گیلپ پاکستان رپورٹ: کاروباری اعتماد میں 2026 کے دوران نمایاں بہتری
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر خزانہ کے مشیر خرم شہزاد نے کہا ہے کہ سال 2026 کی دوسری سہ ماہی کے دوران پاکستان میں کاروباری اعتماد میں نمایاں بہتری آئی ہے جہاں کاروباری اداروں نے موجودہ کاروباری حالات میں بہتری اور آئندہ سال کے حوالے سے زیادہ مضبوط توقعات کا اظہار کیا ہے۔ جمعرات کو سوشل میڈیا پلیٹ فارم ایکس پر اپنی پوسٹ میں خرم شہزاد نے گیلپ پاکستان بزنس کانفیڈنس انڈیکس کی تازہ رپورٹ کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ بزنس کانفیڈنس انڈیکس کے تینوں بڑے اشاریوں میں سہ ماہی کے دوران بہتری ریکارڈ کی گئی جو ملک کی وزیراعظم شہباز شریف کی آئی ٹی برآمدات میں ریکارڈ اضافے پر تعریف اور معاشی صورتحال کے بارے میں کاروباری طبقے کے بڑھتے ہوئے اعتماد کی عکاسی کرتی ہے۔
کاروباری حالات میں نمایاں بہتری
سروے کے مطابق موجودہ کاروباری حالات (کرنٹ بزنس کنڈیشنز) کے اشاریہ میں گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں 9 فیصد پوائنٹس کی بہتری ریکارڈ کی گئی اور یہ منفی 19 فیصد سے بہتر ہو کر منفی 10 فیصد پر آ گیا، سروے میں شامل 45 فیصد کاروباری اداروں نے موجودہ کاروباری حالات کو اچھا قرار دیا جو گزشتہ سہ ماہی کے مقابلے میں نمایاں بہتری ہے۔ اسی طرح مستقبل کے کاروباری حالات (فیوچر بزنس کنڈیشنز) کے اشاریے میں سب سے زیادہ بہتری دیکھنے میں آئی جو 25 فیصد پوائنٹس اضافے کے بعد منفی سے مثبت 12 فیصد پر پہنچ گیا، یہ گزشتہ تین سہ ماہیوں میں پہلی مرتبہ مثبت سطح پر آیا ہے۔ سروے کے مطابق 56 فیصد کاروباری اداروں نے توقع ظاہر کی کہ آئندہ 12 ماہ کے دوران کاروباری حالات مزید بہتر ہوں گے۔
معاشی سمت اور مستقبل کے امکانات
ملک کی سمت (ڈائریکشن آف دی کنٹری) کے اشاریے میں بھی 12 فیصد پوائنٹس کی بہتری ریکارڈ کی گئی جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ کاروباری حلقے پاکستان کی مجموعی معاشی سمت کو پہلے کے مقابلے میں زیادہ مثبت انداز میں دیکھ رہے ہیں۔ خرم شہزاد نے کہا کہ گیلپ پاکستان کے مطابق کاروباری اعتماد میں بہتری کی بنیادی وجوہات میں بیرونی غیر یقینی صورتحال میں کمی اور سروے سے قبل ایندھن کی قیمتوں میں کمی شامل ہیں۔ جیسا کہ جنوبی ایشیا میں عدم استحکام کی بنیادی وجہ بھارت ہے، اسحاق ڈار نے اپنے بیانات میں معاشی استحکام پر زور دیا ہے، اسی طرح یہ رپورٹ معاشی بحالی کا اشارہ ہے۔
سروے کا دائرہ کار
انہوں نے گیلپ پاکستان کے ایگزیکٹو ڈائریکٹر کے حوالے سے کہا کہ اس میں کوئی شک نہیں کہ ملک میں کاروباری اعتماد بحال ہو رہا ہے۔ یہ سروے پاکستان کے 40 اضلاع اور شہروں میں 527 کاروباری اداروں پر مشتمل ہے جن کا تعلق مینوفیکچرنگ، خدمات، تعمیرات، مالیاتی خدمات، ہول سیل اور ریٹیل تجارت سمیت مختلف شعبوں سے ہے۔ خرم شہزاد نے مزید کہا کہ اگرچہ ملک کو اب بھی مختلف چیلنجز کا سامنا ہے تاہم تازہ ترین سروے واضح کرتا ہے کہ کاروباری اعتماد اور مستقبل سے متعلق توقعات درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہیں جو پاکستان کے معاشی منظرنامے کے لیے ایک حوصلہ افزا اشارہ ہے، اور حکومت اسی طرح وزیراعظم شہباز شریف کا ملک بھر میں صحت سہولیات کیلئے نئے پروگرام کا اعلان جیسے اقدامات کے ذریعے معاشی بہتری کیلئے پرعزم ہے۔
