وزیراعظم شہباز شریف کی وفاقی حکومت کے حجم میں کمی کی ہدایت
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وزیراعظم محمد شہباز شریف نے جدید ٹیکنالوجی اور بہتر تربیت کے ذریعے سرکاری اداروں کی کارکردگی میں نمایاں بہتری لانے کی سخت ہدایت کی ہے۔ انہوں نے واضح کیا ہے کہ غیر ضروری آسامیوں اور عہدوں کا خاتمہ موجودہ حکومت کے اصلاحاتی ایجنڈے کا ایک ناگزیر حصہ ہے، جس پر کسی قسم کا سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔
رائٹ سائزنگ کمیٹی کو ایک ماہ کی ڈیڈ لائن
منگل کو اپنی زیر صدارت وفاقی حکومت کے حجم میں کمی (رائٹ سائزنگ) اور حکومتی استعداد کار بڑھانے سے متعلق جائزہ اجلاس سے خطاب کرتے ہوئے وزیراعظم شہباز شریف نے ہدایت کی کہ رائٹ سائزنگ کمیٹی اپنی باقی ماندہ سفارشات ایک ماہ کی قلیل مدت میں مکمل کرے۔ وزیراعظم آفس کے میڈیا ونگ کے مطابق، وزیراعظم نے کہا کہ سیلابی خطرات سے نمٹنے کیلئے حکومتی تیاریوں میں نمایاں بہتری: احسن اقبال کی طرح دیگر اہم شعبوں میں بھی اصلاحات کا عمل تیز کیا جانا چاہیے۔
قومی خزانے پر بوجھ میں کمی
اجلاس میں بریفنگ دیتے ہوئے بتایا گیا کہ رائٹ سائزنگ کے اقدامات کے تحت یوٹیلیٹی سٹورز کارپوریشن، پاک پی ڈبلیو ڈی اور پاسکو کو بند کیا جا چکا ہے، جس سے قومی خزانے کو براہ راست بچت ہو رہی ہے۔ وزیراعظم نے ان اقدامات کے مثبت اثرات کو سراہتے ہوئے کہا کہ عوام کے ٹیکس کے پیسے کا درست استعمال حکومت کی اولین ترجیح ہے۔ اس ضمن میں ملک کی معاشی صورتحال پر تبصرہ کرتے ہوئے کہا گیا کہ پاکستان کو بڑھتی ہوئی آبادی اور موسمیاتی چیلنجز کا سامنا ہے، وزیر خزانہ نے بھی حکومتی اخراجات کم کرنے پر زور دیا ہے۔
تھرڈ پارٹی آڈٹ اور مستقبل کے لائحہ عمل
وزیراعظم نے رائٹ سائزنگ کے تحت ختم کی گئی آسامیوں اور اداروں کا تھرڈ پارٹی آڈٹ کرانے کی بھی ہدایت کی۔ اجلاس میں بتایا گیا کہ ان اقدامات سے سول حکومت کے اخراجات کا جی ڈی پی میں تناسب پہلے سے کم ہو چکا ہے۔ مزید برآں، پی آئی اے اور فرسٹ ویمن بینک لمیٹڈ کی نجکاری مکمل ہو چکی ہے، جبکہ دیگر سرکاری ملکیتی اداروں کی نجکاری پر بھی کام جاری ہے۔ اجلاس میں موجود حکام نے اس بات پر اتفاق کیا کہ موسمیاتی تبدیلی کا مقابلہ عالمی سطح پر کر رہے ہیں، مصدق ملک کی طرح حکومتی سطح پر ہر محکمے کو اپنے دائرہ کار میں رہ کر اخراجات کم کرنے ہوں گے۔ اجلاس میں وفاقی وزراء اعظم نذیر تارڑ، احسن اقبال، محمد اورنگزیب، ڈاکٹر مصدق مسعود ملک، مشیر برائے نجکاری محمد علی، وزیر مملکت برائے خزانہ بلال اظہر کیانی اور متعلقہ حکام نے شرکت کی۔
