یوفون اور ٹیلی نار کا انضمام: نئے نام کے لیے پی ٹی اے کو درخواست جمع
اسلام آباد: پاکستان کے ٹیلی کام سیکٹر میں ایک بڑی اور اہم پیش رفت سامنے آئی ہے، جہاں یوفون اور ٹیلی نار پاکستان کے کامیاب انضمام کے بعد اب ایک نئے مشترکہ برانڈ نام کو متعارف کرانے کی تیاریاں تیز کر دی گئی ہیں۔ اس سلسلے میں پاکستان ٹیلی کمیونیکیشن اتھارٹی (PTA) کو باضابطہ درخواست بھی جمع کرا دی گئی ہے۔
ذرائع کے مطابق، یوفون کی مالک کمپنی پاک ٹیلی کام موبائل لمیٹڈ (PTML) اور اس کی پیرنٹ کمپنی پی ٹی سی ایل (PTCL) نے انضمام کے بعد بننے والی نئی کمپنی کی ری برانڈنگ اور نئے نام کے لیے پی ٹی اے سے باضابطہ منظوری طلب کی ہے۔
تاہم، پی ٹی اے نے کمپنی کو واضح کیا ہے کہ کسی بھی نئی برانڈنگ، تشہیری مہم یا نئے نام کے باضابطہ اجرا سے قبل سیکیورٹیز اینڈ ایکسچینج کمیشن آف پاکستان (SECP) کی جانب سے نوٹیفکیشن کا حصول لازمی ہوگا۔ اس قانونی نوٹیفکیشن میں انضمام کے بعد کمپنی کے بورڈ آف ڈائریکٹرز کی تشکیل اور دیگر کارپوریٹ تبدیلیوں کی تصدیق شامل ہوگی۔
وزارتِ آئی ٹی و ٹیلی کمیونیکیشن کے ایک عہدیدار نے اس حوالے سے بتایا کہ چونکہ ٹیلی نار پاکستان یکم جولائی 2026 سے ایک الگ قانونی ادارے کے طور پر اپنی حیثیت ختم کر کے مکمل طور پر پی ٹی ایم ایل (PTML) میں ضم ہو چکا ہے، اس لیے بورڈ میں کسی بھی قسم کی تبدیلی یا سابقہ بورڈ برقرار رہنے کی صورت میں بھی ایس ای سی پی کی منظوری ناگزیر ہے۔ پی ٹی اے نے مؤقف اپنایا ہے کہ جب تک یہ تمام قانونی تقاضے پورے نہیں ہوتے، تب تک نئے برانڈ کی لانچنگ یا تشہیر کی اجازت نہیں دی جا سکتی۔
واضح رہے کہ یکم جولائی سے نافذ العمل ہونے والے اس تاریخی انضمام کے بعد ٹیلی نار پاکستان کے تمام اثاثے، نیٹ ورک، صارفین اور ذمہ داریاں یوفون (PTML) کو منتقل ہو چکی ہیں، جس کے بعد یہ مشترکہ کمپنی صارفین کی تعداد کے لحاظ سے اب ملک کا دوسرا بڑا موبائل نیٹ ورک آپریٹر بن چکی ہے۔
اگر ریگولیٹری اداروں کی جانب سے اس نئی برانڈنگ کی منظوری مل جاتی ہے، تو مارکیٹ سے یوفون اور ٹیلی نار کے انفرادی برانڈز ختم ہو جائیں گے اور ان کی جگہ ایک نیا مشترکہ برانڈ لے گا، جو مستقبل میں موبائل، ڈیجیٹل اور 5G سمیت تمام خدمات فراہم کرے گا۔ نئے برانڈ کے نام کو فی الحال خفیہ رکھا گیا ہے اور اس کا باضابطہ اعلان تمام ریگولیٹری مروجہ قوانین اور منظوریوں کی تکمیل کے بعد ہی کیا جائے گا۔
