وفاقی وزیر قانون اور یورپی یونین کے سفیر کی ملاقات: انسانی حقوق اور جی ایس پی پلس پر اہم پیش رفت
اسلام آباد (نمائندہ خصوصی)۔ وفاقی وزیر قانون و انسانی حقوق سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے یورپی یونین اور یورپی ممالک کے سفیروں اور سینئر سفارت کاروں کے اعلیٰ سطحی وفد سے ملاقات کی، جس کی قیادت پاکستان میں یورپی یونین کے سفیر ریمونڈاس کاروبارلس کر رہے تھے۔ یہ ملاقات 9 جولائی کو اسلام آباد میں منعقد ہوئی۔
پاکستان اور یورپی یونین کے تعلقات، جی ایس پی پلس فریم ورک، انسانی حقوق
ملاقات میں پاکستان اور یورپی یونین کے درمیان تعلقات کے فروغ، جی ایس پی پلس فریم ورک کے نفاذ، انسانی حقوق کے تحفظ، قانون کی حکمرانی کو مضبوط بنانے اور باہمی تعاون کے مختلف اہم پہلوؤں پر تفصیلی اور تعمیری تبادلہ خیال کیا گیا۔ دونوں فریقوں نے اس بات پر زور دیا کہ دیرینہ شراکت داری کو مزید مضبوط اور مستحکم بنانے کے لیے مسلسل رابطے اور عملی تعاون بہت ضروری ہے۔
انسانی حقوق کے فروغ میں پاکستان کی کوششوں کو سراہا گیا
یورپی یونین کے وفد نے انسانی حقوق کے فروغ کے لیے پاکستان کی جانب سے کی جانے والی کوششوں کو خصوصی طور پر سراہا۔ وفد نے قومی کمیشن برائے اقلیتوں کے قیام کو ایک اہم پیش رفت قرار دیا اور تحفظِ صحافیان و میڈیا پروفیشنلز ایکٹ کے نفاذ کو بھی انسانی حقوق کے تحفظ کی جانب ایک مثبت قدم قرار دیا۔ اس موقع پر سزائے موت پر عائد پابندی، انسانی حقوق سے متعلق دیگر اہم امور اور پاکستان کی بین الاقوامی ذمہ داریوں کے حوالے سے بھی تفصیلی گفتگو کی گئی۔
حکومت کی قانونی و ادارہ جاتی اصلاحات پر روشنی ڈالی گئی
سینیٹر اعظم نذیر تارڑ نے وفد کو بنیادی حقوق کے تحفظ، انصاف تک رسائی کو بہتر بنانے اور قانون کی حکمرانی کو مزید مستحکم کرنے کے لیے حکومت کی جانب سے جاری قانونی اور ادارہ جاتی اصلاحات کے بارے میں تفصیلی معلومات فراہم کیں۔ انہوں نے اس عزم کا اعادہ کیا کہ پاکستان آئین اور قانون کے دائرہ کار کے مطابق انسداد دہشت گردی کے مؤثر اقدامات کو جاری رکھنے کے ساتھ ساتھ انسانی حقوق کے فروغ کے لیے بھی پوری طرح پرعزم ہے۔
مستقبل میں تعاون اور مکالمے کو فروغ دینے کا عزم
ملاقات ایک خوشگوار اور تعمیری ماحول میں اختتام پذیر ہوئی، جس کے بعد دونوں جانب سے مشترکہ اہداف کے حصول کے لیے تعاون اور باقاعدہ مکالمے کو مزید فروغ دینے کے عزم کا اعادہ کیا گیا۔
