اسٹیٹ بینک کا پالیسی ریٹ ساڑھے گیارہ فیصد برقرار رکھنے کا فیصلہ

کراچی (نمائندہ خصوصی)۔ اسٹیٹ بینک آف پاکستان کی زری پالیسی کمیٹی نے آج ہونے والے اپنے اہم ترین اجلاس میں ملکی پالیسی ریٹ کو 11.5 فیصد پر برقرار رکھنے کا فیصلہ کیا ہے۔ کمیٹی کے مطابق، اگرچہ حالیہ جغرافیائی و سیاسی منظرنامے میں مثبت تبدیلیاں رونما ہوئی ہیں اور عالمی منڈی میں خام تیل کی قیمتوں میں نمایاں کمی دیکھی گئی ہے، تاہم یہ قیمتیں اب بھی تنازع سے قبل کے دور کے مقابلے میں بلند سطح پر برقرار ہیں۔ اس کے ساتھ ہی، کمیٹی کے گذشتہ اجلاس میں کی جانے والی پیشگوئیوں کے عین مطابق، مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کے منفی اثرات اب ملکی اقتصادی اشاریوں میں بھی واضح طور پر نمایاں ہونے لگے ہیں۔ اپریل اور مئی کے مہینوں میں عمومی مہنگائی کی شرح بڑھ کر دو ہندسوں میں داخل ہو گئی ہے (جس کی تفصیلات بی بی سی اردو پر بھی دیکھی جا سکتی ہیں)، جبکہ قوزی مہنگائی (Core Inflation) میں بھی مسلسل اضافہ ریکارڈ کیا جا رہا ہے۔ دوسری جانب، بلند قیمتوں، حکومت کی جانب سے کیے جانے والے کفایت شعاری کے اقدامات اور معاشی غیر یقینی کی وجہ سے تجارتی و پیداواری سرگرمیوں میں اعتدال یا سست روی کے ابتدائی آثار دکھائی دینے لگے ہیں، جب کہ اس دوران بیرونی کھاتے کا دباؤ کسی حد تک معتدل رہا ہے۔ ان ابھرتے ہوئے خطرات اور معاشی منظرنامے کا جامع جائزہ لیتے ہوئے زری پالیسی کمیٹی نے رائے دی ہے کہ گذشتہ اجلاس سے اب تک ملکی میکرو اکنامک حالات میں کوئی بڑی تبدیلی نہیں آئی، اور موجودہ حالات میں یہ زری پالیسی موقف وسط مدت کے دوران مہنگائی کو 5 سے 7 فیصد کے طے شدہ ہدف کے اندر لانے کے لیے بالکل موزوں ہے۔
کُلی معاشی پیش رفت اور آئی ایم ایف پروگرام
کمیٹی نے اجلاس کے دوران چند انتہائی اہم معاشی پیش رفتوں کو بھی تفصیلی طور پر زیر بحث لایا۔ سب سے پہلے، پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس (دفتر شماریات) نے مالی سال 2026ء کے لیے ملک کی حقیقی جی ڈی پی کی عبوری شرحِ نمو 3.7 فیصد رہنے کا تخمینہ لگایا ہے۔ دوسری اہم پیش رفت صارفین اور کاروباری برادری کے اعتماد کے حوالے سے ہے، جہاں تازہ ترین سروے رپورٹس کے مطابق معاشی اعتماد میں معمولی بہتری دیکھنے میں آئی ہے اور مستقبل میں مہنگائی سے متعلق ان کی توقعات میں بھی لچک پیدا ہوئی ہے۔ تیسری بڑی کامیابی بین الاقوامی مالیاتی فنڈ (آئی ایم ایف) کے توسیعی فنڈ پروگرام (EEF) اور لچک و پائیداری کی سہولت (RSF) کے جائزوں کی کامیاب تکمیل ہے، جس کے بعد وصول ہونے والی قسطوں کی بدولت 5 جون 2026ء تک اسٹیٹ بینک آف پاکستان کے غیر ملکی زرمبادلہ کے ذخائر بڑھ کر 17.2 ارب ڈالر کی سطح تک پہنچ گئے ہیں۔ چوتھی پیش رفت مالیاتی نظم و ضبط سے متعلق ہے، جہاں حکومتِ پاکستان نے مالی سال 26ء کے لیے پرائمری بیلنس کا سرپلس جی ڈی پی کے 2.5 فیصد تک رہنے کا تخمینہ ظاہر کیا ہے، اور مالی سال 27ء کے لیے اس سرپلس کو جی ڈی پی کے 2.0 فیصد تک لانے کا ہدف مقرر کیا ہے۔ آخری اہم پیش رفت کے طور پر مشرقِ وسطیٰ کے طویل تنازع کے اثرات عالمی سطح پر مختلف معیشتوں پر پڑنا شروع ہو گئے ہیں، جس کے نتیجے میں متعدد دنیا کے مرکزی بینکوں نے اپنے پالیسی ریٹس میں بتدریج اضافہ کرنا شروع کر دیا ہے۔
کُلی معاشی استحکام اور ساختی اصلاحات کی ضرورت
زری پالیسی کمیٹی نے اس بات پر بھی گہرے اطمینان کا اظہار کیا کہ مشرقِ وسطیٰ کے طویل اور مسلسل تنازع کے باوجود، جہاں پاکستان کی ثالثی کے باعث امریکا اور ایران کے درمیان جنگ بندی معاہدہ طے پایا، اسٹیٹ بینک کی بروقت اور فعال زری پالیسی اور حکومت کی مسلسل مالیاتی یکجائی (Fiscal Consolidation) پر مبنی جامع معاشی حکمتِ عمل نے ملک میں کُلی معاشی استحکام کو برقرار رکھنے میں انتہائی اہم کردار ادا کیا ہے۔ کمیٹی نے ملک میں قیمتوں کے استحکام کے اپنے حتمی ہدف کو حاصل کرنے کے پُرعزم عزم کا اعادہ کیا اور واضح کیا کہ وہ مستقبل میں موصول ہونے والے تمام تر اقتصادی اعداد و شمار اور علاقائی و عالمی سطح پر بدلتی ہوئی صورتِ حال کی کڑی نگرانی کرتی رہے گی۔ اس کے ساتھ ہی، کمیٹی نے ایک بار پھر زور دے کر کہا کہ ملکی معیشت کو بیرونی رسدی دھچکوں کے خلاف مضبوط بنانے، پیداواری صلاحیت کو فروغ دینے اور پائیدار معاشی نمو کے لیے موزوں ماحول کی فراہمی کے لیے ملک میں ساختی اصلاحات (Structural Reforms) کے عمل کو تیز کرنا ناگزیر ہو چکا ہے۔
حقیقی شعبہ اور معاشی ترقی کی رفتار
پاکستان بیورو آف سٹیٹسٹکس کی جانب سے جاری کردہ عبوری اعداد و شمار کے مطابق، مالی سال 2026ء کے دوران حقیقی جی ڈی پی کی شرحِ نمو 3.7 فیصد رہی، جو کہ مالی سال 2025ء میں ریکارڈ کی گئی 3.2 فیصد نمو کے مقابلے میں بہتر ہے۔ زری پالیسی کمیٹی کا ماننا ہے کہ اگرچہ یہ نمو گزشتہ سال سے بہتر ہے، تاہم یہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع اور ملکی سطح پر کیے گئے کفایت شعاری کے سخت اقدامات کے اثرات کو عیاں کرتی ہے، کیونکہ تنازع کے آغاز سے قبل معاشی نمو کی رفتار اس سے کہیں زیادہ تیز ہونے کی توقع تھی۔ مالی سال 26ء کے دوران خدمات (Services) اور صنعتی شعبوں نے معاشی ترقی میں کلیدی کردار ادا کیا، جبکہ زرعی شعبے کی کارکردگی بھی نمایاں رہی۔ جولائی تا مارچ کے عرصے میں بڑے پیمانے کی صنعتوں (LSM) کی پیداوار میں 6.5 فیصد کی شاندار نمو دیکھا گیا، تاہم چوتھی سہ ماہی میں اس رفتار میں معتدل کمی کی توقع ہے، جس کا اشارہ حال ہی میں موصول ہونے والے دیگر معاشی اشاریوں سے ملتا ہے۔ کمیٹی نے مستقبل کا منظرنامہ پیش کرتے ہوئے کہا کہ مشرقِ وسطیٰ کا تنازع آنے والے مہینوں میں بھی صنعتی اور خدماتی سرگرمیوں کو محدود کر سکتا ہے، جبکہ خریف کی فصلوں سے متعلق ابتدائی اشارے بتاتے ہیں کہ موسمی چیلنجز کی وجہ سے زرعی شعبے کی نمو کچھ دباؤ کا شکار رہ سکتی ہے، جس کا اثر مالی سال 27ء کی مجموعی معاشی کارکردگی پر پڑنے کا امکان ہے۔
