پاکستان میں ٹیکس نیٹ کی محدود وسعت: معیشت کو دستاویزی بنانے کے دعوے اور حقیقت

لاہور (دوست نیوز رپورٹ) — پاکستان میں برسوں سے ٹیکس اصلاحات اور معیشت کو دستاویزی بنانے کے بلند و بانگ دعوے تو کیے جاتے رہے ہیں، لیکن اس کے باوجود ٹیکس نیٹ کی محدود وسعت آج بھی ایک سنگین چیلنج بنی ہوئی ہے۔ لاہور چیمبر آف کامرس اینڈ انڈسٹری کی سینئر ایگزیکٹو کمیٹی کے ممبر، علی عمران آصف نے اس حقیقت پر روشنی ڈالتے ہوئے کہا کہ ہر دور میں حکومتیں ریونیو اہداف کے حصول کے لیے نئے ٹیکس دہندگان کو شامل کرنے کی بجائے پہلے سے رجسٹرڈ اور نظر آنے والے ٹیکس دہندگان پر اضافی بوجھ ڈالنے کو ترجیح دیتی ہیں۔
دستاویزی معیشت کے لیے پالیسی تسلسل
ان کا کہنا تھا کہ معیشت کو حقیقی معنوں میں دستاویزی بنانے کے لیے مضبوط ادارہ جاتی صلاحیت، پختہ سیاسی عزم اور پالیسیوں میں طویل المدتی تسلسل ناگزیر ہے، مگر بدقسمتی سے ہمارے ہاں ان تمام بنیادی عناصر کا فقدان ہے۔ ٹیکس کی شرح میں اضافہ، سرچارجز کا نفاذ اور آڈٹ کی سختی جیسے اقدامات کو محصولات کے اہداف پورے کرنے کے لیے نسبتاً آسان حل سمجھا جاتا رہا ہے۔ یہی وجہ ہے کہ ٹیکس نظام میں بنیادی اور جامع اصلاحات کے بجائے ہمیشہ عارضی اور ہنگامی اقدامات پر انحصار کیا جاتا ہے۔
بالواسطہ ٹیکسوں کا بوجھ
علی عمران آصف نے مزید نشاندہی کی کہ یہ محدود اور غیر متوازن ٹیکس بیس ریاست کی مالیاتی صلاحیت کو بُری طرح کمزور کرتا ہے۔ اس کے نتیجے میں ملک قرضوں پر انحصار کرنے پر مجبور ہوتا ہے اور حکومت کو اپنی آمدن کے لیے بالواسطہ ٹیکسوں اور پیٹرولیم لیویز کا سہارا لینا پڑتا ہے۔ یہ صورتحال بالآخر مہنگائی کے دباؤ میں اضافے کا باعث بنتی ہے، جس کا سب سے زیادہ خمیازہ تنخواہ دار طبقے اور کم آمدنی والے افراد کو بھگتنا پڑتا ہے۔
انہوں نے زور دیا کہ اگرچہ بعض مخصوص شعبوں کے لیے تھرڈ شیڈول کے دائرہ کار میں توسیع کا فوری جواز موجود ہو سکتا ہے، تاہم اصل ضرورت ایک ایسے جامع اور منصفانہ ٹیکس نظام کی تشکیل ہے جو وسیع پیمانے پر جاری معاشی سرگرمیوں کو رسمی معیشت کا حصہ بنا سکے۔ جب تک ٹیکس کی تعمیل کو کاروباری نقطہ نظر سے فائدہ مند نہیں بنایا جاتا اور غیر رسمی معیشت کو محدود نہیں کیا جاتا، ریونیو اہداف کا پائیدار حصول ایک خواب ہی رہے گا۔
