مرکزی مواد پر جائیں
☀️ اسلام آباد: 26°C
اتوار، 4 اکتوبر 2026
تازہ ترین
📊 ریٹ
USD/PKR 276.83 EUR/PKR 311.48 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 429,972 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,785 USD/PKR 276.83 EUR/PKR 311.48 GBP/PKR 365.99 سونا/تولہ 429,972 PKR KSE-100 78,400 Bitcoin $84,785
قومی

تحریک انصاف کی وفاقی بجٹ پر کڑی تنقید، غریب دشمن قرار

📅 پیر، 15 جون 2026 ✍️ Dost news ⏱ 5 منٹ
تصویر
f 𝕏 ✈ شیئر کریں
f 𝕏
✓ لنک کاپی ہو گیا

عوامی بجٹ یا اشرافیہ کا تحفظ؟ پی ٹی آئی کا بڑا اعتراض

اسلام آباد سے نمائندہ خصوصی کے مطابق، وفاقی بجٹ برائے سال 2026-27 پر پاکستان تحریک انصاف (پی ٹی آئی) کے قائدین اور رہنماؤں نے شدید تحفظات کا اظہار کرتے ہوئے وفاقی حکومت کو کڑی تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔ اس سلسلے میں وفاقی بجٹ پر پی ٹی آئی کا شدید ردعمل، غریب دشمن قرار دینے کی شکل میں سامنے آیا ہے، جہاں پی ٹی آئی کے مرکزی رہنماؤں نے الزام عائد کیا ہے کہ موجودہ حکومت کا بجٹ عام آدمی کو کسی بھی قسم کا ریلیف دینے میں مکمل طور پر ناکام رہا ہے اور اس میں پہلے سے دبے ہوئے غریب اور متوسط طبقات پر مزید معاشی بوجھ ڈالنے کا منصوبہ تیار کیا گیا ہے۔

اشرافیہ نوازی اور ٹیکسوں کا غیر منصفانہ بوجھ

اپوزیشن جماعت کے مطابق، اس بجٹ میں ملک کے بااثر اور امیر ترین کاروباری طبقات کو خصوصی مراعات اور گنجائش فراہم کی گئی ہے، جب کہ تنخواہ دار طبقہ، چھوٹے تاجر اور عام شہری مہنگائی اور ٹیکسوں کے بھاری دباؤ تلے مزید پس کر رہ گئے ہیں۔ اپوزیشن لیڈر عمر ایوب خان سمیت پی ٹی آئی کے دیگر اہم رہنماؤں کا مؤقف ہے کہ حکومت کی معاشی پالیسیوں کے نتیجے میں ملک کا غریب طبقہ مزید غریب اور امیر ترین طبقہ مزید مضبوط اور طاقتور ہو رہا ہے۔

بجٹ میں ریلیف اور روزگار کے مواقع کا فقدان

تحریک انصاف کے مرکزی رہنماؤں سلمان اکرم راجہ، سینیٹر شبلی فراز اور بیرسٹر سیف نے بجٹ کو عوامی مشکلات کے تناظر میں مکمل طور پر غیر مؤثر اور عوام دشمن قرار دیا ہے۔ پارٹی رہنماؤں کا کہنا ہے کہ تحریک انصاف نے وفاقی بجٹ مسترد کر دیا ہے کیونکہ حکومت کی جانب سے معاشی استحکام کے بلند و بانگ دعوے تو کیے جا رہے ہیں، لیکن گیس، بجلی، پٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں، ٹیکسوں کے بوجھ اور بے روزگاری کے ستائے ہوئے عوام کو اس مبینہ استحکام کا ذرہ برابر بھی فائدہ نہیں پہنچا۔

ٹیکس نیٹ بڑھانے کے بجائے پہلے سے ٹیکس دہندگان کو نشانہ بنانا

پی ٹی آئی کا سب سے بڑا اعتراض یہ ہے کہ حکومت ٹیکس نیٹ کا دائرہ کار وسیع کرنے میں ناکام رہی ہے اور اس نے اپنی نااہلی چھپانے کے لیے پہلے سے ہی ٹیکس دینے والے تنخواہ دار طبقے اور ایماندار ٹیکس دہندگان پر مزید دباؤ بڑھا دیا ہے۔ غیر ملکی خبر رساں ادارے ’رائٹرز‘، معتبر اخبار ’ڈان‘ اور بی بی سی اردو کے مطابق، پی ٹی آئی نے تنخواہ دار طبقے کو سب سے زیادہ ٹیکس زدہ طبقہ قرار دیتے ہوئے واضح کیا کہ بجٹ میں ملنے والا محدود ریلیف افراط زر اور بے پناہ مہنگائی کے طوفان میں بہہ جائے گا۔ حکومت نے پائیدار ٹیکس اصلاحات متعارف کرانے کے بجائے جرمانوں، سخت آڈٹ اور زبردستی نفاذ (Enforcement) پر پورا تکیہ کر رکھا ہے۔

آئی ایم ایف کے کڑے اہداف اور بجٹ کی تفصیلات

سرکاری میڈیا نیٹ ورک ریڈیو پاکستان کی رپورٹس کے مطابق، پاکستان کا مالی سال 2026-27 کا مجموعی وفاقی بجٹ 18.77 ٹریلین روپے پر محیط ہے، جس میں دفاعی اخراجات اور بیرونی قرضوں کی ادائیگیوں کو اولین ترجیح دی گئی ہے، جبکہ ترقیاتی بجٹ اور عوامی فلاحی کاموں کے لیے مختص رقم انتہائی محدود رکھی گئی ہے تاکہ انٹرنیشنل مانیٹری فنڈ (آئی ایم ایف) کے سخت ترین پروگرام کے اہداف کو پورا کیا جا سکے۔ اسی بنیاد پر اپوزیشن کا مؤقف درست ثابت ہوتا ہے کہ اس بجٹ میں عوامی ریلیف کی کوئی گنجائش ہی نہیں چھوڑی گئی۔ سیاسی مبصرین کے مطابق، پی ٹی آئی اس بجٹ بحث کو محض پارلیمان کے اندر عددی بحث تک محدود نہیں رکھے گی، بلکہ اسے سڑکوں اور عوامی فورمز پر لے جائے گی تاکہ ٹیکس انصاف، آئی ایم ایف کی شرائط اور حکومت کے سیاسی جواز پر کھل کر بات کی جا سکے۔ اس بجٹ کے خلاف اپوزیشن کی دیگر جماعتیں بھی متحرک نظر آتی ہیں، اور معاشی معاملات پر مولانا فضل الرحمن کا بجٹ پر شدید تنقید کرنا اس بات کا واضح ثبوت ہے کہ بجٹ دستاویز پر ملک بھر میں شدید اضطراب پایا جاتا ہے۔

SPONSORED — Dost Marketing

متعلقہ خبریں

تبصرہ کریں