بیرونی شعبہ اور زرمبادلہ کے ذخائر
ملک کے بیرونی کھاتے کا جائزہ لیا جائے تو معلوم ہوتا ہے کہ اپریل کے مہینے میں جاری کھاتے (Current Account) کو 0.3 ارب ڈالر کے خسارے کا سامنا کرنا پڑا، جس کے نتیجے میں جولائی تا اپریل کے مجموعی دس مہینوں کے دوران یہ خسارہ 0.2 ارب ڈالر تک جا پہنچا۔ اس خسارے کی بنیادی وجہ اپریل کے مہینے میں توانائی کی درآمدات میں ہونے والا غیر معمولی اضافہ اور اس کے نتیجے میں تجارتی خسارے کی وسعت تھی، جس نے بیرونِ ملک مقیم پاکستانیوں کی طرف سے بھیجی جانے والی ریکارڈ ترسیلاتِ زر (Remittances) کے مثبت اثرات کو دبا دیا۔ تاہم، مئی کے مہینے میں ترسیلاتِ زر کی شاندار وصولی کے بعد توقع ظاہر کی جا رہی ہے کہ عالمی سطح پر پائے جانے والے مشکل معاشی حالات کے باوجود، مالی سال 26ء کا مجموعی جاری کھاتے کا خسارہ اسٹیٹ بینک کے سابقہ تخمینوں کی نچلی حد کے اندر ہی محدود رہے گا۔ فنانسنگ کے محاذ پر، سرکاری بیرونی ذرائع سے حاصل ہونے والی رقوم نے واجب الادا غیر ملکی قرضوں کی ادائیگیوں کو آسان بنانے میں کلیدی کردار ادا کیا۔ ان مثبت حالات کے باعث اسٹیٹ بینک کو اوپن مارکیٹ سے زرمبادلہ کی خریداری اور اپنے ذخائر کو مستحکم کرنے کا موقع ملا، جو جون 2026ء کے اختتام تک بڑھ کر 18 ارب ڈالر تک پہنچنے کی قوی امید ہے۔ کمیٹی کے مطابق، اگرچہ مالی سال 27ء میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ قدرے بڑھ سکتا ہے، تاہم بروقت سرکاری رقوم کی وصولی اور مارکیٹ آپریشنز کے باعث زرمبادلہ ذخائر میں اضافے کا سلسلہ برقرار رہے گا۔
مالیاتی شعبہ اور ٹیکس اصلاحات
مالی سال 2026ء کے پہلے نو مہینوں (جولائی تا مارچ) کے مالیاتی اعداد و شمار ظاہر کرتے ہیں کہ حکومت کی جانب سے مالیاتی یکجائی اور اخراجات کو کنٹرول کرنے کی کوششیں درست سمت میں آگے بڑھ رہی ہیں۔ اگرچہ گزشتہ سال کے مقابلے میں ٹیکس وصولیوں کی شرح کچھ دباؤ کا شکار رہی ہے، جس کے باعث فیڈرل بورڈ آف ریونیو (FBR) نے مالی سال 26ء کا اپنا مجموعی ٹیکس ہدف کم کر کے تقریباً 13 ٹریلین (13,000 ارب) روپے مقرر کیا ہے، تاہم حکومت کو پورا یقین ہے کہ وہ سخت اخراجاتی نظم و ضبط اور آٹو انڈسٹری سمیت دیگر شعبوں کے لیے وضع کردہ نئی بجٹ پالیسی کے ذریعے جی ڈی پی کا 2.5 فیصد پرائمری سرپلس حاصل کر لے گی۔ اگلے مالی سال 2027ء کے لیے بھی حکومت نے جی ڈی پی کے 2.0 فیصد پرائمری سرپلس کا ہدف مقرر کیا ہے۔ زری پالیسی کمیٹی نے اس موقع پر مالیاتی ڈسپلن کو برقرار رکھنے پر گہرا زور دیا اور معیشت کی پائیداری کے لیے ٹیکس نیٹ کو بڑھانے اور سرکاری ملکیتی اداروں (PSEs) کی اصلاحات سمیت دیگر ساختی اقدامات کو فوری طور پر نافذ کرنے کی ضرورت پر روشنی ڈالی۔
