مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
اتوار، 4 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.83 EUR/PKR 311.48 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 429,972 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,802 USD/PKR 276.83 EUR/PKR 311.48 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 429,972 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,802
قومی

پی آئی اے کی 14.2 ارب روپے مالیت کی جائیدادیں منتقل

📅 جمعرات، 16 جولائی 2026 ✍️ Dost news ⏱ 4 منٹ
پی آئی اے کی 14.2 ارب روپے مالیت کی جائیدادیں منتقل
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی حکومت نے پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز (پی آئی اے) کی نجکاری کے معاہدے کے تحت 14.2 ارب روپے مالیت کی 11 اہم جائیدادیں خریدار کنسورشیم کو منتقل کر دی ہیں۔ اس اہم پیش رفت کے بعد کنسورشیم نے پی آئی اے کارپوریشن لمیٹڈ (PIACL) میں 75 فیصد حصص اور انتظامی کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ یہ عمل ملک کے ایوی ایشن سیکٹر میں ایک نئی تبدیلی کی جانب پیش قدمی ہے۔ یاد رہے کہ ماضی میں بھی حکومتی سطح پر حکومت میڈیا ورکرز کے تحفظ اور شفاف ایڈورٹائزمنٹ پالیسی کیلئے پرعزم ہے، وفاقی وزیر اطلاعات کے تحت شفافیت کو فروغ دینے پر زور دیا گیا تھا۔

نجکاری کمیشن کی سینیٹ کمیٹی کو بریفنگ

نجکاری کمیشن کے سیکرٹری عثمان باجوہ نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے نجکاری کو بریفنگ دیتے ہوئے انکشاف کیا کہ منتقل کی گئی 11 املاک، پی آئی اے کی کل 44 جائیدادوں کے پورٹ فولیو کا حصہ ہیں۔ باقی 33 جائیدادیں پی آئی اے ہولڈنگ کمپنی کے پاس رہیں گی۔ ملک میں جاری دیگر اقتصادی اصلاحات کے تناظر میں ٹائر کی مقامی صنعت کو فروغ دینے کیلئے جامع پالیسیاں ناگزیر ہیں، اور پی آئی اے کی نجکاری بھی اسی سلسلے کی ایک کڑی ہے۔

منتقل شدہ جائیدادوں کی تفصیل

منتقل کی گئی جائیدادوں میں پاکستان میں واقع چار اہم املاک شامل ہیں جن کی مجموعی مالیت 10.6 ارب روپے بنتی ہے۔ ان میں راولپنڈی کے مال روڈ پر واقع پی آئی اے بکنگ آفس، پشاور کے ارباب روڈ پر سیلز آفس، اسلام آباد کے جناح ایونیو، بلیو ایریا میں واقع پی آئی اے سیلز آفس اور کوئٹہ کینٹ میں شاہراہ حالی پر واقع سیلز آفس کی عمارت شامل ہیں۔ اس کے علاوہ بیرون ملک واقع سات اثاثے بھی کنسورشیم کو منتقل کیے گئے ہیں، جن میں ممبئی، نئی دہلی، ایمسٹرڈیم، تاشقند اور نیویارک کے علاقے سکارسڈیل میں واقع رہائشی و کمرشل املاک شامل ہیں۔ حکومت کی جانب سے قومی اثاثوں کی یہ منتقلی اہم فیصلوں کا حصہ ہے، جس کی اہمیت کا اندازہ اس بات سے لگایا جا سکتا ہے کہ ماضی میں وفاقی وزیر عبدالعلیم خان کا موٹروے ایم 5 کا خصوصی دورہ بھی اہم قومی منصوبوں کی نگرانی کے لیے کیا گیا تھا۔

مستقبل کے لائحہ عمل اور سرمایہ کاری

عثمان باجوہ نے کمیٹی کو آگاہ کیا کہ پی آئی اے کی نئی انتظامیہ اسلام آباد کو ایئر لائن کا مرکزی آپریشنل ہب بنانے کا ارادہ رکھتی ہے۔ حکومت نے 29 جون 2026 کو پی آئی اے کے 75 فیصد حصص کی فروخت مکمل کی تھی۔ معاہدے کے مطابق کنسورشیم ایئر لائن میں 80 ارب روپے کی نئی ایکویٹی سرمایہ کاری کرے گا، جو بیڑے کی توسیع اور جدید کاری پر خرچ ہوگی۔ نجکاری معاہدے کے تحت پہلے مرحلے میں 10 ارب روپے ادا کیے جا چکے ہیں، جبکہ آئندہ 12 ماہ میں 45 ارب روپے مزید ادا کر کے حکومت کو مجموعی طور پر 55 ارب روپے موصول ہوں گے اور پی آئی اے کی 100 فیصد ملکیت کنسورشیم کے پاس چلی جائے گی۔

ٹیگز: #پاکستان انٹرنیشنل ایئر لائنز #سرمایہ کاری #معیشت #نجکاری
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں