حکومت پاکستان نے 2030 تک طویل المدتی حج پالیسی متعارف کرا دی

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وزارتِ مذہبی امور و بین المذاہب ہم آہنگی نے 2027 سے 2030 تک کے لیے پاکستان کی پہلی طویل المدتی حج پالیسی اور پلان متعارف کرا دیا ہے، جس کا بنیادی مقصد حج انتظامات کو مزید مؤثر، شفاف اور کم لاگت بنانا ہے۔ وفاقی حکومت کی جانب سے متعارف کرایا گیا یہ اقدام موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ عالمی سطح پر کر رہے ہیں، مصدق ملک کے بیانات کی روشنی میں انتظامی امور کو بہتر بنانے کی ایک کڑی معلوم ہوتا ہے۔
طویل المدتی حج پالیسی کے اہم نکات
میڈیا رپورٹس کے مطابق 16 صفحات پر مشتمل نئی پالیسی میں تجویز دی گئی ہے کہ سعودی عرب میں فضائی سفر، رہائش، ٹرانسپورٹ، کیٹرنگ اور سامان کی ترسیل سمیت مختلف خدمات کے لیے تین سے چار سالہ طویل معاہدے کیے جائیں تاکہ اخراجات میں استحکام آئے اور انتظامات بہتر انداز میں کیے جا سکیں۔ اس سے قبل حکومتی سطح پر مختلف شعبوں میں اصلاحات لائی گئی ہیں، جیسا کہ وزیراعظم شہباز شریف کی وفاقی حکومت کے حجم میں کمی کی ہدایت کے تناظر میں انتظامی اخراجات کو کم کرنے پر توجہ دی جا رہی ہے۔
کوٹہ اور مالیاتی شفافیت
نئی پالیسی کے تحت پاکستان کے مجموعی حج کوٹے کا 60 فیصد سرکاری حج اسکیم جبکہ 40 فیصد نجی حج آپریٹرز کے لیے مختص کیا جائے گا۔ اس کے علاوہ کاغذی اور نقد ادائیگیوں کے روایتی نظام کو ختم کرتے ہوئے تمام مالی لین دین اسٹیٹ بینک آف پاکستان اور مربوط ڈیجیٹل پورٹلز کے ذریعے انجام دینے کی تجویز بھی شامل ہے۔ یہ اقدامات ملک میں ڈیجیٹل معیشت کو فروغ دینے اور شفافیت کو یقینی بنانے کے لیے اٹھائے جا رہے ہیں، جیسا کہ پانی ذخیرہ کرنے کی صلاحیت میں اضافہ وقت کی اہم ضرورت، معین وٹو جیسے اہم قومی منصوبوں میں بھی جدید ٹیکنالوجی کے استعمال پر زور دیا جاتا رہا ہے۔
حج سیونگ اسکیم کا قیام
وزارتِ مذہبی امور نے حج سیونگ اسکیم متعارف کرانے کی بھی تجویز دی ہے، جس کے تحت عازمین اپنے مطلوبہ سال میں حج کی ترجیحی بکنگ کے لیے متوقع حج اخراجات کا 10 فیصد جمع کرا سکیں گے۔ رجسٹریشن ‘پہلے آئیں، پہلے پائیں’ کی بنیاد پر ایک کثیر سالہ انتظار فہرست کے ذریعے کی جائے گی۔ حکام کے مطابق اس نئی پالیسی کا مقصد عازمین کو طویل المدتی منصوبہ بندی کا موقع فراہم کرنا، حج انتظامات میں شفافیت لانا اور شہریوں کو پہلے سے مالی تیاری کا بہتر موقع فراہم کرنا ہے۔