زر، بینکنگ کریڈٹ اور نجی شعبے کے قرضے
زری پالیسی کمیٹی کے پچھلے اجلاس سے لے کر 29 مئی 2026ء تک کے عبوری عرصے کے دوران، زرِ وسیع (M2) کی سالانہ نمو میں کچھ کمی دیکھی گئی اور یہ 14.5 فیصد سے کم ہو کر 14.3 فیصد پر آ گئی۔ اس کمی کی بنیادی وجہ خالص ملکی اثاثوں (NDA) میں کمی ہے، جس سے ظاہر ہوتا ہے کہ حکومت نے بجٹ کے لیے بینکوں سے حاصل کیے جانے والے خالص قرضوں کو کم کیا ہے۔ دوسری طرف، کاروباری اداروں کے لیے ورکنگ کیپیٹل، طویل مدتی سرمایہ کاری اور صارفین کے قرضوں کی مانگ میں افزائش کے باعث نجی شعبے کے قرضوں میں تقریباً 13 فیصد اضافہ ہوا۔ اس کے ساتھ ساتھ بیرونی پوزیشن میں بہتری خالص بیرونی اثاثوں میں اضافے پر منتج ہوئی۔ واجبات کے حوالے سے، زیرِ گردش کرنسی کی نمو میں اضافہ ہوا، جو عید سے متعلق رقوم نکلوانے کے موسمی اثر کو جزواً ظاہر کرتا ہے، اس کے نتیجے میں کرنسی اور ڈپازٹ کا باہمی تناسب بڑھ گیا۔
مہنگائی کا منظرنامہ اور معیشت کو درپیش بیرونی خطرات
ملک میں عمومی مہنگائی کی شرح میں حالیہ مہینوں کے دوران تیزی سے اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ مارچ میں ریکارڈ کی گئی 7.3 فیصد کی مہنگائی کے مقابلے میں اپریل میں یہ شرح بڑھ کر 10.9 فیصد اور مئی میں 11.7 فیصد کی سالانہ سطح تک پہنچ گئی۔ اس اضافے میں پست بنیاد کے اثر (Low Base Effect) کے علاوہ مشرقِ وسطیٰ کے تنازع کی وجہ سے عالمی سطح پر پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں میں ہونے والا اضافہ ایک اہم محرک رہا، جس نے ملک کے اندر نقل و حمل اور پیداواری لاگت کو بڑھا کر بالواسطہ اور بلاواسطہ طور پر مہنگائی کو ہوا دی۔ اسی لاگتی دباؤ کی وجہ سے قوزی مہنگائی بھی اپریل کی 8.2 فیصد سے بڑھ کر مئی میں 8.7 فیصد ہو گئی۔ مزید برآں، گندم اور آٹے کی قیمتوں میں اچانک اور غیر متوقع اضافے نے غذائی افراطِ زر کو مزید شدید بنا دیا۔ زری پالیسی کمیٹی کا تفصیلی تجزیہ ظاہر کرتا ہے کہ مہنگائی کا یہ دہرا ہندسہ اگلے چند ماہ تک برقرار رہ سکتا ہے، جس کے بعد اس میں بتدریج کمی متوقع ہے۔ تاہم، یہ مثبت منظرنامہ ابھی بھی کئی بڑے خطرات سے مشروط ہے، جن میں جغرافیائی و سیاسی کشیدگی، پیٹرول کی عالمی قیمتوں کا ملکی مارکیٹ پر اثر، گیس اور بجلی کے نرخوں میں متوقع اضافہ، مالیاتی خسارے کی صورتِ حال اور موسمیاتی تبدیلیوں کے باعث فصلوں کی ممکنہ خرابی شامل ہے۔
