عالمی مارکیٹ پر قبضہ

بیجنگ۔11 اگست: چین نے انسان نما روبوٹس کی عالمی مارکیٹ میں اپنی برتری مضبوط کرلی ہے، 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران دنیا بھر میں بھیجے گئے انسان نما روبوٹس میں چینی کمپنیوں کا حصہ 97 فیصد سے تجاوز کر گیا۔

گلوبل ٹائمز کے مطابق رواں سال جنوری سے جون تک دنیا بھر میں تقریباً 19 ہزار 100 انسان نما روبوٹس کی ترسیل ہوئی، جو گزشتہ سال کی اسی مدت کے مقابلے میں 272 فیصد زیادہ ہے۔ چین عالمی طلب میں بھی 85 فیصد سے زائد حصے کے ساتھ سب سے بڑی مارکیٹ بن چکا ہے۔

رپورٹ کے مطابق چینی روبوٹ ساز کمپنی AGIBOT نے Unitree Robotics کو پیچھے چھوڑتے ہوئے رواں سال دنیا کی سب سے بڑی انسان نما روبوٹ کمپنی کا اعزاز حاصل کرلیا ہے۔ Unitree Robotics نے 2025 میں تقریباً 5,500 روبوٹس کی ترسیل کے ساتھ عالمی سطح پر پہلی پوزیشن حاصل کی تھی۔

چین کی روبوٹکس صنعت کی تیز رفتار ترقی کے پیچھے ملک کی وسیع صنعتی بنیاد، مکمل سپلائی چین اور بڑی اندرونی مارکیٹ کو اہم عوامل قرار دیا جا رہا ہے۔ ماہرین کے مطابق چینی کمپنیوں نے روبوٹس کے اہم پرزوں کی مقامی پیداوار میں بھی نمایاں پیش رفت کی ہے۔

رپورٹ کے مطابق چین میں اس وقت 400 سے زائد مکمل انسان نما روبوٹ ماڈلز موجود ہیں، جو عالمی سطح پر موجود مجموعی ماڈلز کے نصف سے زیادہ ہیں۔ ایک چینی ماہر کے مطابق چین رواں سال ایک لاکھ سے زائد انسان نما روبوٹس تیار کرسکتا ہے۔

چینی روبوٹس کی عالمی برآمدات میں بھی نمایاں اضافہ ہوا ہے۔ 2026 کی پہلی ششماہی کے دوران چین کی صنعتی روبوٹس کی برآمدات 6.29 ارب یوآن تک پہنچ گئیں اور یہ روبوٹس 141 ممالک اور خطوں کو بھیجے گئے۔

چینی کمپنی AGIBOT نے رواں سال 28 جون کو اپنا 15 ہزارواں ایمبوڈیڈ مصنوعی ذہانت والا روبوٹ تیار کیا۔ کمپنی کے روبوٹس کمپیوٹر، کمیونیکیشن، کنزیومر الیکٹرانکس، گوداموں، لاجسٹکس اور تجارتی خدمات سمیت مختلف شعبوں میں استعمال ہو رہے ہیں۔

دوسری جانب Unitree Robotics نے شنگھائی اسٹاک ایکسچینج کے STAR Market میں ابتدائی عوامی پیشکش کے لیے حصص کی سبسکرپشن شروع کردی ہے، جس کے بعد وہ چین کی اے شیئر مارکیٹ میں لسٹ ہونے والی پہلی انسان نما روبوٹ کمپنی بننے کی راہ پر ہے۔

ماہرین کے مطابق مصنوعی ذہانت میں پیش رفت نے بھی چین کی روبوٹکس صنعت کو نئی رفتار دی ہے۔ روبوٹکس اور اے آئی کے امتزاج سے چین نہ صرف اندرونی طلب پوری کرنے بلکہ عالمی مارکیٹ میں اپنی ٹیکنالوجیکل موجودگی بڑھانے کی کوشش کر رہا ہے۔

چین کی انسان نما روبوٹ صنعت میں ہونے والی تیز رفتار ترقی ملک کی صنعتی حکمت عملی میں ایک اہم تبدیلی کی نشاندہی کرتی ہے، جہاں روایتی مینوفیکچرنگ کے ساتھ مصنوعی ذہانت، روبوٹکس اور دیگر جدید ٹیکنالوجیز کو مستقبل کی برآمدات اور صنعتی ترقی کے اہم شعبوں کے طور پر فروغ دیا جا رہا ہے۔

SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں