مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
ہفتہ، 3 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,622 USD/PKR 276.82 EUR/PKR 311.47 GBP/PKR 366.01 سونا/تولہ 429,945 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,622
قومی

گروپ کیپٹن عاصم طارق قتل کیس: مرکزی ملزم 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر

📅 بدھ، 08 جولائی 2026 ✍️ Dost news ⏱ 3 منٹ
تصویر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

اسلام آباد (نمائندہ خصوصی) —

اسلام آباد کی انسدادِ دہشت گردی عدالت (ATC) نے پاک فضائیہ کے گروپ کیپٹن عاصم طارق کے ہائی پروفائل قتل کیس میں اہم پیشرفت کرتے ہوئے مرکزی ملزم کو شناختی پریڈ کے لیے 14 روزہ جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیج دیا ہے۔

کیس کی تفصیلات اور عدالتی کارروائی

تفصیلات کے مطابق، وفاقی دارالحکومت کے تھانہ کورال کی حدود میں پیش آنے والے اس افسوسناک اور لرزہ خیز واقعے کے بعد پولیس نے تفتیش کا دائرہ وسیع کرتے ہوئے ملزم کو گرفتار کیا تھا۔ پیر کے روز ملزم کو سخت سیکیورٹی کے حصار میں انسدادِ دہشت گردی عدالت کے جج کے سامنے پیش کیا گیا۔ وفاقی وزیر داخلہ محسن نقوی کا گروپ کیپٹن کی شہادت پر اظہار افسوس

شناختی پریڈ کی ضرورت اور عدالتی حکم

سماعت کے دوران، تفتیشی افسر نے عدالت سے استدعا کی کہ مقتول گروپ کیپٹن عاصم طارق کے قتل کے اس حساس معاملے میں عینی شاہدین کے ذریعے ملزم کی شناخت کا عمل (شناختی پریڈ) انتہائی ضروری ہے۔ اس قانونی کارروائی کو مکمل کرنے کے لیے ملزم کو جیل منتقل کرنے کی اجازت دی جائے۔

عدالت نے پولیس کی درخواست منظور کرتے ہوئے ملزم کو 14 دن کے جوڈیشل ریمانڈ پر جیل بھیجنے کا حکم صادر کیا اور ہدایت کی کہ جیل انتظامیہ کی نگرانی میں مقررہ قانون کے مطابق ملزم کی شناختی پریڈ کا عمل جلد از جلد مکمل کیا جائے، تاکہ کیس کے حقائق اور شواہد کو مزید مضبوط کیا جا سکے۔

تحقیقات کا دائرہ اور آئندہ کے اقدامات

واضح رہے کہ گروپ کیپٹن عاصم طارق کا قتل اسلام آباد کے حساس ترین علاقوں میں سیکیورٹی کے حوالے سے ایک سنگین سوالیہ نشان بن کر ابھرا تھا۔ وفاقی وزیر ریلوے حنیف عباسی کا کیپٹن کرنل شیر خان شہید کو خراج عقیدت کی طرح اس معاملے پر بھی حکومتی حلقوں میں تشویش پائی جاتی ہے۔ اس کے بعد پولیس کے اعلیٰ حکام اور جے آئی ٹی (JIT) اس کیس کی ہر زاویے سے تحقیقات کر رہی ہیں۔ قانون نافذ کرنے والے اداروں کا کہنا ہے کہ شناختی پریڈ کے فوری بعد ملزم سے مزید تفتیش کے لیے دوبارہ جسمانی ریمانڈ کی استدعا کی جائے گی تاکہ قتل کے پیچھے چھپے اصل محرکات اور سہولت کاروں کو بے نقاب کیا جا سکے۔

اس واقعے کے بعد سیکیورٹی اداروں نے حساس علاقوں میں سیکیورٹی کے انتظامات مزید سخت کر دیے ہیں۔ بی بی سی اردو کے مطابق، اس قسم کے واقعات ملک میں امن و امان کی صورتحال پر سوالات اٹھاتے ہیں۔

ٹیگز: #اسلام آباد پولیس #انسداد دہشت گردی عدالت #پاک فضائیہ #جوڈیشل ریمانڈ #گروپ کیپٹن عاصم طارق
SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں