ایران میں امریکی فوجی کارروائیاں اور مصر کی بندرگاہ پر حملہ

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ امریکا اور ایران کے درمیان جاری کشیدگی میں ایک بار پھر خطرناک حد تک اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ امریکی فوج کی جانب سے ایران کے مختلف علاقوں میں نئی کارروائیوں کا سلسلہ شروع ہو چکا ہے، جس کے بعد خطے کی صورتحال ایران امریکا کشیدگی پورے مشرق وسطیٰ کیلئے خطرہ بن گئی ہے۔ امریکی سینٹرل کمانڈ نے ان تازہ ترین فضائی و فوجی حملوں کی باضابطہ تصدیق کرتے ہوئے کہا ہے کہ یہ کارروائیاں خطے میں تعینات امریکی افواج کے خلاف ہونے والی کارروائیوں کا ردعمل ہیں۔
ایران کے متعدد مقامات پر دھماکے
ایرانی ذرائع کے مطابق جنوبی ایران کے تزویراتی اہمیت کے حامل علاقوں بشمول قشم جزیرہ، بندر عباس، بوشہر اور خوزستان کے مختلف مقامات پر زوردار دھماکوں کی آوازیں سنی گئیں۔ اطلاعات کے مطابق ان کارروائیوں میں خاص طور پر ایرانی پاسدارانِ انقلاب کے ٹھکانوں کو ہدف بنایا گیا، تاہم قشم جزیرے میں کچھ رہائشی عمارتوں کو بھی نقصان پہنچنے کی اطلاعات ہیں۔ ان حملوں نے خطے میں پہلے سے موجود فوجی کشیدگی کو مزید ہوا دے دی ہے اور یہ خدشات بڑھ گئے ہیں کہ یہ تنازع اب دیگر خلیجی ممالک تک پھیل سکتا ہے۔
مصر کی دمیاط بندرگاہ پر گیس جہاز نشانہ
دوسری جانب بحیرۂ روم کے ساحل پر واقع مصر کی دمیاط بندرگاہ پر 29 جولائی کو ایک غیر معمولی واقعہ پیش آیا، جہاں امریکی ملکیت والے فلوٹنگ گیس اسٹوریج جہاز ‘Energos Winter’ کو مبینہ ڈرون حملے کا نشانہ بنایا گیا۔ میری ٹائم سکیورٹی ماہرین کے مطابق، اس حملے کے نتیجے میں جہاز میں شدید آگ بھڑک اٹھی جو بعد ازاں قریب موجود دوسرے گیس ٹینکر ‘GasLog Salem’ تک بھی پھیل گئی۔ اگرچہ مصری وزارتِ پٹرولیم نے دو گیس جہازوں میں آگ لگنے کی تصدیق کی ہے، تاہم انہوں نے اسے باضابطہ طور پر ڈرون حملہ قرار دینے سے گریز کیا ہے۔ خوش قسمتی سے، مصری حکام کے مطابق بروقت کارروائی سے آگ پر قابو پا لیا گیا اور کسی قسم کے جانی نقصان کی اطلاع نہیں ہے۔
توانائی کے مراکز اور علاقائی سلامتی
دمیاط بندرگاہ پر ہونے والا یہ واقعہ اس لحاظ سے نہایت تشویشناک ہے کہ یہ مشرقِ وسطیٰ کے ایک اہم توانائی مرکز پر پیش آیا ہے۔ اس واقعے نے عالمی منڈی میں گیس کی سپلائی اور سمندری تجارت کے تحفظ سے متعلق شدید خدشات کو جنم دیا ہے۔ اس سے قبل سعودی عرب کی بحیرۂ احمر میں حوثیوں کیخلاف عالمی اتحاد کی اپیل بھی اسی خطے میں جاری سکیورٹی بحران کی غمازی کرتی ہے۔ ایران پر تازہ امریکی حملے اور مصر میں توانائی کے جہازوں کو نشانہ بنانا یہ ظاہر کرتا ہے کہ مشرقِ وسطیٰ میں فوجی محاذ آرائی کا دائرہ وسیع ہو رہا ہے، جس پر عالمی برادری نے گہری تشویش کا اظہار کیا ہے۔ جیسا کہ نائب وزیراعظم اسحاق ڈار اور مصری وزیر خارجہ کا ٹیلیفونک رابطہ پہلے ہی علاقائی امن کے قیام کی ضرورت پر زور دے چکا ہے، موجودہ حالات میں سفارتکاری کے راستے مزید محدود ہوتے دکھائی دے رہے ہیں۔
