مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
جمعہ، 9 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.02 EUR/PKR 310.47 GBP/PKR 366.18 سونا/تولہ 430,911 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $81,727 USD/PKR 277.02 EUR/PKR 310.47 GBP/PKR 366.18 سونا/تولہ 430,911 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $81,727
قومی

اسلام آباد میں ’’پاکستان آئیکونک برانڈز‘‘ کی رونمائی، 25 معروف پاکستانی برانڈز کی تاریخ کتاب کا حصہ بن گئی

📅 منگل، 11 اگست 2026 ✍️ Dost news ⏱ 5 منٹ
اسلام آباد میں ’’پاکستان آئیکونک برانڈز‘‘ کی رونمائی، 25 معروف پاکستانی برانڈز کی تاریخ کتاب کا حصہ بن گئی
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد میں ’’پاکستان آئیکونک برانڈز‘‘ کی رونمائی، 25 معروف پاکستانی برانڈز کی تاریخ کتاب کا حصہ بن گئی

اسلام آباد۔11 اگست: پاکستان کی کاروباری اور صنعتی تاریخ کے 25 معروف برانڈز کے سفر اور ملک کی معاشی، سماجی اور ثقافتی زندگی میں ان کے کردار پر مبنی کافی ٹیبل کتاب ’’پاکستان آئیکونک برانڈز‘‘ کی اسلام آباد کلب میں ایک پروقار تقریب کے دوران رونمائی کردی گئی۔

معروف ماہر تعلیم اور لاہور اسکول آف اکنامکس کے پروفیسر ارشد اعوان کی تصنیف کردہ کتاب کی اشاعت کے لیے مالی معاونت مری بروری نے کی ہے۔ کتاب میں ایسے کاروباری اداروں اور برانڈز کی داستانیں شامل کی گئی ہیں جو پاکستان کے ساتھ پروان چڑھے اور وقت کے ساتھ ملک کی اجتماعی یادداشت اور روزمرہ زندگی کا حصہ بن گئے۔

کتاب میں احمد فوڈز، بونانزا، بی پی سویٹس، ڈلڈا، ڈیئر پنسل، ایگل پین، انگلش بسکٹس، فیروز سنز، حبیب بینک، ہمدرد، ہائیکو، کے ٹو، کوہ نور ٹیکسٹائل، لارنس پور، میڈورا، مچلز، مری بروری، پیکیجز، پی آئی اے، جنرل ٹائرز، سروس شوز، سہراب سائیکل، ملت ٹریکٹرز، تبت سنو اور ٹریٹ سمیت 25 برانڈز کی تاریخ اور ارتقائی سفر کو دستاویزی شکل دی گئی ہے۔

تقریب کا اہتمام نیلوفر قاضی نے کیا جس میں کاروباری شخصیات، ماہرین تعلیم، ادیبوں، صحافیوں، سفارت کاروں اور ملک کی علمی و ثقافتی زندگی سے وابستہ نمایاں شخصیات نے شرکت کی۔

اس موقع پر مری بروری کے چیف ایگزیکٹو آفیسر اسفندیار ایم بھنڈارا اور کتاب کے مصنف پروفیسر ارشد اعوان نے خطاب کیا۔

کتاب کی تیاری کے پس منظر پر روشنی ڈالتے ہوئے اسفندیار ایم بھنڈارا نے کہا کہ پاکستان کی تاریخ کا ایک اہم حصہ ان افراد اور کاروباری اداروں کی جدوجہد سے وابستہ ہے جنہوں نے ملک کی تعمیر میں کردار ادا کیا، روزگار پیدا کیا اور صنعتیں قائم کیں۔

انہوں نے کہا کہ کسی ملک کی تاریخ صرف سیاسی واقعات اور حکومتوں کی تاریخ نہیں ہوتی بلکہ صنعت کاروں، کاروباری افراد، کارکنوں اور اداروں کی خدمات بھی قومی تاریخ کا اہم حصہ ہوتی ہیں۔

اسفندیار ایم بھنڈارا نے کہا کہ کتاب میں شامل برانڈز محض کاروباری نام نہیں بلکہ پاکستانیوں کی کئی نسلوں کی یادوں، تجربات اور روزمرہ زندگی سے جڑے ہوئے ہیں، اس لیے ان کے سفر کو محفوظ کرنا ضروری ہے۔

انہوں نے کاروباری برادری میں اتحاد اور مشترکہ آواز کی ضرورت پر زور دیتے ہوئے کہا کہ تاجر، ریٹیلرز اور ٹرانسپورٹرز اپنے مفادات کے لیے نسبتاً زیادہ منظم انداز میں آواز اٹھاتے رہے ہیں، جبکہ صنعتی اور کاروباری برادری اس سطح کی یکجہتی کا ہمیشہ مظاہرہ نہیں کرسکی۔

انہوں نے کہا کہ حکومت کو کاروبار اور صنعت کے لیے ایسا سازگار ماحول فراہم کرنا چاہیے جہاں سرمایہ کاری کو فروغ ملے، کاروبار وسعت اختیار کریں اور روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت کا کام کاروبار چلانا نہیں بلکہ کاروبار کو سہولت فراہم کرنا ہے۔

اسفندیار ایم بھنڈارا نے پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے مستحکم اور قابل پیش گوئی کاروباری ماحول کو ناگزیر قرار دیا۔

تقریب میں آئرلینڈ کے سفیر، سری لنکا اور ماریشس کے ہائی کمشنرز، نیپال کے ڈپٹی ہیڈ آف مشن، اقوام متحدہ کے ترقیاتی پروگرام کے نمائندگان، صدر مملکت کے ترجمان مرتضیٰ سولنگی، پریس سیکریٹری دانیال گیلانی، قائداعظم یونیورسٹی کے وائس چانسلر پروفیسر ڈاکٹر ظفر نواز جسپال سمیت ممتاز صحافیوں، ماہرین تعلیم اور کاروباری برادری سے وابستہ شخصیات نے شرکت کی۔

’’پاکستان آئیکونک برانڈز‘‘ پاکستان کی تاریخ کو کاروبار اور صنعت کے زاویے سے دستاویزی شکل دینے کی ایک اہم کوشش ہے، جس میں ان اداروں اور برانڈز کے سفر کو محفوظ کیا گیا ہے جو قیام پاکستان کے بعد ملک کے ساتھ آگے بڑھے اور آج پاکستانی معاشرے کے اجتماعی تجربے کا حصہ بن چکے ہیں۔

SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں