سعودی وزیر دفاع کے ترک اور جنوبی افریقی ہم منصبوں سے رابطے

ریاض (نمائندہ خصوصی)۔ سعودی عرب کے وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے ترکیہ اور جنوبی افریقہ کے وزرائے دفاع سے الگ الگ ٹیلی فونک رابطے کیے، جن میں دفاعی تعاون، خطے کی موجودہ صورتحال اور امن و سلامتی کے فروغ سے متعلق امور پر تفصیلی تبادلہ خیال کیا گیا۔
ترکیہ کے ساتھ دفاعی اشتراک کا فروغ
ترکیہ کے وزیرِ قومی دفاع یاشار گولر سے ٹیلی فونک گفتگو کے دوران دونوں رہنماؤں نے سعودی عرب اور ترکیہ کے درمیان فوجی اور دفاعی تعاون کو مزید مستحکم اور وسعت دینے کے طریقوں پر بات چیت کی۔ اس اہم رابطے میں خطے میں جاری پیش رفت، علاقائی استحکام اور امن کے فروغ کے لیے کی جانے والی مشترکہ کوششوں کے علاوہ مختلف علاقائی و بین الاقوامی امور کا بھی گہرائی سے جائزہ لیا گیا۔ یاد رہے کہ بھارت کا پاکستان مخالف منظم ڈیجیٹل پروپیگنڈا نیٹ ورک بے نقاب ہونے کے بعد عالمی سطح پر سیکیورٹی تعاون کی اہمیت مزید بڑھ گئی ہے۔
جنوبی افریقہ کے ساتھ سیکیورٹی تعاون پر اتفاق
دوسری جانب سعودی وزیرِ دفاع شہزادہ خالد بن سلمان نے جنوبی افریقہ کی وزیرِ دفاع و فوجی امور اینجلینا موٹسیکگا سے ٹیلی فونک رابطہ کیا۔ اس دوران دونوں ممالک کے درمیان دفاعی اور عسکری تعلقات کو فروغ دینے پر اتفاق کیا گیا۔ دونوں رہنماؤں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ موجودہ علاقائی چیلنجز سے نمٹنے کے لیے باہمی تعاون ناگزیر ہے۔ اس سے قبل مون سون 2026: این ڈی ایم اے نے ہنگامی تیاریوں کا جائزہ لیا، جس طرح موسمیاتی تبدیلیوں کے اثرات خطے پر مرتب ہو رہے ہیں، اسی طرح دفاعی سطح پر بھی عالمی امن و سلامتی کے تحفظ کے لیے مشترکہ تعاون جاری رکھنے پر اتفاق کیا گیا۔
خطے میں امن و امان کا قیام
سعودی وزیر دفاع نے واضح کیا کہ سعودی عرب علاقائی و عالمی سطح پر امن کے قیام کے لیے اپنے شراکت داروں کے ساتھ مل کر کام کرنے کے لیے پرعزم ہے۔ اس ضمن میں مختلف ممالک کے ساتھ دفاعی روابط میں اضافہ ایک اہم پیش رفت قرار دی جا رہی ہے۔ اس حوالے سے مزید کہا گیا کہ بھارت سندھ طاس معاہدہ یکطرفہ طور پر منسوخ نہیں کر سکتا: قیصر شیخ جیسے اہم علاقائی معاملات میں بھی شفافیت اور باہمی تعاون ہی دیرپا امن کی ضمانت ہے۔
