پاکستانی معیشت سرمایہ کاری پر مبنی بحالی کے نئے دور میں داخل
فیصل آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر برائے سرمایہ کاری بورڈ قیصر احمد شیخ نے کہا ہے کہ چینی فارماسیوٹیکل کمپنیوں کے ساتھ تقریباً 40 سے 42 ملین ڈالر مالیت کے عملی سرمایہ کاری معاہدوں کے بعد پاکستان سرمایہ کاری پر مبنی معاشی بحالی کے ایک نئے مرحلے میں داخل ہو چکا ہے۔ انہوں نے کہا کہ غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ، سیاسی استحکام اور قومی معاشی اتفاق رائے کے ذریعے نہ صرف روزگار کے نئے مواقع پیدا ہوں گے بلکہ صحت کے شعبے کا بنیادی ڈھانچہ مضبوط ہوگا اور ملکی معیشت کو پائیدار بنیاد پر استحکام حاصل ہوگا۔ ان خیالات کا اظہار انہوں نے چنیوٹ کے نواحی علاقے میں 146 بھکڑی چوک میں منعقدہ ایک فری میڈیکل کیمپ کے دورے کے موقع پر میڈیا سے گفتگو کرتے ہوئے کیا۔
چین کے ساتھ کاروباری روابط میں اضافہ
وفاقی وزیر نے بتایا کہ اس وقت تقریباً 100 چینی سرمایہ کار اور کاروباری شخصیات اسلام آباد میں موجود ہیں جہاں پاکستان اور چین کے درمیان فارماسیوٹیکل اور صحت کے شعبوں میں سرمایہ کاری کے فروغ کے لیے ایک اہم بزنس ٹو بزنس (بی ٹو بی) کانفرنس منعقد کی گئی ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ ماضی میں اس نوعیت کے بیشتر پروگرام محض مفاہمتی یادداشتوں تک محدود رہتے تھے تاہم اس مرتبہ کانفرنس میں 40 سے 42 ملین ڈالر کے عملی سرمایہ کاری معاہدے طے پائے ہیں، جس طرح نیوٹک نے پاکستان اور چین کے درمیان تکنیکی تعاون کو فروغ دیا ہے، اسی طرح یہ معاہدے بھی ملکی صنعت کے لیے سنگ میل ثابت ہوں گے۔ انہوں نے اس کامیابی کو وزیراعظم محمد شہباز شریف کی سرمایہ کار دوست پالیسیوں اور بورڈ آف انویسٹمنٹ کی مؤثر حکمت عملی کا نتیجہ قرار دیا۔
معاشی استحکام اور چارٹر آف اکانومی
قیصر احمد شیخ نے کہا کہ ان معاہدوں کے تحت چینی کمپنیاں پاکستان میں ادویات کی تیاری کے منصوبوں میں سرمایہ کاری کریں گی، جس سے نئی صنعتوں کے قیام کی راہ ہموار ہوگی۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان کی معاشی ترقی کے لیے سیاسی استحکام ناگزیر ہے اور تمام سیاسی جماعتوں کو قومی مفاد میں اختلافات سے بالاتر ہو کر مشترکہ معاشی حکمت عملی اپنانا ہوگی۔ انہوں نے وزیراعظم کے پیش کردہ "چارٹر آف اکانومی” کے تصور کی حمایت کرتے ہوئے کہا کہ معاشی پالیسیوں کا تسلسل اور سرمایہ کاروں کا اعتماد ہی ملک کو ترقی کی راہ پر گامزن کر سکتا ہے۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ حکومت بدعنوانی کے خلاف بلاامتیاز مہم جاری رکھے گی، بیرسٹر عقیل ملک کے بیان کی طرح معاشی شفافیت بھی خوشحالی کی ضمانت ہے۔ صحت اور تعلیم کے شعبوں میں سرمایہ کاری کی ضرورت انہوں نے کہا کہ دنیا کے کئی ممالک اپنی قومی آمدن کا تقریباً چار فیصد صحت کے شعبے پر خرچ کرتے ہیں جبکہ پاکستان میں یہ شرح ایک فیصد ہے، جسے بڑھانے کے لیے معاشی سرگرمیاں تیز کرنا ضروری ہیں۔ انہوں نے کہا کہ حکومت صحت اور تعلیم کے شعبوں پر زیادہ وسائل خرچ کرنا چاہتی ہے، جس کے لیے صنعتی ترقی اور سرمایہ کاری ناگزیر ہے۔ انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی آئی ٹی برآمدات 4.6 ارب ڈالر کی بلند ترین سطح پر پہنچ چکی ہیں، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ ملکی معیشت درست سمت میں گامزن ہے۔ انہوں نے آخر میں کہا کہ حکومت ملکی و غیر ملکی سرمایہ کاری کے فروغ، روزگار کے نئے مواقع پیدا کرنے اور عوام کی زندگی میں آسانیاں پیدا کرنے کے لیے اپنی کوششیں پوری قوت کے ساتھ جاری رکھے گی۔
