وزیراعظم اعلیٰ تعلیم کیلئے 72 ارب مختص کرنے پر نظرثانی کریں

تعلیمی بجٹ بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے850 ارب کے مساوی ہونا چاہیے
وفاقی حکومت یورپ کی طرح نئی نسل اور انسانی وسائل پر سرمایہ کاری کرے
اسلام آباد( محمد خالد) مرکزی صدر نیشنل ایسوسی ایشن آف پرائیویٹ سکولز، چیئرمین کیرئیر سکول اینڈ گرلز کالج چوہدری محمد عبیداللہ نے وزیراعظم میاں شہبازشریف سے اعلیٰ تعلیم کے لیے مختص کئے گئے 72 ارب روپے پر نظرثانی کرنے کا مطالبہ کیا، ان کا کہنا تھا کہ تعلیم قوموں کی زندگی بناتی اور نکھارتی ہے جس کے لیے مہذب اقوام تعلیمی بجٹ کو قوم کی توقعات کے مطابق رکھتی ہیں۔ وفد سے گفتگو میں چوہدری محمد عبیداللہ نے بتایا کہ وفاقی حکومت کی طرف سے بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے لیے 850 ارب اور تعلیمی بجٹ کو مختصر رکھنا دانش مندی نہیں، وزیر اعظم تعلیمی بجٹ کو بے نظیر انکم سپورٹ پروگرام کے850 ارب کے مساوی کرنے کا اعلان کریں۔ انہوں نے بتایا کہ آج بھی وطن عزیز میں پونے تین کروڑ بچے سکول ایجوکیشن سے محروم ہیں، ایک کروڑ گریجویٹ روزگار پانے کا خواب دیکھ رہے ہیں۔ چوہدری محمد عبیداللہ نے وزیراعظم میاں شہبازشریف اور وفاقی وزیر تعلیم ڈاکٹر مقبول صدیقی سے درخواست کی کہ وہ تعلیمی ترقی کے لیے پبلک وپرائیویٹ سیکٹر کے اشتراک کا چراغ روشن کریں تاکہ پرائیوٹ سیکٹر تعلیمی خدمت کے ساتھ خود کو ٹیکسوں کے جال سے بچا سکے۔ مزید کہا کہ وفاقی حکومت تعلیم اور صحت جیسے بنیادی شعبوں کو مسلسل نظر انداز نہ کرے، اعلیٰ تعلیم کے لیے 46 ارب اور صحت کے لیے 25 ارب 10 کروڑ روپے مختص کرنا اونٹ کے منہ میں زیرہ کے مترادف ہے۔ہمیں بھی ترقی یافتہ اقوام کی طرح نئی نسل اور انسانی وسائل پر سرمایہ کاری کرنی چاہیے
