مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
جمعہ، 2 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,052 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $85,057 USD/PKR 277.10 EUR/PKR 312.29 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 430,052 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $85,057
عالمی

ایران امریکا کشیدگی پورے مشرق وسطیٰ کیلئے خطرہ بن گئی ہے

📅 جمعرات، 30 جولائی 2026 ✍️ Dost news ⏱ 4 منٹ
ایران امریکا کشیدگی پورے مشرق وسطیٰ کیلئے خطرہ بن گئی ہے
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

واشنگٹن (نمائندہ خصوصی)۔ ایران اور امریکا کے درمیان حالیہ فوجی کشیدگی اب صرف دو ممالک کے مابین تنازع تک محدود نہیں رہی بلکہ اس نے پورے مشرق وسطیٰ کو اپنی لپیٹ میں لے لیا ہے۔ نیویارک ٹائمز کی ایک مفصل رپورٹ کے مطابق خطے کے کئی عرب ممالک نے مختلف نوعیت کے تعاون کے ذریعے امریکی کارروائیوں کی حمایت کی ہے، جس سے علاقائی سلامتی، سفارت کاری اور توانائی کے شعبے پر دور رس اثرات مرتب ہونے کا خدشہ پیدا ہو گیا ہے۔

عرب ممالک کا کردار اور دفاعی تعاون

رپورٹ کے مطابق ایران کے خلاف امریکی فضائی کارروائی کے دوران اردن، سعودی عرب اور عراق نے مختلف سطحوں پر اہم کردار ادا کیا۔ بعض ممالک نے فضائی دفاع، انٹیلی جنس معلومات اور لاجسٹک معاونت فراہم کی، جبکہ امریکی افواج کے لیے علاقائی تعاون کو یقینی بنایا گیا۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق اردن نے اپنی فضائی حدود میں داخل ہونے والے ایرانی ڈرونز اور میزائلوں کی نگرانی اور انہیں روکنے کے لیے امریکی اور اتحادی افواج کے ساتھ قریبی تعاون کیا۔ اردن میں موجود امریکی فوجی تنصیبات بھی اس دفاعی حکمت عملی کا اہم حصہ رہیں۔ یاد رہے کہ پاکستان بھی خطے میں امن کا خواہاں ہے اور ماضی میں پاکستان اور کویت کے مابین دفاعی تعاون کے معاہدے کی توثیق کا خیر مقدم کرتے ہیں، دفتر خارجہ کے بیان سے واضح ہوتا ہے کہ خطے میں استحکام کے لیے سفارتی کوششیں ناگزیر ہیں۔

سعودی عرب اور عراق کی صورتحال

رپورٹ میں مزید کہا گیا ہے کہ سعودی عرب نے امریکی حکام کے ساتھ انٹیلی جنس معلومات کے تبادلے، فضائی دفاعی رابطہ کاری اور دیگر تکنیکی تعاون میں حصہ لیا۔ امریکی حکام کے مطابق اس تعاون کا مقصد خطے میں ایران کی عسکری سرگرمیوں کا مؤثر جواب دینا تھا۔ اسی دوران عراق میں موجود امریکی فوجی اڈوں کو ہائی الرٹ پر رکھا گیا، کیونکہ خدشہ تھا کہ ایران سے وابستہ مسلح گروہ جوابی کارروائیاں کر سکتے ہیں۔ رپورٹ کے مطابق امریکی حکام نے عراق میں اپنی تنصیبات کے تحفظ کے لیے اضافی حفاظتی اقدامات بھی کیے ہیں۔ جیسے جنرل سید عامر رضا کی نیول اور ایئر ہیڈ کوارٹرز کا دورہ بھی ملکی سلامتی کے تناظر میں انتہائی اہمیت کا حامل سمجھا جاتا ہے، اسی طرح عراق میں بھی امریکی سکیورٹی فورسز ہائی الرٹ ہیں۔

ایران کا ردعمل اور علاقائی اثرات

دوسری جانب ایران نے امریکی اور اتحادی ممالک کے اقدامات کو خطے میں کشیدگی بڑھانے کا سبب قرار دیتے ہوئے ان کی شدید مذمت کی ہے اور مؤقف اختیار کیا ہے کہ ایسے اقدامات علاقائی استحکام کو مزید نقصان پہنچا سکتے ہیں۔ نیویارک ٹائمز کے مطابق خطے میں حالیہ پیش رفت سے واضح ہوتا ہے کہ ایران اور امریکا کے درمیان تنازع اب ایک وسیع علاقائی معاملہ بن چکا ہے، جس میں مختلف عرب ممالک بھی براہِ راست یا بالواسطہ طور پر شامل ہوتے جا رہے ہیں۔ تجزیہ کاروں کے نزدیک یہ صورتحال مستقبل میں مشرق وسطیٰ کی سلامتی، سفارتی تعلقات اور عالمی توانائی منڈیوں پر گہرے اثرات مرتب کر سکتی ہے۔ حالیہ صورتحال پر وزیراعظم شہباز شریف کی کویتی وزیر خارجہ شیخ جراح سے ملاقات جیسی سفارتی کوششیں اس بات کی عکاس ہیں کہ خطے کے ممالک کشیدگی میں کمی کے خواہاں ہیں۔

ٹیگز: #امریکا #ایران #سفارت کاری #مشرق وسطیٰ #نیویارک ٹائمز
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں