مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,627 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,627
بزنس

پاکستان سٹون ڈویلپمنٹ کمپنی کے ڈائریکٹر خادم حسین کا اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی پر تحفظات کا اظہار

📅 منگل، 28 جولائی 2026 ✍️ Dost news ⏱ 3 منٹ
خادم حسین کا اسٹیٹ بینک کی مانیٹری پالیسی پر تحفظات کا اظہار
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

لاہور (نمائندہ خصوصی)۔ پاکستان سٹون ڈویلپمنٹ کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹر کے رکن اور فاؤنڈرز گروپ کے سرگرم رہنما خادم حسین نے اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی جانب سے مانیٹری پالیسی میں کلیدی شرحِ سود برقرار رکھنے کے فیصلے پر شدید تحفظات کا اظہار کیا ہے۔ انہوں نے خبردار کیا ہے کہ موجودہ معاشی حالات میں اس فیصلے سے صنعتی اور تجارتی سرگرمیوں پر منفی اثرات مرتب ہوں گے۔

صنعتی ترقی اور معاشی چیلنجز

خادم حسین نے اپنے بیان میں کہا کہ ملکی معیشت کو اس وقت ایسی مالیاتی پالیسی درکار ہے جو کاروبار دوست ہو اور صنعتوں کو ترقی کے لیے سازگار ماحول فراہم کرے۔ انہوں نے مزید کہا کہ رانا تنویر حسین کی زیر صدارت ویٹ بورڈ اجلاس، گندم درآمد کا فیصلہ کے تناظر میں دیگر شعبوں کو بھی مراعات کی ضرورت ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر سرمایہ سستا ہوگا تو صنعتی پیداوار میں اضافہ، روزگار کے نئے مواقع اور برآمدات میں بہتری ممکن ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ حالیہ مہینوں میں مہنگائی کی رفتار میں نسبتاً استحکام دیکھا گیا ہے، اس لیے شرحِ سود میں تدریجی کمی پر غور کیا جانا چاہیے تاکہ نجی شعبے کا اعتماد بحال ہو اور معاشی سرگرمیوں میں تیزی آئے۔

توانائی اور ٹیکسوں کا دباؤ

انہوں نے مزید کہا کہ توانائی کی بلند قیمتیں، ٹیکسوں کا دباؤ اور مہنگی فنانسنگ پہلے ہی صنعتوں کے لیے بڑے چیلنج بن چکے ہیں۔ اس ضمن میں وزیر اعظم کی زیر صدارت کابینہ کمیٹی برائے توانائی کا اہم اجلاس میں بھی ان مسائل کو ترجیحی بنیادوں پر حل کرنے کی ضرورت پر زور دیا گیا تھا۔ خادم حسین نے نشاندہی کی کہ بلند شرحِ سود برقرار رکھنے سے کاروباری لاگت مزید بڑھنے کا خدشہ ہے جس کے اثرات مقامی پیداوار اور برآمدی شعبے دونوں پر مرتب ہو سکتے ہیں۔

مطالبات اور مستقبل کی حکمت عملی

آخر میں انہوں نے مطالبہ کیا کہ اسٹیٹ بینک آئندہ مانیٹری پالیسی میں معاشی حقائق، صنعتی ضروریات اور سرمایہ کاری کے فروغ کو مدنظر رکھتے ہوئے فیصلے کرے۔ انہوں نے کہا کہ ملک میں معاشی بہتری کے لیے طاقتور حلقے مسلم لیگ ن کی حکومت کا بوجھ اٹھانے کو تیار نہیں، گورنر سلیم حیدر جیسے بیانات سے گریز کرتے ہوئے ٹھوس معاشی اصلاحات کی ضرورت ہے۔ ان کے مطابق، متوازن مالیاتی پالیسی ہی معیشت کو پائیدار ترقی، صنعتی بحالی اور عالمی منڈی میں بہتر مسابقت کی جانب لے جا سکتی ہے۔

ٹیگز: #اسٹیٹ بینک #خادم حسین #صنعتی ترقی #کاروباری لاگت #مانیٹری پالیسی
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں